پاکستان میں پاپولزم کی سیاست اور جمہوریت ۔۔۔۔ عبدالکریم
پاکستان میں ہر لیڈر نے اپنے آپ کو بڑا اور عوامی سیاستدان بنانے کے لیے پاپولزم کی سیاست کی ہے، اس سیاست میں ہر لیڈر اپنی آواز کو عوام کی آواز بنانے کے لیے ساری جدوجہد کرتا ہے حالانکہ اس قسم کی سیاست کا عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور لیڈر صرف عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلتا ہے. عوامی جذبات کو مدنظر رکھ کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی سیاسی تقریروں میں ایسے اسلوب کا انتخاب کرتا ہے جس سے عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلنا آسان ہو جاتا ہے۔

ایوب خان سےشروع کریں اور عمران خان تک آجائیں تو آپ کو پاکستان کا ہر لیڈر پاپولزم کی سیاست کرتا نظر آئے گا ،زیادہ تر پاپولزم کی سیاست آمروں نے کی ہے ۔پاکستان میں پاپولزم کی سیاست کے موجد بھی آمر ہی ہیں کیونکہ آمر آئین کو پامال کر کے اس ملک کی سیاست میں آتاہے ۔اس لیے اس کو عوام میں مقبول ہونے کے لیے پاپولزم کی سیاست کرنا پڑتی ہے اور وہ عوامی جذبات کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیتا ہے۔ عوام میں مقبول ہونے کے لیے طرح طرح کے نعرے ایجاد کرتا ہے، عوام کو لالی پاپ دیتا چلاجاتاہے۔ اس کو زمینی حقائق کا بالکل پتہ نہیں ہوتا ۔عوام کو اپنے سیاسی مفادات میں استعمال کرتا چلا جاتا ہے۔جو لوگ ان آمروں کی گود میں بیٹھ کر سیاست کرتے ہیں وہ لوگ بھی ان آمروں کے طریقوں پر سیاست کرتے ہیں ، آپ پاکستان کے کسی بھی سیاستدان کو دیکھیں، ان پر یہ الزام ہے کہ وہ کسی نہ کسی آمر کی سیاسی پیداوار ہے ۔

ایوب خان کا جائزہ لیں تو انہوں نے بھی اپنے آپ کو عوامی بنانے کے لیے پاپولزم کی سیاست کی، ان کی ساری سیاست اپوزیشن کو کرپٹ ، غدار اور مذہب کے کارڈ کو استعمال کرنے جیسے الزامات سے بھری پڑی ہے ۔اس وقت سیاستدان جن میں فاطمہ جناح بھی تھیں، ان کو بھی غداری جیسے الزامات کا سامنے کرنا پڑا۔ایوب خان نے یہ سارے الزامات عوامی جذبات کی بجائے اپنی ذات کو مدنظر رکھ کر لگائے اور عوام کو دھوکے میں رکھا گیا ۔ پاپولزم کی سیاست میں ایسا کرنا لیڈر کے لیے کوئی بری بات نہیں ہوتی اور جو لوگ اس وقت ایوب خان کی کابینہ کا حصہ تھے ،وہ سب لوگ ایوب خان کی پالیسونں کو پسند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ملک سیاسی طور پر برباد ہوتا رہا ،جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ایک بندے کی پالیسی پورے ملک کی پالیسی ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ 1965کی جنگ ہوئی، آئین بنتے رہے ٹوٹتے رہے ،عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلا جاتا رہا۔ یہ سب کچھ ایوب خان پاپولزم کی سیاست کی آڑ میں کرتے رہےاور بعد میں بھی آمر اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے رہے۔

جب ایوب خان کے اقتدار کے بعد یحیی خان آئے وہ بھی اپنے پیش رو کے نقش قدم پر چلے ۔ پاپولزم کی سیاست کرتے رہے، ملک سیاسی طور پر ٹوٹتا رہا۔یہاں تک مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب بھی پاپولزم کی سیاست کرتا رہا اور انڈیا کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہا۔ ون یونٹ والا نعرہ بھی ناکام ہوا ۔

شیخ مجیب کے 6پوائنٹ بھی مشرقی پاکستان کے لوگوں کے لیے پاپولزم کا نعرہ تھے جو کہ جنرل یحیی اور بھٹو صاحب کو بالکل نا پسند تھے۔ اس کے بعد بھٹو صاحب کا یہ نعرہ ادھر ہم ادھر تم بھی پاپولزم کی سیاست تھا، اس پاپولزم کی سیاست نے ہمارے ملک کو دولخت کر دیا ۔

