زندگی میں تبدیلی کیلئے خود کو بدلیں .... قاسم علی شاہ

سال 2020ختم ہو چکاہے ۔سر جھکائے وہ مجھ سے ایک سوال پوچھ رہا تھا ،لیکن میرے خیال میں یہ سوال صرف اس کا نہیں تھا بلکہ یہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کا سوال تھا کہ ہم نئے سال کی آمد پر عہد و پیماں کرتے ہیں ،ارادے باندھتے ہیں اور بے شمار خواب دیکھتے ہیں لیکن وہ پورے کیوں نہیں ہوتے ؟

میرا جواب تھاـ:
’’95فی صد لوگ ایسے ہیں جو نئے سال کی پلاننگ تو کرلیتے ہیں لیکن 15جنوری کے بعدان کی پلاننگ ختم ہوجاتی ہے۔‘‘
جب بھی نئے سال کا آغاز ہوتا ہے تو لوگ اپنے ساتھ کچھ وعدے کرتے ہیں کہ ہم نے نئے سال کے بدلنے پر خود کو بدلنا ہے اوراسی تبدیلی کو لانے کے لیے وہ نئے نئے پلان بناتے ہیں ۔سب سے پہلے اس بات کا سمجھنا ضرو ری ہے کہ پلاننگ کامطلب کیا ہے؟پلاننگ کا مطلب ہے :’’وقت اور وسائل کو بہترین انداز میں استعمال کرنا‘‘اور یہ بات بھی یادرکھیں کہ پلاننگ ہمیشہ بڑے کاموں کی نہیں بلکہ چھوٹے کاموں کی ہوتی ہے۔
پلاننگ کے سلسلے میں عام طورپر یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ اس کا مقصد صرف پیسے کمانا ہے ۔درحقیقت یہ صرف ایک پہلو ہے ،جبکہ زندگی بدلنے اور کامیاب ہونے کے لیے صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام پہلوئوں کو عمل میں لانا ضروری ہوتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ بہت سارے لوگ جو محنتی ، قابل اورخود کو بدلنے کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجو د بھی ان کی پلاننگ زیادہ عرصہ نہیں چل سکتی ، اس کی وجہ کیا ہے؟اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں جو کہ ذیل میں پیش کی جارہی ہیں۔
مقاصد واضح نہیں ہوتے
پلاننگ زیادہ عرصہ نہ چلنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے جن اہداف کو حاصل کرنے کا ارادہ کیا ہوتا ہے ،وہ واضح نہیں ہوتے۔مثال کے طورپر کسی انسان کو معلوم ہی نہ ہو کہ اس نے جانا کہاں ہے تو وہ اپنا سفر کسی بھی سمت میں شروع کرلے ، منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ یہ اضطراب کی حالت ہے جو کہ ایک بدترین ذہنی کیفیت ہے ۔اس حالت میں انسان کسی بھی فیصلہ کن موڑ پر نہیں پہنچ سکتا۔انسان کا ذہن ایک پاور ہائوس کی مانند ہے اس کی توانائی اس وقت درست اندا ز میں کام کرتی ہے جب اس کے پاس واضح اہداف ہوں ، لیکن اگر و ہ اہداف واضح نہ ہوں تو پھر کبھی بھی وہ انہیں حاصل نہیں کرسکے گا۔
تیاری نہ ہونا
پلاننگ کی ناکامی کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ جس منزل کو پانا چاہتے ہیں اس کو حاصل کرنے کے لیے ان کی تیاری نہیں ہوتی۔وہ سستے ہوتے ہیں لیکن مہنگا بکنا چاہتے ہیں اور پھر جب انہیں کامیابی نہیں ملتی تو وہ سارا کچھ اپنی قسمت پر ڈال دیتے ہیں اور مایوس ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔بڑی کامیابی کے لیے اپنی ذات کی ان جہتوں کو دیکھنا ہوگا جہاں کمزوری ہے اور پھر اس کے بعد ان پر محنت کرنا ہوگی۔آپ کھیل کی مثال لے لیجیے ۔ایک ایسا کھلاڑی جس نے اچھا کھیلنے کا بھرپور عزم کیا ہواہے۔اس کا خیال ہے کہ ایک مرتبہ اگرمجھے میدان میں اترنے کا موقع مل جائے تو ایسی پرفارمنس دوں گا کہ دنیا یادرکھے گی لیکن اس نے نیٹ پریکٹس میں اپنا پسینہ نہیں بہا یاتو اس کا عزم کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو،وہ صرف اس کے بل پر اچھا کھیل نہیں کھیل سکے گا ۔
