ذیابیطس کا پھیلاؤ کیوں؟ ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر سید فیصل عثمان

طبی ماہرین کے مطابق پھل اور سبزیاں کم کھانے والے 1کروڑ 20لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہو سکتے ہیں۔جبکہ دنیا بھر میں پہلے ہی 65کروڑ کے قریب اس کے مریض موجود ہیں۔ ہر دو میں سے ایک مریض کو بروقت علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ذیا بیطس کا مریض ہے۔اسے اس وقت پتہ چلتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کا ہر 12واںشخص ذیابیطس کا مریض ہو سکتا ہے ، لیکن اگر لوگ پھلوں کا مزید استعمال شروع کر دیں تو اس مرض کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے اسی لئے برطانوی ماہرین نے اپنے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کی مقدار بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔ اس سلسلے میں کئے گئے ایک سروے سے پتہ چلا کہ ذیا بیطس کے زیادہ تر مریضوں نے 75فیصد تک کم پھل اور سبزیاں استعمال کیں یعنی جسمانی ضرورت سے کہیں کم ۔ ماہرین کے مطابق پھل استعمال کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد خود کو ذیابیطس ٹو سے بچا سکتی ہے یا اسے کچھ وقت کے لئے ملتوی کر سکتی ہے۔شوگر کے مریض زیادہ آکسیڈنٹس اور حیاتین سے بھرپور موسمی پھلوں اور سبزیوں کو کھا سکتے ہیں جن میں کریلے، سٹرابری، ٹماٹر، ادرک ، مچھلی، گوبھی اور امرود بھی شامل ہیں۔ذیابیطس کے مریض کیوی، سیب، انار، آڑو،پپیتا، ناشپاتی، تربوز اور گریپ فروٹ بھی ایک حد تک کھا سکتے ہیں۔
بعض پھلوں اور سبزیوں میں بھی مٹھاس موجود ہوتی ہے۔ مثلاً پھلیوں کے ایک ٹن میں 5چمچ شوگر پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ پراسیسڈ کی گئی شوگر سے کافی مختلف ہوتی ہے، یہ شوگر فائبر، پانی، حیاتین اور آکسیڈنٹس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے پراسیسڈ کی گئی چینی کی طرح نقصان دہ نہیں ہوتی۔جب آپ پھلوں کی شوگر استعمال کرتے ہیں تو یہ خون میں فوری طور پر چینی کی طرح سے جذب نہیں ہوتی، بلکہ پانی اور دیگر کیمیکلز کی موجودگی اس کے اثرات کو کم کر دیتی ہے، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ''کوئی شخص چینی کھاتا ہے، تو اس کے جسم کو مزید چینی کی طلب ہوتی ہے ، مگر پھلوں کی صورت میں ایسا نہیں ہوتا۔
بہت سے لوگ پھل کھانے سے پہلے اس پر نمک چھڑک لیتے ہیں ،یہ لوگ بلڈ پریشر ، دل کے دورے، سٹروک اور گردے کی بیماریوں کو خود ہی دعوت دیتے ہیں۔ نمک کا کم سے کم استعمال ان بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
سروے میں 60فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ لازماً سبزیاں کھانا چاہتے ہیں مگر 23فیصد کے نزدیک یہ بہت مہنگی ہیں۔ 10فیصد کے نزدیک ان کی تیاری میں بہت وقت لگتا ہے کون پکائے کون کھائے۔ 16فیصد کے نزدیک انہیں جلدی دفتر جانے کے لیے سبزیاں استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ پرائمری سکول چھوڑنے سے پہلے بعض بچوں کا وزن بڑھ جاتا ہے ایسے بچوں میں ذیابیطس کے اندیشے بھی بڑھ جائیں گے۔ ایم۔ اے ایلگزین برطانیہ میں کلینکل ایڈوائزر ہیں ،انہوں نے سروے کو تشویشناک قرار دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ '' ہم لوگوں سے کیا کہہ رہے ہیں وہ صرف اپنا لائف سٹائل بدل کر اپنی خوراک میں پھل اور سبزیوں کی مقدار بڑھانے کے بعد تھوڑی سی ورزش کرلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ہر قسم کی ذیابیطس سے بچائے رکھے گا۔ اور یہی نہیں اس سے اندھے پن اور جلدی اموات میں بھی کمی ہوگی‘‘۔ اسی لیے برطانیہ میں اب اچھی خوراک کے لیے ایک مہم شروع کی جاچکی ہے۔
یہ تحقیق ہمارے لیے بھی ایک سبق ہے ۔ ہم تحقیقات تو نہیں کر سکتے جو دنیا بھر میں ہو رہی ہیں ان تحقیقات سے فائدہ اٹھا کر اپنے ہاں امراض میں کمی ضرور لاسکتے ہیں۔لیکن کیا کریں، ہمارے ہاںپھل اور سبزیاں عوامی قوت خرید سے باہرہو چکے ہیں۔ سیب اور کیلے کھانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا ، ٹماٹربھی ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔حکومت اگر عوام کی صحت چاہتی ہے تو ان ضروری اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرے۔