بھٹو صاحب نے پاپولزم کی سیاست جاری رکھتے ہوئے سیاسی نعرے تخلیق کیے جس میں سب سے زیادہ مشہور نعرہ روٹی، کپڑااور مکان ہے۔ اس نعرے نے بھٹو کی سیاست کو آج تک زندہ کیا ہوا ہے۔ آج بھی اندرون سندھ میں لوگ ان کو سیاسی آقامانتے ہیں، ایک وقت ایسا بھی آیا بھٹو صاحب عوام کے دل کی دھڑکن بن گئے تھے۔ آپ کہہ سکتےہیں بھٹو صاحب ایک آمر کے دور میں سیاست میں آئے لیکن ان کا سیاسی رنگ آمر کی سیاست سے تھوڑا مختلف تھا کیونکہ بھٹو صاحب ایک سیاسی ورکر تھے۔ ایک سیاسی ورکر سے سیاستدان بنے، اس لیے ان کی سیاست میں سیاست کرنے کا طریقہ کار آمر کی سیاست سےمختلف تھا لیکن بھٹو صاحب نے سیاست کے داؤ پیج ایوب خان سے سیکھے تھے تاہم بھٹو صاحب نے اپنی سیاست کو ایوب خان کی سیاست سے مختلف رکھا۔

بھٹو صاحب نے پاپولزم کی سیاست کے لیے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ رکھا جس سے بھٹو صاحب کی سیاسی زندگی کامیاب رہی ہے، عوام نے اس سیاسی نعرے کو اپنی زبان دی اور یہ نعرہ پیپلز پارٹی کے لیے امر ہو گیا ۔جب بھٹو صاحب کا سیاسی عروج سےزوال کی طرف گئےتو یہ نعرہ بھی بھٹو صاحب کو پھانسی سے نہ بچا سکا ۔

بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد جنرل ضیاء الحق کا سورج طلوع ہوا ،جنرل ضیاءالحق نے پاپولزم کی سیاست کی انتہا کر دی ۔جنرل ضیاء الحق سیاست میں مذہب کا رنگ لے کر آئے ،اس میں جہاد کو شامل کیا، ملک میں سیاست کے نام پر مذہب کو استعمال کیا گیا۔ پاکستان میں جمہوریت کو اپنے طور پر چلانے کی کوشش کی گئی۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی طاقت کو کم کرنے لیے نواز شریف کو میدان میں لایا گیا اور اپنا سیاسی جانشین بنایا۔

نواز شریف جنرل ضیاء کے سیاسی بیانیے کو لے کر آگے بڑھے ،اس طرح سیاست، سیاست کی بجائے ذاتیات میں تبدیل ہوگئی ۔ ملک میں دوسیاسی پارٹیاں وجود میں آئیں، یوں 10سال ملک ان دونوں سیاسی پارٹیوں کے رحم وکرم پر رہا ۔دونوں پارٹیوں کا سیاسی بیانیہ ایک دوسرے کو کرپٹ کہنا ،ایک دوسرے کی حکومتوں کا خاتمہ تھا۔ ان دس سالوں میں ملکی مفادات کو بالائے طاق رکھا گیا ،ملک ان دو سیاسی پارٹیوں کی ذاتی دشمنی کی بھینٹ چڑھا رہا ۔یہ عوام کو بےوقوف بناتے رہے اور باریاں لیتے رہے ملک میں جمہوریت کا جنازہ نکالتے رہے۔

دونوں پارٹیوں کا پاپولزم کا نعرہ ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ نواز شریف، بے نظیر کی حکومت کو کرپٹ اور نااہل کہتے رہے ،ساتھ میں مذہب کا استعمال بھی کرتے رہے ۔ محتر مہ پر طرح طرح کے ذاتی نوعیت کے الزام بھی لگاتے رہے۔اسی طرح بے نظیر بھی نواز شریف کو کرپٹ اور مولوی کہتی رہیں ۔ اس سے ملک کو شدیدنقصان ہوا کہ حکومتیں مدت مکمل کرنے سے پہلے ختم ہوتی رہیں اورجہوےریت کمزور ہوتی رہی ۔

