شقی اور سعید‘ دو کردار۔۔۔۔۔۔۔ حافظ محمد ادریس

نبی اکرمﷺ نے آج سے چودہ صدیاں قبل جبکہ ذرائع آمدورفت اور مواصلات انتہائی نایاب تھے، دنیا بھر کی اقوام کو اسلام کا پیغام پہنچا دیا۔ حق کا پیغام سن کر ہر شخص اپنی قسمت اور مقدر کے مطابق جواب دیتا ہے۔ کوئی اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے تو کوئی اس کی رحمت کے سائے میں پناہ لے لیتا ہے۔ یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے۔ نبی پاکﷺ کے دور میں کسریٰ کی حکومت مدنیہ منورہ سے مشرق کی جانب اور نجاشی کی سلطنت جنوب کی جانب تھی۔ ان کے نام مکتوباتِ نبوی اور ان کے جواب میں ان دونوں کا ردعمل بڑا سبق آموز ہے۔
رومی بادشاہت کی طرح اس دور میں ایرانی بادشاہت بھی بہت طاقتور اور خود کو سپر پاور سمجھتی تھی۔ روم و ایران سب سے طاقتور حکومتیں تھیں۔ ہرقل قیصرِ روم تھا جبکہ خسرو پرویز اس زمانے میں ایران کا حکمران تھا۔ آپﷺ نے اس کے نام جو خط لکھا اس کا متن شرح المواھب میں امام زرقانی نے یوں محفوظ کیا ہے:
''محمد اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے کسریٰ، حاکمِ فارس کے نام! سلام اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لائے اور اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں تجھے اللہ عزو جل کے حکم کے مطابق دعوت (اسلام) دیتا ہوں۔ اس لیے کہ میں تمام لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں تاکہ جو لوگ زندہ ہوں انہیں (اللہ سے) ڈرائوں اور کفار پر اللہ کی حجت (بات) پوری ہوجائے۔ اسلام لے آئو، سلامت رہو گے، ورنہ تمام مجوس کے اسلام نہ لانے کا گناہ تجھ پر ہوگا‘‘ ۔
ایران کا کسریٰ رومی قیصر کا مدّمقابل تھا مگر وہ قیصر کے برعکس بہت غصیلا، مشتعل مزاج، خود سر اور انتہائی سنگدل انسان تھا۔ اس نے آنحضورﷺ کا خط سنتے ہی اول فول بکنا شروع کردیا۔ ایک جانب اس نے آنحضورﷺ کے مبارک خط کو پھاڑ کر پھینک دیا اور دوسری جانب یہ جسارت کی کہ خود کو خدائی کا مقام دیتے ہوئے آنحضورﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ اُس نے آنحضورﷺ کے سفیر حضرت عبداللہؓ بن حذافہ پر ہاتھ اٹھانا چاہا مگر پھر دھمکی دیتے ہوئے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ تو اگر سفیر نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ اس کے بعد اس بدبخت نے عراق میں اپنے گورنر کو حکم دیا کہ اس شخص کو گرفتار کر کے میرے دربار میں پیش کیا جائے۔ جب یہ لوگ مدینہ آئے تو حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا ''میرے بادشاہ نے تمہارے بادشاہ کو گزشتہ رات قتل کرا دیا ہے‘‘۔ عملاً ایسا ہی ہوا تھا۔
حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی سیرت میں بہت سے ایمان افروز واقعات ملتے ہیں۔ وہ کبھی موت سے نہیں ڈرے۔ بعد کے ادوار میں جنگی قیدی کی حیثیت سے شاہِ روم کے سامنے بھی انہیں پیش کیا گیا تھا۔ وہاں بھی ان پر خوف طاری کرنے کے لیے ان کے ایک ساتھی کو اُبلتے ہوئے تیل کے کڑاہے میں پھینک دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ان پر کوئی خوف طاری نہ ہوا۔ اب بھی انہیں اپنی جان کا کوئی ڈر نہ تھا لیکن ان کے دل پر آرے چل گئے جب اپنے آقا و مولاﷺ کے نامہ مبارک کی حرمت پامال ہوتے ہوئے دیکھی۔ واپس آکر اُنہوں نے پورا قصہ آنحضورﷺ کی خدمت میں بیان کر دیا۔ آنحضورﷺ نے اپنے جانثار کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جس طرح اس نے میرے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے اسی طرح اللہ اس کے ملک کو بھی پارہ پارہ کر دے گا۔ اس دوران خسرو پرویز، ہر قل کے مقابلے پر شکست پہ شکست کھاتا گیا۔ پھر اس کے خلاف گھر کے اندر بغاوت ہوئی اور اسے اس کے اپنے ہی بیٹے شیروَیہ نے قتل کر دیا۔
گستاخِ رسول تو اپنے انجام کو جلد ہی پہنچ گیا، مگر اس کی وسیع و عریض بادشاہت کے بھی ٹکڑے یوں ہوئے کہ حضرت عمرؓا ور حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی فوجوں کے سامنے فارس کے تمام قلعے اور شہر یکے بعد دیگرے شکست سے دوچار ہوتے چلے گئے تاآنکہ خلافت عثمانی میں آخری کسریٰ یزدگرد بھی مارا گیا اور آنحضورﷺ کی ایک نہیں کئی پیش گوئیاں پوری ہوگئیں۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کسریٰ ہلاک ہوجائے گا اور اس کے بعد کوئی کسریٰ تخت نشین نہیں ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یزد گرد کے بعد کوئی کسریٰ تاریخ میں کبھی نظر نہیں آیا۔ دنیا کے تاجداروں کی تاجدارِ ختم نبوتﷺ کے سامنے کیا حیثیت ہے؟ آنحضورﷺ کے جو گستاخ آج بھی شرانگیز حرکتیں کرتے رہتے ہیں، ان سب کا انجام بھی انتہائی ذلت آمیز اور عبرت ناک ہو گا۔
