۔۔31 فرعون حکمران ۔ ۔۔۔۔ خاور نیازی

فرعون بارے یہ تاثر عام ہے کہ یہ شاید کسی مخصوص ظالم حکمران کا نام ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے ۔دراصل جیسے زمانہء قدیم میں روس کے بادشاہ کو ''زار‘‘ ،ایرانی بادشاہوں کو ''کسریٰ‘‘، چینی بادشاہوں کو ''خاقان‘‘ اور روم کے بادشاہ کو'' قیصر‘‘ کہا کرتے تھے ،عین اسی طرح مصری بادشاہوں کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا۔
انہیں فرعون کیوں کہا جاتا تھا؟فرعون کو اہل مصر ''فارا اوہ‘‘کہتے تھے، مصری زبان میں ''فارا‘‘ (pharaoh) محل کو کہتے ہیں اور''اوہ‘‘کے معنی بلند ی یا اونچائی کے ہیں ۔ گویا اس کے معنی ''عظیم محل‘‘یا بادشاہ کے ہیں اسی مناسبت سے زمانہ قدیم میں مصر کے بادشاہوں کے لئے فرعون کا لقب روایت پا گیا ۔ قدیم مصریوں کا یہ ماننا تھا کہ تمام فرعون مصری دیوتاؤں کی اولاد ہیں ۔
قرآن پاک میں فرعون کا ذکر بنی اسرائیل کے واقعے میں آیا ہے ۔فرعون کا تکبر، رعونت اور سرکشی تاریخ میں بدنام ہے ۔حضرت موسیٰ ؑ نے جب فرعون کو اپنی نبوت کی نشانیاں دکھائیں تو اس نے نہایت ڈھٹائی سے انہیں ماننے سے انکار کر دیا تھا۔پھر جب بنی اسرائیل کو اللہ نے فرعون کے تسلط سے آزادی دلائی اور حضرت موسیٰ ؑ کی سرپرستی میں بنی اسرائیل نے جزیرہ نمائے سینا کی طرف پیش قدمی کی تو فرعون نے ان کا پیچھا کیا اور پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوا ۔وہ اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکا۔
3000سال قبل مسیح سے شروع ہو کر سکندر اعظم کے عہد تک31کے لگ بھگ فرعون مصر پر حکمرانی کرتے رہے ہیں ۔سب سے آخر ی خاندان فارس کی شہنشائی کا تھا جو 332قبل مسیح میں سکندر اعظم کے ہاتھوں مفتوح ہوا۔ حضرت یوسف ؑ کے وقت کا فرعون ہیکسوس (مصعب بن ریان ) عمالقہ کے خاندان سے تھا جو دراصل عرب ہی کی ایک شاخ ہے ۔یہ بعد میں آپ ؑ کے ساتھ مصر سے ہجرت کر کے انبیاء کی سرزمین پر چلے گئے تھے ۔یہ سرزمین تاریخی کتب میں جبرون ، مکفیلہ ،اور نابلس کے نام سے جانی جاتی ہے ،توریت میں یہ جگہ فرائیم کے نام سے درج ہے ۔جسے زمانہ قدیم میں شکیم کہتے تھے۔ یہ تمام علاقے فلسطین میں ہی واقع ہیں۔دریافت شدہ پتھر کے کتبوں کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے کا فرعون رعمیسس دوم (Ramesses) کا بیٹا منفتاح( Mineptah) تھا جس کا دور حکومت 1292 قبل مسیح سے شروع ہو کر 1225قبل مسیح پر ختم ہوتا ہے ۔
ایک مصری محقق احمد یوسف آفندی کے ایک مضمون کا خلاصہ ''قصص الانبیاء ‘‘میں عبدلوہاب نجار نے نقل کیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں،
'' یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ حضرت یوسف ؑ جب مصر میں داخل ہوئے تو یہ فراعنہ کے سولہویں خاندان کا زمانہ تھا اور اس فرعون کا نام ابابی الاول تھا ۔انتقال کی معلومات عزیز مصر فوطیفار کے مقبرے میں دریافت ہونے والے پتھر کتبے سے ملی ‘‘۔ وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل حضرت یوسف ؑ سے تقریباََ27سال بعد مصر میں داخل ہوئے جس کاذکر قرآن پاک میں کیا گیا ہے۔جس فرعون نے بنی اسرائیل کو مصائب میں مبتلا کیا وہ رعمیسس دوم تھا ۔یہ مصر کے حکمرانوں کا انیسواں خاندان تھا۔حضرت موسیٰ ؑ اس کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے ۔اور اسی کی آغوش میں پرورش پائی۔
رعمیسس دوم شاہ سیتی کا بیٹا تھا ۔اس نے 67 سال حکومت کی ۔اس کی عمر 110 سال تھی ۔ اس نے اپنے بیٹے منفتاح Mine ptah کو امور مملکت سونپ دئیے ۔ منفتاح اس کی 150 اولادوں میں سے تیرہویں نمبر پر تھا۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق اپنی ایک تحقیق میں لکھتے ہیں ، ''مصر میں کھدائیوں کا آغاز انیسویں صدی کے اوآخر میں ہوا اور فرعون کی لاش کی تصدیق 1907 میں ایک انگریز سر گرافٹن اسمتھ نے کرائی ‘‘۔ مزید وضاحت مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی کے اس تجزیے سے ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں ،
''برٹانیکا کے مضمون میں ممی کا ذکر ہے کہ 1907 میں ایک انگریز ماہر علم و تشریح سر گرافٹن ایلیٹ اسمتھ نے ممیوں کو کھول کر دیکھا،ان کے حنوط کی تحقیق شروع کی اور 44 ممیوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ گولڈنگ لکھتا ہے کہ 1907میں اسمتھ کو منفقاح کی لاش ملی تھی۔ جب یہ پٹیاں کھولی گئیں تو یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ اسکے جسم پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی تھی جو کسی اور ممی کے جسم پر نہیں تھی‘‘۔گولڈنگ یہ بات بھی بیان کرتا ہے کہ یہ فرعون بحیرہ قلزم میں غرق ہوا تھا۔ آگے چل کر گولڈنگ لکھتا ہے کہ جزیرہ نما سینا کے مغربی ساحل پر ایک پہاڑی ہے جسے مقامی لوگ 'جبل فرعون‘کہتے ہیں ۔اس پہاڑی کے نیچے ایک غار میں نہایت گرم پانی کاایک چشمہ ہے جسے لوگ ''حمام فرعون‘‘کہتے ہیں ۔سینہ بہ سینہ روایت کی بنا ء پر یہ بھی کہتے ہیں کہ اسی جگہ پر فرعون کی لاش ملی تھی‘‘۔
قرآن کریم نے تو 1500سال پہلے ہی اس واقعہ کے بارے بتلا دیا تھا جسکی تائید و توثیق آج کا محقق کر رہاہے۔جب فرعون غرق ہو گیا تو لوگوں کو اسکی موت کا یقین نہ آیا تب اللہ نے سمندر کو حکم دیا اسنے اسکی لاش کو خشکی پر پھینک دیا ۔پھر سب نے اسکی لاش کا مشاہدہ کیا۔آج بھی یہ لاش مصر کے عجائب گھر میں محفوظ ہے ۔