دیسی گھی کھائیں ۔۔۔ سردی بھگائیں ... انیلا ثمن

موسم سرد ہو تو ٹھنڈ محسوس ہونا فطری عمل ہے،لیکن یہی سردی ایک حد سے بڑھ جائے تو جسم پر کپکپی طاری ہونے لگتی ہے۔ایسے افراد جنہیں زیادہ ٹھنڈ لگتی ہے ان کے لیے سردی کا موسم زحمت بن جاتا ہے۔درج ذیل مضمون میں ہم آج ایک ایسی خوراک کا ذکر کر رہے ہیں جس کا استعمال صدیوں سے ہو رہا ہے لیکن اس کی افادیت سے لوگ آج بھی پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ دیسی گھی صدیوں سے ہماری خوارک کا حصہ ہے،لیکن جدید دور میں متعدد لوگ مختلف وجوہات کی بناء پر اس کے استعمال سے پر ہیز کرنے لگے ہیں۔
کئی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اس میں چکنائی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے لہٰذا دیسی گھی کا استعمال دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔جبکہ اکثر لوگ موٹاپے سے بچنے کے لیے دیسی گھی کے استعمال سے اجتناب کرنے لگے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے ہی نہیں کہ دیسی گھی کا استعمال آپ کے جسم کو کس قدر طاقت بخشتا ہے۔دُ نیا بھر کے ماہرینِ صحت اور ماہرینِ غذائیات نے برِ صغیر میں استعمال کی جانے والی اس غذا کو انتہائی مفید اور صحت بخش قرار دیا ہے۔

دیسی گھی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے آپ کے جسم کو طاقت ملتی ہے اور قوتِ برداشت بڑھتی ہے۔جسم طاقتور ہو گا تو اس میں موسموں کو جھیلنے کی طاقت بھی آئے گی۔آپ اسے اپنی خوراک کا حصہ بنا کر دیکھیں ،جسم کو ٹھنڈ لگنا کم ہو جائے گی۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گائے کے دودھ سے بنائے گئے مکھن سے حاصل ہونے والے گھی کو کینسر سے بچائو میں بھی مدد گارا ور مفید بتایا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصاً موسمِ سرما میں روزانہ ایک چمچ گھی کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔محض ایک چمچ روزانہ استعمال کرنے سے درج ذیل فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

دیسی گھی سردیوں میں جلد کی خشکی سے نجات دلاتا ہے اور خصوصاً اسے پگھلا کر بالوں میں تیل کے طور پر لگانے سے نہ صرف سر کی جلد کی خشکی دور ہو جاتی ہے بلکہ بال بھی چمکدار اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔اس میں موجود وٹامن اے بصارت کو تیز کرتا ہے ،جبکہ آنکھوں پر پڑنے والے دبائو کا بھی بہترین علاج ہے اور خصوصاً آنکھوں کی بیماری ’’گلو کوما‘‘ میں بے حد فائدے بخش ہے۔

دیسی گھی جوڑوں کو صحت مند رکھتا ہے اور خصوصاً سردیوں میں جوڑوں کے درد کے شکار افراد کے لیے بہت مفید ہے۔پکانے کے لیے استعمال ہونے والے عام تیل میں بلند درجہ حرارت پر فری ریڈیکل پیدا ہو جاتے ہیں جو متعدد بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔اس کے بر عکس دیسی گھی میں مستحکم سیچوریٹڈ بانڈ پر مشتمل چکنائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے فری ریڈیکل بہت کم بنتے ہیں، لہٰذا بیماریوں کو بھی کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔

دیسی گھی نہ صرف خود غذائیت سے بھر پور ہے بلکہ یہ دیگر وٹامنز اور معدنیات کو جسم میں جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے اور یوں ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔اگر جسم پر کوئی زخم لگ جائے تو اپنی خوراک میں دیسی گھی ضرور شامل کریں کیونکہ یہ زخموں کو جلد مندمل کرتا ہے۔دماغ اور یاداشت کے لیے بھی دیسی گھی کو ایک بہترین نسخہ قرار دیا گیا ہے ۔یہ نہ صرف دماغ کے خلیوں کو صحت مند رکھتا ہے بلکہ حافظے کو بھی تیز کرتا ہے۔دوسرے تیلوں کے بر عکس دیسی گھی میں موجود ایسڈز آنتوں میں بیکٹیریا جمع نہیں ہونے دیتا اور اس میں موجود فائبر مدافعتی اور نظامِ انہظام کو بہتر بناتا ہے۔جدید تحقیق کے مطابق دیسی گھی میں موجود ایسڈز خوراک کو ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔محققین کے مطابق دیسی گھی میں موجود اجزاء جسم کی سوزش ختم کرتے ہیں جبکہ کینسر سے بچانے میں بھی گھی کا استعمال معاون ہے۔