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
ایک کردار (کسریٰ) آپ نے سطور بالا میں دیکھا۔ یہ قرآن کے الفاظ میں شقی (بدبخت) ہے۔ آئیے ایک دوسرے کردار کا نظارہ کریں جسے قرآن میں سعید (خوش نصیب) کہا گیا ہے۔
نبی اکرمﷺ کے دور میں حبشہ ایک سرسبز و شاداب اور خوشحال ملک تھا۔ یہاں کا حکمران اور یہاں کے عوام مالی لحاظ سے بھی خوشحال تھے اور امن و امان کی صورتحال بھی دیگر ملکوں کی نسبت بہت بہتر تھی۔ حبشہ کا حکمران عادل اور نیک دل تھا۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ نے نبوت کے پانچویں سال اپنے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ وہ مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی جانب ہجرت کر جائیں۔ چنانچہ آنحضورﷺ کے صحابہ نے مکہ سے ہجرت کی اور بحیرہ احمر کو عبور کرتے ہوئے حبشہ کی بندرگاہ مسووہ پر جا اترے۔ وہاں سے دو سو کلومیٹر جنوب کی طرف دارالحکومت لاکسوم تھا ۔صحابہ نے اس شہر میں رہائش اختیار کرلی اور نہایت امن کے ساتھ یہاں وقت گزارا۔ یہ عرصہ تقریباً پندرہ سالوں پر محیط تھا۔ بادشاہ حبشہ کے دربار میں حضرت جعفرؓ کی معرکہ آرا تقریر بھی سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے اور شاہِ حبشہ کا سورۂ مریم کی آیات سن کر رقت سے آبدیدہ ہوجانا بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔ اس بادشاہ کا نام اصحمہ بن ابجر تھا اور نجاشی اس کا لقب تھا، جس طرح روم اور ایران کے حکمران قیصر و کسریٰ کہلاتے تھے۔ افریقی زبان میں نجاشی کا تلفظ نجوس ہے اور اس کا معنی ہے بادشاہ۔
نجاشی کے نام آنحضورﷺ نے جو خط لکھا وہ آپﷺ کے صحابی حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے اس تک پہنچایا۔ آنحضورﷺ نے اپنے خط میں بادشاہِ حبشہ کو بھی اس طرح اسلام کی دعوت دی جس طرح دوسرے ملوک و امرا کو دی تھی۔ نجاشی نے آپﷺ کا خط وصول کرتے ہی اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اور آنحضورﷺ پر ایمان لانے کا اعلان کر دیا۔ امام ابنِ قیم نے زادالمعاد میں بیان کیا ہے کہ نجاشی نے اس موقع پر بھرے دربار میں قبولِ اسلام کے بعد جو خطاب فرمایا اس میں آنحضورﷺ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے: ''میں گواہی دیتا اور قسم کھاتا ہوں کہ آپﷺ وہی نبی امی ہیں جن کا اہلِ کتاب انتظار کر رہے ہیں اور جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے راکب الحمار (گدھے کے سوار) سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی ہے، اسی طرح راکب الجمل (اونٹ سوار) سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خبری دی ہے اور مجھے آپﷺ کی رسالت کا اس درجہ یقین ہے کہ عینی مشاہدے کے بعد بھی میرے اس یقین میں (کوئی) اضافہ نہ ہوگا ۔ (ابنِ قیم: زادالمعاد ج3، ص290)
مؤرخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ نجاشی نے قبولِ اسلام کے بعد آنحضورﷺ کی خدمت میں جوابی خط لکھا اور اپنے قبولِ اسلام کی اطلاع دینے کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ اگر آپﷺ فرمائیں تو میں خود آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجائوں۔ نجاشی کا خط لے کر اس کا بیٹا اور ولی عہد ساٹھ آدمیوں کے ہمراہ بذریعہ کشتی حجاز کی طرف روانہ ہوا مگر بد قسمتی سے یہ کشتی شدید طوفان کی زد میں آ کر سمندر میں ڈوب گئی اور اس میں سوار لوگ جاں بحق ہوگئے۔ بہرحال آنحضورﷺ کو نجاشی کے قبولِ اسلام کی اطلاع مل گئی اور آپﷺ نے اس کو اپنے ملک پر عدل و انصاف کے ساتھ حکمرانی جاری رکھنے کی تلقین فرمائی۔
صحیح بخاری کتاب الجنائز میں یہ حدیث درج ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت نجاشی کی وفات پر صحابہ کرامؓ کو اس واقعہ کی اطلاع دی اور اپنے اس سچے اور وفادار امتی کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔ نجاشی کا انتقال رجب 9 ہجری میں ہوا۔ حقیقت میں تو نجاشی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی دعوت و تبلیغ کے نتیجے ہی میں مسلمان ہوچکا تھا، مگر حضور نبی اکرمﷺ کا خط ملنے پر اس نے باقاعدہ اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا۔ وقت کے تمام بادشاہوں اور حکمرانوں میں یہ شخص سب سے زیادہ خوش نصیب تھا۔
آنحضورﷺ کا پیغام ابدی ہے۔ آج آپﷺ کی امت اس کی امین اور لوگوں تک پہنچانے کی مکلف ہے۔ اللہ کرے ہر بندۂ مومن اپنے حصے کا کام کرنے کی سعادت سے بہرہ ور ہو جائے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے ''جسے میرا پیغام پہنچے وہ ان تک پہنچا دے جن تک یہ نہیں پہنچ پایا‘‘ ۔(خطبہ حجۃ الوداع)