قوتِ ارادی کی کمی
پلاننگ میں کامیابی کے لیے تیسری اہم چیز قوت ارادی (Will Power) ہے ۔قوت ارادی کا مطلب ہے کہ کوئی انسان اپنے قول کا کتنا پکا ہے اور وہ اپنے بولے ہوئے الفاظ پر کس حدتک کاربند ہے ۔پلاننگ کامیاب بنانے کے لیے قوتِ ارادی کا بہت بڑ اعمل دخل ہے ۔ہم میں سے اکثر لوگوں نے بہت سارے آدھے کنویں کھودکر چھوڑ دئیے ہوتے ہیں ۔ قوتِ ارادی کی کمی کی وجہ سے ایک کام میں کچھ دن محنت کرنے کے بعد اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے ،پھر دوسرا شروع کرلیا جاتا ہے اور اس کو بھی چھوڑ کرتیسرا ،پھر چوتھا اور پانچواں ، اور کامیابی ایک میں بھی نہیں ملتی، حالانکہ اگر ایک ہی کنویں میں مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کی جائے تو خزانہ ہاتھ لگ سکتا ہے ۔
قوتِ ارادی انسان کو استقامت کی دولت سے نوازتی ہے اور استقامت کا دوسرا نام کرامت ہے ۔جو بھی انسان لگا رہے تو اس کی محنت ضرور رنگ لاتی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ قوتِ ارادی کا تعلق عمر ، پیشے یا قابلیت کے ساتھ نہیں ، بلکہ یہ ایک آفاقی اصول ہے اور جو بھی بندہ اس پر عمل کرلے تووہ کامیابی پالیتا ہے۔
انسان کی صحبت
انسان کی زندگی کامیاب ہے یا ناکام ، اس میں ایک بڑ اکردار ان لوگوں کا ہوتا ہے جن کے ساتھ وہ اٹھتا بیٹھتا ہے ۔خوش قسمتی سے اگر اچھے لوگ مل جائیں تو ان کی بدولت انسان اپنی زندگی میں بہت ساری مثبت تبدیلیاں لے آتا ہے لیکن اگر وہ لوگ ایسے ہوں جو منفی او ر منجمد خیالات کے حامل ہوں تو ان کی وجہ سے انسان کے خیالات بھی انجماد کا شکار ہوجاتے ہیں۔وہ پھر بڑا نہیں سوچ سکتا۔دوستوں کی صحبت اس پر اثرانداز ہوتی ہے اور وہ زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔اس لیے اس بات کاخیال رکھنا ضرور ی ہے کہ میں کن لوگوں کے درمیان بیٹھ رہا ہوں ۔اگرآپ کے دوست ایسے ہیں جو آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور ان کی وجہ سے آپ کے خیالات بھی منجمد ہورہے ہیں تو پھردیکھیں کہ ان افراد کو چھوڑا جاسکتا ہے یا نہیں ؟اگر چھوڑنا ممکن ہو تو چھوڑدیں اور اگر ناممکن ہو تو ان کے ساتھ تعلق مدہم کردیں ، ان سے دِل نہ لگائیں کیونکہ اگروہ آپ کے جذبات پر حاوی ہوگئے تو وہ آپ کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔
تبدیلی :چھوٹے قدم سے
سٹیفن گوئس کہتا ہے :
’’بہت سارے لوگ ایسے ہیں جوایک دم سے خود کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ، لیکن ایسا ممکن نہیں ، کیونکہ یہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔‘‘
کوئی انسان کتنا کامیاب ہے یا ناکام ؟ اس کی عادات دیکھ لیجیے آپ کو معلوم ہوجائے گا۔دراصل یہ کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے اور اس پر قدم رکھنے کے بعد آگے کے مراحل آسان ہوجاتے ہیں۔المیہ ہے کہ ہم میںسے اکثر لوگ یکدم سے خود کو مکمل طورپر بدلناچاہتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ کل سے میں روزانہ دو گھنٹے کتاب پڑھوںگایا ایک گھنٹہ ورزش کروں گاوغیرہ وغیرہ ، لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے ۔عادات میں مثبت تبدیلی لانے کا آسان حل یہ ہے کہ چھوٹے قدم سے خود کوبدلنا شرو ع کرلیںاور روزانہ کی بنیاد پراس میں اضافہ کرتے جائیں ۔مثال کے طورپر آپ نے مطالعہ کی عادت بنانی ہے تو آغاز ایک صفحے سے کریں لیکن شرط یہ ہے کہ مستقل مزاجی کے ساتھ ہو ۔یہ مستقل مزاجی آپ کو وہ انرجی دے گی جس کی بدولت آپ کے لیے اپنے مطالعے کی مقدار کو بڑھانا آسان ہوجائے گا۔
