نازیوں میں’’ شرمن ٹینک ‘‘کی مقبولیت .... انجینئر رحمیٰ فیصل

دوسری جنگ عظیم کے موقع پر امریکی میڈیم رینج''شرمن ٹینک‘‘ نے خاصی مقبولیت حاصل کر لی تھی۔ یہ ٹینک نہ صرف امریکہ نے استعمال کئے بلکہ فرانس، برازیل، افریقہ ، آسٹریلیا، برطانیہ اور سابق سوویٹ یونین کو بھی سپلائی کئے گئے تھے۔ ٹینکوں کے اس ماڈل کا ٹیکنیکل نام '' ایم 4‘‘رکھا گیا تھا۔کم وزن اور منفرد ڈیزائن کی بدولت یہ ٹینک ناہموار راستوں پر دوسرے ٹینکوں کی بہ نسبت بہتر طور پر نقل و حرکت کر سکتے تھے۔پاکستان نے بھی دشمن کے دانت کھٹے کرنے کے لئے شرمن ٹینک استعمال کئے تھے۔ یاد رہے، اس وقت دنیا بھر میں امریکی ٹینک مقبول تھے، ان کے ماڈل کامقابلہ مشکل تھا۔لیکن چربہ سازی مشکل نہ تھی۔لیکن امریکیوں کے لئے یہ بات کم حیران کن نہ تھی کہ جرمنی نے نمونے کو مدنظررکھتے ہوئے شرمن ٹینک کا اعلیٰ چربہ بنا لیا تھا۔یہ ٹینک قابل اعتماد بھی تھے اور آرام دہ بھی تھے جو کہ نازیوں میں مقبولیت کا باعث بنے۔حالیہ امریکی رپورٹ کے مطابق ہٹلر کی فوج نے چوری شدہ ہتھیاروں سے دوسری جنگ عظیم لڑی تھی ۔
دوسری جنگ عظیم اپنے انجام کے قریب تھی ، امریکی فوجوں کو ''ایشفین برگ (Aschaffenberg) کے مقام پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جرمن فوج امریکی فوج جیسے ہی ہتھیار لے کر میدان جنگ میں آئی تھی ۔ امریکی فوج حیران تھی کہ انہیں اپنے جیسے ہی ہتھیاروں کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔تب ماہرین نے بتایا کہ جرمنی نے امریکی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے'' شرمن ٹینک‘‘ میدا ن جنگ میں جھونک دیئے ہیں ۔ جرمن فوج امریکی ساختہ شرمن ٹینک ہی مقابلے پر لے آئی تھی جس سے امریکہ کو فتح پانے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔امریکہ کی عسکری تاریخ کے ماہر مارک فلٹن (Mark Felton) نے امریکی ہتھیاروں کی چوری کو امریکی فوج کی بد قسمتی قراردیا ہے۔انہوں نے شرمن ٹینکوں کی چوری پربھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے‘‘۔
جرمنی کو شرمن ٹینکوں کامقابلہ کئی جنگی میدانوں میں کرنا پڑا تھا۔ سب سے پہلے شمالی افریقہ میںجرمن فوج کے خلا ف لڑائی میں 'ایم4A1‘ ماڈل کے شرمن ٹینک استعمال کئے گئے تھے۔ اس جنگ میں جرمنی نے امریکہ کے'فرسٹ آرمرڈ ڈویژ ن‘ سے متعدد شرمن ٹینک چھین لئے تھے۔ ناتجربہ کار امریکی فوج تیونس میں کارروائی کے دوران بھی کئی ٹینک اور دیگر ہتھیار دشمن کو دے بیٹھی تھی۔جرمنی کی فوج نے کم از کم ایک شرمن ٹینک چربہ بنانے کے لئے ا سی وقت جرمنی بھجوا دیا تھا۔ بعد ازاں جرمن فوج کے بعض کمانڈروں نے بھی دیگر جنگی میدانوں سے بھی ملنے والے شرمن ٹینک جرمنی بھجوا دیئے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جرمنی نے ایسا کیوں کیا؟۔ محققین کا کہنا ہے کہ''چربہ سازی دراصل جنگی ساز و سامان کی تحقیق پر اٹھنے والے بھاری اخراجات سے معیشت کو بچانے کی کوشش کا حصہ تھی ۔اگر وہ جنگی سامان پر تحقیق کراتا تو جرمنی کی معیشت کہیں زیادہ برباد ہوتی۔ جنگی ساز وسامان پر تحقیق جرمنی کے بس سے باہر تھی۔اس حکمت عملی میں ہٹلر کامیاب رہا‘‘۔