بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو ۔

میانہ روی ٗ رواداری ٗ تحمل مزاجی ٗ ایک دوسرے کو برداشت کرنا ٗ معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں ٗ جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین ممکن ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس عدم برداشت ٗ جسم ٗ روح ٗ معاشرت ٗ معاش اور تعلقات کے لیے تباہی و بربادی ہے۔

انسانی معاشرہ ایک گلدستے کی طرح ہے ٗ جس طرح گلدستے میں مختلف رنگوں کے پھول ٗ حسن و خوبصورتی کا باعث ہوتے ہیں ٗ بالکل اسی طرح انسانی معاشرہ بھی مختلف الخیال ٗ مختلف المذاہب اور مختلف النسل افراد سے مل کر ترتیب پاتا ہے اور اس کا یہی تنوع اس کی خوبصورتی کا سبب بنتا ہے۔ میانہ روی ٗ رواداری ٗ تحمل مزاجی ٗ عفو و درگزر اور ایک دوسرے کو برداشت کرنیکا جذبہ ٗ یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے سماج امن و امان کا گہوارہ بنتا ہے اور اس طرح ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

آج کا دوربے حد انتشار ٗ افراتفری ٗ عدم برداشت کا شکار ہے، ہر کسی کو بس اپنے آپ سے غرض ہے۔ دُنیا بھر میں جاری جنگی جنون کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ لوگوں میں برداشت کا مادہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کسی جگہ اقتدار کی جنگ ہے تو کہیں کسی ملک کو فتح کرنے کی جنگ لڑی جا رہی ہے تو کہیں اپنے اسلحہ کی نمائش جاری ہے اور کسی جگہ معدنی اور قدرتی ذخائر پر قابو پانے کیلئے جنگ کی جا رہی ہے اور کہیں تو عزت و غیرت کے نام پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔

آج کے دور میں لوگ برداشت کو اپنی فطرت سے ختم کرتے جا رہے ہیں جبکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ برداشت انسانی فطرت میں شامل ایک ایسی صفت ہے کہ جس کو اپنانے سے انسان دوسروں سے ممتاز بن سکتا ہے۔ برداشت وہ دولت ہے جو کہ انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے لیکن آج کے دور میں دُنیا بھر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ اس کی خطرناک تصویر یہ بھی ہے کہ نوجوان نسل میں عدم برداشت کا فقدان ہے ٗ نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ نوجوانوں میں جذبات کی بھرمار ہوتی ہے اور اسی لیے ان ہی کے ذریعے انتشار کو دُنیا بھر میں باآسانی عام کروایا جا سکتا ہے کیونکہ نوجونوں کے جذبات کو ابھارہ جاتا ہے اور ان کو انتشار پھیلانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسے ممالک جو غربت کی چکی میں پسے ہوئے ہیں وہاں روپے پیسوں کا لالچ دے کر نوجوانوں کو استعمال کیا جاتا ہے ان کو ایسی تربیت اور لٹریچر فراہم کیے جاتے ہیں ٗ جس کی وجہ سے ان کو اپنا آلہ کار بنا کر ناپاک کاموں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس سے ان میں مادہ برداشت ختم ہو جاتا ہے۔ وہ انتہا پسندی میں کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ انسان ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر رہا اور پھر اس کی مرضی کے خلاف جانے والے کام کو وہ کیسے برداشت کر سکے گا۔ بس یہاں سے انسان میں اختلافات جنم لیتے ہیں جو کہ بعد میں شدت اختیار کر کے تصادم کا شکار بنتے ہیں اور یہ سب عدم برداشت کی وجہ سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں افراتفری پھیل رہی ہے۔

نوجوانوں کے اندر برداشت پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے یہ تو محض تعلیم کے حصول سے ہی ممکن ہے مگر کچھ ذمہ داریاں تعلیم یافتہ معاشریک کے ہر فرد پرعائد ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: کہ ”بے شک اللہ صبر کرنے والے کے ساتھ ہے“ صبر کے ذریعے انسان میں بردباری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوسروں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے اس کا عملی نمونہ سرکار کائنات جنہوں نے پتھر مارنے ٗ کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کو بھی دعا دی۔

درگزر کرنا اور صبر کرنا یہ ساری صفات اللہ کو کتنی پسند ہیں کیونکہ صبر اور برداشت کی وجہ سے انسان میں دوسروں کو سمجھنے اور سننے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح خدا کی صفات میں ایک صفت ”درگزر“ کرنا بھی شامل ہے۔ اور اگر انسان ان تمام صفات کو اپنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ برداشت ان کی زندگی کا حصہ نہ بن سکے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم صبر اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں تاکہ برداشت ہماری زندگی کا جزو بن جائے اور ہم زندگی کی کامیابیوں کو حاصل کر سکے۔

دراصل برداشت نام ہی ناپسندیدہ رویے کو برداشت کرنا ہے ٗ رواداری یہ ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو برداشت کریں ٗ جنہیں آپ جسمانی ٗ لسانی ٗ مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر ناپسند کرتے ہیں۔ رواداری واحد ایسی خوبی ہے جو نہ صرف مختلف قوموں اور جماعتوں کو بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو اور بہتری کے ضمن میں اکٹھے مل کر کام کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے بلکہ ایک ہی ملک میں مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں اور لوگوں کو متحد کر کے قومی مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ سیاسی ٗ مذہبی اور ثقافتی طور پر مختلف شخص اس دُنیا میں اپنے نظریات و عقائد پر صرف اسی صورت آزادی سے عمل پیرا ہو سکتا ہے ٗ جب وہ دوسروں کو ان کے نظریات و عقائد پر عمل کرنے کی آزادی دے۔ عوامی ٗ قومی معاملات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاملات میں رواداری کی جتنی ضرورت آج ہے ٗ شاید اس سے پہلے کبھی نہ رہی ہو۔اور شاید گزرتے وقت کے ساتھ اس کی ضرورت آج سے زیادہ محسوس کی جائے۔

ہم میں سے اکثریت عدم برداشت کی اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ لوگ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ کئی لوگوں سے مذاق تک برداشت نہیں ہوتا ٗمعمولی باتوں ٗ اختلاف رائے کو بھی ہتک عزت سمجھا جاتا ہے ٗ لوگ بُری بات تو کیا کسی کی اچھی بات بھی برداشت کرنے کو تیارنہیں۔لوگ معمولی سی بات پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ٗ اور اسے ”میں اصولی ہوں ٗ مجھ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی حالانکہ برداشت ہی تو غلط بات ٗ رویہ کرنے کا نام ہے ٗہر شخض دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے۔ عدم برداشت ہماری نفسیات ٗ جسم ٗ روح ٗ معاشرت ٗ معاش اور تعلقات کے لیے تباہی و بربادی ہے۔

ہمیں ملک کی ترقی ٗ خوشحالی ٗ استحکام کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا ٗمیانہ روی، رواداری، تحمل مزاجی، ایک دوسرے کو برداشت کرنا ٗ معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں ٗ جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوجائے گا۔ عدم برداشت ہی کی وجہ سے معاشرے میں بدنظمی ٗ بدعنوانی ٗ معاشرتی استحصال ٗ لاقانونیت اور ظلم و عداوت جیسے ناسور پنپ رہے ہیں ٗ عدم برداشت ہی کی بناء پر آج کا انسان بے چینی ٗ جلد بازی ٗ حسد ٗ احساس کمتری اور ذہنی دباوکا شکار ہے۔ برداشت ٗ تحمل ٗ رواداری معاشرے کا حسن ہی نہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو ممکن ہے