غلطیوں سے سیکھیں
اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی عادت ڈالیں۔اپنا ناقد بننا بہت مشکل کام ہے ۔کہا جاتا ہے کہ خوش ہونا ہے تو تعریف سنو اور بہتر ہونا ہے تو تنقید سنو۔جو بھی انسان اپنی غلطیاں تسلیم کرکے انہیں ختم کرلیتا ہے تو پھر اس کی ترقی شروع ہوجاتی ہے۔پچھلے سال بھی آپ نے بہت سی غلطیاں کی ہوں گی۔ ان سب کی لسٹ بنا لیں ساتھ ہی یہ بھی لکھ لیں کہ آپ نے ان سب غلطیوں سے کیا سیکھا۔ آپ کے یہ اسباق انمول ہیں۔ ان کو پلے سے باندھ لیں۔ آئندہ زندگی میں یہ اسباق کام آئیں گے۔ تجربہ سب سے بڑا اُستاد ہے۔ اپنے تجربات سے فائدہ اٹھائیں ان کو ایک ڈائری میں لکھ لیں۔ ان اسباق کو آپ پچھلے سال کے اسباق کا عنوان بھی دے سکتے ہیں۔
نئے خواب سجائیں
نئے اور بڑے خواب سجائیں، خواب زندگی میں موٹیویشن (تحریک) لے کر آتے ہیں۔ خواب دیکھنے والے لوگ پرُ امید رہتے ہیں۔ ہر شعبے کے خواب بنائیں۔کاروبار، پڑھائی، تعلقات، گھر ، معاشرہ سب کے بارے میں خوا ب بنا ئیں اورانہیں لکھ لیں۔ خواب لکھ کر رکھے ہوں تو یاد رہتے ہیں اور یہ بھی یاد رکھیں آپ کے خواب اپنی تعبیر پانے کے لیے مندرجہ ذیل اصولوں کے محتاج ہوتے ہیں۔
پہلا اصول:ہر نئی چیز پہلے انسان کے ذہن میں بنتی ہے اس کے بعد وجود میں آتی ہے ۔انسان کے اندر کی دنیا جیسے ہوتی ہے اس کے مطابق باہر کی دنیا بنتی ہے اور قانون کشش (لاء آف اٹریکشن) کی تھیوری کے مطابق جو چیز انسان کے ذہن میں ہوتی ہے وہ اس کی ہتھیلی پر آجاتی ہے۔
دوسرااصول:اپنی ذات پر اور اپنے خوابوں پر یقین رکھیں ،کیونکہ اگر آپ کو اپنے خوابوں اور تصورات پر خود یقین نہ ہو تو وہ وجود میں بھی نہیں آسکتے۔
تیسرا اصول:آپ کے جو خواب ہیں ، اس کے متعلق ایسا محسوس کریں گویا وہ پورے ہوگئے ہیں ،یعنی آپ نے جو بننا ہے اس کیفیت کو ابھی سے اپنے اوپر طاری کرلیں۔اس کیفیت کو خود پر طاری کرلینے کے بعد جو سرور اور مستی آئے گی وہی اس چیز کو آپ کی طرف کھینچے گی اور آپ وہ بن پائیں گے۔
وقت کی قدر کیجیے
زندگی کی اصل قدر وقت کی قدر ہے ۔کمال کی بات یہ ہے کہ دنیا کے مؤ ثر ترین لوگ اپنے وقت کی بہت قدر کرتے ہیں ، کیونکہ ان میں یہ احساس دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے کہ وقت بہت کم ہے اور زندگی ختم ہونے والی ہے ۔گھڑی کی سوئی جوٹک ٹک کرکے وقت کا پہیہ چلار ہی ہے یہ دراصل کٹ کٹ ہے جو ہمیں پیغام دے رہی ہے کہ زندگی لمحہ بہ لمحہ کٹ (ختم) ہورہی ہے ۔اس لیے ا س سال کو اگر اپنی زندگی کا آخری سال اور اس کے ہر دِن کو آخری دنِ سمجھ کر گزاریں تو آپ بھی موثر ہوجائیں گے۔
زندگی بامقصدبنائیں
آئن سٹائن نے ایک لیکچر میں کہا تھا:’’اپنی زندگی کو ایک مقصد کے ساتھ باندھ دو تمہاری زندگی ضائع نہیں ہوگی ۔‘‘
بامقصد زندگی کے لیے ایک سال تو کیا انسان سو سال قربان کرنے کو تیار ہوجاتا ہے ۔اگر کوئی مقصد نہیں ہے تو زندگی سالوں او ر صدیوں کی بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔’’عظیم مقصد‘‘ کی بدولت انسان بھی عظیم بنتا ہے ۔ دنیا کی تاریخ میں آپ کووہ لوگ آج بھی زندہ نظر آئیں گے جنہوں نے عمرتو شاید 60،70سال کی گزاری لیکن اپنا مقصد حیات بہت عظیم بنایا۔
آپ بھی آنے والی نسلوں کے لیے مثالی شخصیت بن سکتے ہیں ، بشرطیکہ وقت کی قدر کریں ، اپنا مقصدحیات اونچا رکھیں اور اس کے مطابق زندگی جینے کا فیصلہ کرلیں۔