پھر پرویز مشرف کا دور آیا ،ملک میں جمہوریت ختم ہوئی۔ آمر نے اپنے طریقے سے ملک کو چلانے کی کوشش کی ۔ان کے پاس ایک ہتھیار تھا، ان حکمرانوں کو کرپٹ کہنا ہے، عوام کے آگے یہ بیانیہ رکھنا ہے کہ یہ سب کرپٹ ہیں ۔سیاست میں یہ لوگ مال بنانے کے لیے آتے ہیں ۔عوام کو ان کے کرپشن زدہ چہرے دکھانے ہیں جس کے لیے مشرف صاحب نے سوچا ایک آزاد میڈیا ہونا چاہیئے جس کے ذریعے عوام تک رسائی میں آسانی ہوگی ۔انہوں نے پاپولزم کی سیاست کے لیے سب بڑا سیاسی نعرہ لگایا کہ سب سے پہلے پاکستان ،یہ نعرہ زیادہ مقبول نہیں ہوا۔ آخر کار ان کو اپنے غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی ۔چند سیاسی واقعات میں جن کی وجہ سے وہ عوام میں غیر مقبول ہوئے ان میں لال مسجد واقعہ ،اکبر بگٹی کا قتل،عدلیہ نظر بندی ،سندھ میں ایم کیو ایم کو طاقتور بنانا،محترمہ کی شہادت ،میڈیا کو بند کرنایہ سب واقعات پرویز مشرف کی حکومت میں سیاسی کیل کی اہمیت رکھتے تھے جس سے ان کی مقبولیت میں کمی آئی۔

مشرف کی حکومت کے بعد جمہوریت دوبارہ بحال ہوئی تو پیپلز پارٹی حکومت میں آئی ۔5سال پورے کیے لیکن اس دفعہ پیپلز پارٹی کی سیاست بے نظیر کی سیاست سے مختلف تھی۔ زرداری صاحب کا پیپلز پارٹی کی سیاست پر پورا ہولڈ رہا۔ پارٹی کے نظریات بھی تبدیل ہوئے۔ زرداری صاحب پیپلز پارٹی میں روٹی کپڑا مکان کی بجائے ایک نیا نظریہ لائے، وہ تھا مفاہمت کی سیاست ۔اس مفاہمت کی سیاست نے پیپلز پارٹی کی رہی سہی سیاست کا جنازہ نکال دیا۔ پیپلز پارٹی سندھ کی پارٹی تک رہ گئی۔

پیپلز پارٹی کے 5سال مکمل ہونے کے بعد نواز شریف اقتدار میں آئے، نواز شریف جب تک خود حکومت میں رہے تب تک تو سب ٹھیک رہا ۔جب اقتدار سے ہٹے تو نواز شریف کو لگا کہ ان کو اپنا بیانیہ تبدیل کر دینا چاہیے ۔تو نواز شریف ‘ووٹ کو عزت دو’والا بیانیہ سامنے لے آئے لیکن کرپشن کی وجہ وہ اتنے مشہور ہوئے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

نوازشریف سزا یافتہ ہیں، بیماری کو بہانہ بنا کر ملک سے باہر ہیں جہاں علاج کی بجائے سیاست کر رہے ہیں اور مریم نواز کو لیڈر بنانے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ پاپولزم کی سیاست میں وہ ووٹ کو عزت دو کی سیاست کررہے ہیں۔ اداروں پر الزامات بھی لگا رہے ہیں۔ عوام نے ان کی ووٹ کو عزت دو اور ادارے مخالف سیاست کو ختم کر دیا ہے، اب وہ نئے نعرے کی تلاش میں ہیں۔

اب جبکہ عمران خان اقتدار میں ہیں ،عمران خان پاپولزم کی سیاست کے عروج پر ہیں۔ عمران خان نے جو اقتدار سے پہلے عوام کو خواب دکھائے تھے، ان میں نیا پاکستان ،اداروں کو مضبوط کرنا،ملک میں کرپشن کا خاتمہ ،خوشحال پاکستان،مہنگائی کا خاتمہ ہیں ،لیکن ان میں سے کسی پر بھی پورے نہیں اترے۔

اڑھائی سال کا وقت ہوگیا ہے ،ابھی عوام کو پریشانی کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ ماسوائے اپوزیشن کی کرپشن کے علاوہ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ عوام ریلیف چاہتے ہیں عوام کو کوئی غرض نہیں کون حکمران ہے ۔عوام سستی روٹی چاہتے ہیں جو عمران خان دینے میں ابھی تک ناکام دکھائی دیتے ہیں ۔پاپولزم کی سیاست میں لیڈر کو فائدہ ہوتا ہے ،عوام کو اس سے کچھ نہیں ملتا ۔لیڈر عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں، حکمران بن جاتے ہیں، عوام مہنگائی اور غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں ۔پاکستان میں بدقسمتی سے ذات کے لیےسیاست کی جاتی ہے۔ ذات کے لیےجمہوریت کے نعرے لگائے جاتے ہیں ،عوام کے لیے کوئی نہیں سوچتا ۔اللہ اس ملک میں ذات کی سیاست اور نام نہاد جمہوریت پر رحم فرمائے، آمین۔