شکر گزار بندہ .... آمنہ سلیم

بیگ کالونی نامی جگہ پردو شخص رہتے تھے۔ان میں سے ایک آدمی گنجا اور دوسرا اندھا تھا۔ایک دن خدا کا نیک بندہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے سوال کیا’’تمہیں کیا پسند ہے‘‘؟گنجے نے جواب دیا’’اچھے بال ‘‘۔
آدمی نے ہاتھ پھیرا تواس کے سر پرخوبصورت بال آ گئے۔آدمی نے پوچھا’’تم کس قسم کا مال پسند کرتے ہو‘‘؟اس نے جواب دیا’’مجھے گائے بہت پسند ہے‘‘۔نیک بندے نے اسے گائے دی اور اس شخص کو دُعا دی’’اللہ تعالیٰ اس میں تجھے برکت عطا فرمائے‘‘۔ا ب وہ اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا’’تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے‘‘؟اس شخص نے جواب دیا’’کاش! اللہ تعالیٰ مجھے آنکھیں عطا فرما دے‘‘۔نیک بندے نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو خدا نے اپنی قدرت سے ا س کی بینائی واپس کر دی،پھرسوال ہوا کہ’’تم کس قسم کا مال پسند کرتے ہو‘‘؟اس نے کہا’’بکریاں‘‘۔آدمی نے اسے بکری دیتے ہوئے دعا دی’’اللہ تعالیٰ تیرے مال میں بھی برکت عطا فرمائے‘‘۔خدا نے اپنی قدرت سے ان کے مال میں بر کت عطا فرمائی،یہاں تک کہ گنجے کے پاس گائے کی بہتات ہو گئی،اور اندھا جو اب دیکھ سکتا تھا اس کے پاس بکریوں کے بڑے بڑے ریوڑ ہو گئے۔

اب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ دونوں کی آزمائش کرے کہ ان میں سے کون اس کا شکر گزار بندہ ہے اور کون نا شکرا۔اللہ کا ایک نیک بندہ بھیک مانگنے والے کے روپ میں ان کے پاس آیا۔وہ گنجے آدمی کے پاس آیا،جس کے سر پر بے حد خوبصورت بال تھے اور اس نے اپنے پاس بہت سا مال جمع کر رکھا تھا۔نیک آدمی نے اس سے سوال کرتے ہوئے کہا’’میں ایک غریب اور ضرورت مند آدمی ہوں ،میری ساری رقم اس سفر میں خرچ ہو گئی ہے اور میرے پاس گھر واپس جانے کے لیے پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔اللہ کے واسطے میری بات پر یقین کرو،میں تمہیں اس خدا کا واسطہ دیتا ہوں جس نے تجھے اتنے خوبصورت بال اور اتنا سارا مال عطا کیا ہے۔اسی خدا کے لیے مجھے ایک گائے دے دو تا کہ میں اپنا سفر جاری رکھ سکوں اور اپنے گھر خیرو عافیت سے پہنچ سکوں‘‘۔اب بجائے اس کے کہ وہ رب کی عطا کردہ نعمت میں سے ضرورت مند کی مدد کرتا اس نے فوراً انکار کر دیا اور کہا’’میرے اوپر اور کئی ذمہ داریاں ہیں جنہیں پورا کرنا میرا فرض ہے،لہٰذا میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا‘‘۔نیک آدمی نے کہا’’شاید میں نے اس سے پہلے بھی تمہیں دیکھا ہے۔کیا تم گنجے اور غریب نہیں تھے،اور لوگ تمہیں تمہارے گنج پن کی وجہ سے ناپسند نہیں کرتے تھے؟تمہاری مایوسی اور بیچارگی پر خدا کو رحم آیا اور اس نے تمہیں نہ صرف خوبصورت بال دئیے بلکہ مال و دولت سے بھی نواز دیا‘‘۔گنجا گھبراتے ہوئے بولا’’میں نے یہ مال و دولت خون پسینے کی محنت سے حاصل کیا ہے۔اگر میں محنت نہ کرتا تو آج اتنا رئیس کبھی نہیں بن پاتا‘‘۔نیک آدمی نے کہا’’اگر تم جھوٹ بول رہے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اسی حالت میں لوٹا دے،جس میں تم پہلے تھے‘‘۔یکا یک اس کے سر سے بال گرنے لگے اور وہ چیخنے چلانے لگا،مگر افسوس وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

اس کے بعد وہی نیک آدمی مدد کے لیے اندھے کے پاس آیا اور کہا’’میں ایک غریب مسافر ضرورت مند ہوں،میرا سارا مال و اسباب خرچ ہو گیا ہے اللہ کے واسطے میری مجبوری کا خیال کرو ،میں خدا کے نام کا واسطہ دے کر التجا کرتا ہوں جس نے تمہیں آنکھیں دیں مجھے ایک بکری دے دو تاکہ میں اُسے بیچ کر اپنے گھر جا سکوں‘‘۔نیک آدمی کی بات سن کر وہ شخص بولا’’تم سچ کہتے ہو،پہلے میں اندھا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے آنکھیں دیں۔تم اپنی مرضی سے بکری چن لو ،کیونکہ اتنے رحیم و کریم رب کے نام کا واسطہ دینے والے کو میں انکار نہیں کر سکتا۔بیشک یہ مال و دو لت اسی کی عطا ہے‘‘۔نیک آدمی بولا’’تم یہ سب مال اپنے پاس رکھو۔میرا اور تمہارا رب تم سے خوش ہے ،اور آج سے تم اس کے شکر گزار بندوں میں شامل ہو‘‘۔