پھر وہی کپاس ۔۔۔۔ خالد مسعود خان

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ یہ بات نہ صرف یہ کہ ہم بچپن سے پڑھ اور سن رہے ہیں بلکہ ہمارا جی ڈی پی بھی اس کی گواہی دیتا ہے۔ ہماری قومی معیشت میں زراعت اور اس سے وابستہ صنعتی شعبے کا کردار سب سے اہم ہے۔ جی ڈی پی میں زراعت براہ راست اٹھارہ فیصد سے زائد اور کپاس، گنے، چاول، گندم اور مکئی وغیرہ سے منسلک صنعتی شعبہ بھی تقریباً اسی قدر حصہ ڈالتا ہے۔ ہماری برآمدات کا ساٹھ فیصد تو صرف اکیلی ٹیکسٹائل کا مرہون منت ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ایشیا کی آٹھویں بڑی برآمدی انڈسٹری ہے۔ پاکستان کی برآمدات سے حاصل کردہ زر مبادلہ کا نصف سے زیادہ صرف اور صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری سے حاصل ہوتا ہے‘ لیکن یہ صنعت بری طرح رو بہ زوال ہے‘ ہر آنے والا دن پہلے سے زیادہ بری تصویر پیش کر رہا ہے‘ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو اس ابتری کا حقیقی ادراک بھی نہیں ہوا۔ پاکستان میں کل قابل کاشت رقبہ پانچ کروڑ ایکڑ کے لگ بھگ ہے اور اس میں سے سب سے بڑے حصے پر گندم کاشت ہوتی ہے‘ جو ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ تیس پینتیس لاکھ ایکڑ کے قریب ہے۔
محض دو تین سال پہلے تک کپاس اسّی لاکھ ایکڑ کے ساتھ پاکستان میں کل کاشتہ رقبے کی دوسری بڑی فصل تھی اور اس رقبے سے روئی کی ایک کروڑ تیس لاکھ کے قریب گانٹھیں پیدا ہوتی تھیں۔ اس پیداوار کے علاوہ کچھ روئی درآمد کر لی جاتی تھی۔ پاکستان کی پیدا کردہ کپاس نسبتاً چھوٹا ریشہ ہونے کے باعث نفیس دھاگہ بنانے کے لیے کارآمد نہیں‘ اس لیے پچاس کائونٹ (50 count) یا اس سے زیادہ نفیس دھاگہ بنانے کے لیے امریکہ وغیرہ سے روئی درآمد کرنا پڑتی ہے۔ ملکی ٹیکسٹائل کو چلانے کے لیے درکار ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں میں سے اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی بیس لاکھ گانٹھیں درآمد کر لی جاتی تھیں اور اس طرح ہماری ملکی ضرورت پوری ہو جاتی تھی۔
گزشتہ چند سال کے دوران روئی کی ملکی پیداوار‘ جو ایک زمانے میں ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں کی حد کو چھو چکی تھی‘ کم ہونا شروع ہو گئی۔ پہلے ایک کروڑ بیس لاکھ، پھر ایک کروڑ اور پھر اس سے کم ہوتے ہوتے گزشتہ سال نوے لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی اور اس سال اندازہ ہے کہ ملکی کپاس کی کل پیداوار ساٹھ لاکھ گانٹھیں ہو گی‘ یعنی صرف چند سال میں کپاس کی پیداوار نصف سے بھی کم ہو گئی ہے۔ اب ظاہر ہے ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مکمل طور پر چلانے کے لیے روئی درآمد کی جائے گی۔ پہلے بیس لاکھ گانٹھیں درآمد ہوتی تھیں‘ اب اس سال ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد نوے لاکھ گانٹھوں تک پہنچ جائے گی۔ اس درآمد پر اندازاً ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر کا زر مبادلہ خرچ ہو گا یعنی تین سو ارب روپے کے لگ بھگ۔
آخر اس فصل کی پیداوار میں اس قدر کمی کی وجوہات کیا ہیں؟ بنیادی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ کپاس اب کاشتکار کے لیے فائدہ مند فصل نہیں رہی۔ کاشتکار کی روزی فصل کی پیداوار سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر فصل کی پیداواری لاگت اس کی قیمت فروخت سے بھی زیادہ ہو جائے تو بھلا کون پاگل ہو گا جو یہ فصل کاشت کرے گا؟ کپاس کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے، پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی کاشت پر ہونے والا خرچ تو پہلے سے کہیں زیادہ ہو گیا ہے، جبکہ اس کی فی ایکڑ پیداوار پہلے کی نسبت نصف بلکہ کئی علاقوں میں ایک تہائی رہ گئی ہے۔ پیداوار میں اس قدر کمی کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ پتا مروڑ وائرس یعنی کاٹن لیف کرل وائرس (CLCV)‘ اور دوسری وجہ‘ سفید مکھی کے کنٹرول میں ناکامی ہے۔ کاٹن لیف کرل وائرس سے بچائو کی غرض سے لوگوں نے کپاس کی اگیتی کاشت شروع کر دی۔ کسی زمانے میں کپاس کی کاشت وسط مئی میں شروع ہوتی تھی اور دسمبر کے مہینے میں کپاس کی چنائی مکمل ہو جاتی تھی‘ یعنی یہ کل چھ ماہ کی فصل تھی اور اس میں سے بھی اس کی حفاظت اور نگہداشت‘ جس میں کپاس کے دشمن کیڑوں کے لیے سپرے اور دیگر حفاظتی اقدامات شامل ہیں‘ کا دورانیہ پندرہ اگست سے پندرہ ستمبر تک یعنی کل ایک ماہ کا تھا۔ اس ایک ماہ کے دوران ہی کپاس کے پھول کھلتے اور ڈوڈی بنتی تھی، جس پر کیڑے حملے کرتے تھے۔ اس ایک ماہ کے دوران ہی سارے حفاظتی انتظامات درکار ہوتے تھے۔ اس فصل کے لئے دو بوری یوریا، پانچ تا چھ پانی اور پانچ تا چھ ہی سپرے درکار ہوتے تھے۔
اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔ کپاس فصل کا کاشتہ دورانیہ اب اپریل سے اکتوبر تک، یعنی ہے تو وہی چھ ماہ لیکن اس کا حفاظتی دورانیہ ایک ماہ سے بڑھ کر تین ساڑھے تین ماہ کا ہو گیا ہے، یعنی جون میں پھل گڈی آنے سے لے کر ستمبر تک۔ ان چھ ماہ کے دوران یوریا کی مقدار دو بوریوں سے بڑھ کر چھ سے آٹھ بوریوں تک پہنچ گئی ہے۔ پہلے پانچ تا چھ پانی لگتے تھے اب دس تا بارہ پانی لگتے ہیں اور کپاس کے دشمن کیڑوں سے حفاظتی سپرے کی تعداد پانچ چھ سے بڑھ کر دس سے اٹھارہ تک چلی گئی ہے‘ یعنی کل لاگت میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوگیا ہے جبکہ کپاس کی پیداوار جو کسی زمانے میں اوسطاً بائیس من فی ایکڑ تھی، اب کم ہو کر محض بارہ تیرہ من فی ایکڑ رہ گئی ہے۔ اتنے اخراجات کے بعد کپاس کی اتنی کم پیداوار سے تو فصل کی لاگت ہی پوری نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کپاس کا پاکستان میں قابل کاشت رقبہ اسی لاکھ ایکڑ سے کم ہوتے ہوتے چالیس لاکھ ایکڑ رہ گیا ہے اور اگر یہی حال رہا تو کپاس کی فصل کا یہ رقبہ مزید کم ہو جائے گا اور ایک دو سال کے اندر اندر کپاس پاکستان میں بالکل ہی ختم ہو جائے گی۔ کپاس کے کاشت کے روایتی علاقوں میں اب چاول اور گنے کے علاوہ مکئی کی کاشت متبادل فصل کے طور پر جگہ لے رہی ہے۔
کپاس کی فصل کی گھٹتی ہوئی پیداوار کی بنیادی وجہ وائرس تھی‘ اس کو کنٹرول کرنے کی غرض سے کپاس کی اگیتی کاشت کا چلن ہوا اور فصل کی پیداواری مینجمنٹ کا دورانیہ ایک ماہ سے بڑھ کر تین ماہ تک چلا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسی وائرس فری ورائٹی وجود میں آئے‘ جس کی پیداواری مینجمنٹ کا دورانیہ ایک ڈیڑھ ماہ سے زیادہ نہ ہو۔ اس کم دورانیہ کے باعث وائٹ فلائی یعنی سفید مکھی کا کنٹرول اور تدارک آسان ہو جائے گا۔ پیداواری عوامل میں خاطر خواہ کمی آنے کی وجہ سے پیداواری لاگت کم ہو جائے گی اور وائرس فری ہونے کے باعث فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو گا اور کپاس کی فصل اقتصادی طور پر سود مند ہو جائے گی‘ بصورت دیگر جو حال ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
کپاس کے علاقے میں اب لوگ دوسری فصلیں کاشت کر رہے ہیں۔ کپاس کی کاشت کیلئے پاکستان کی سب سے شہرت یافتہ تحصیل میلسی میں شاید اس سال چند ایکڑ پر بھی کپاس کاشت نہیں ہوئی۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد زراعت اب وفاقی نہیں صوبائی محکمہ ہے جبکہ صوبے زرعی تحقیق کے معاملے میں اتنی اہلیت کے حامل ہی نہیں کہ وہ یہ معرکہ سرانجام دے سکیں اور جو چند صوبائی تحقیقی ادارے موجود ہیں وہ برباد ہو رہے ہیں۔ مرکزی سطح پر زرعی پالیسی سازی کا سارا اختیار وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے بجائے خزانہ اور کامرس کے وزرا کے ہاتھ میں ہے اور حفیظ شیخ اور رزاق دائود کے سامنے فخر امام صاحب کی رتی برابر نہیں چل رہی۔ کیا عجب صورتحال ہے کہ ایک زرعی ملک میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ایک ہی سیزن میں کپاس، گندم، چینی، دالیں اور خوردنی تیل درآمد ہو رہا ہے اور حکمرانوں کی ترجیحات بیان بازی سے شروع ہو کر بیان بازی پر ختم ہو رہی ہیں۔