کسی پر انگلی اٹھانے سے پہلے ... عمار چوہدری

جیسے جیسے زمانہ ترقی کر رہا ہے انسانوں کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس جدید دور میں سہولتیں تو مل رہی ہیں لیکن لوگوں کی بے چینی‘ برداشت اور طبیعت میں چڑچڑا پن بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرح سے انسانوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے کیونکہ آٹومیشن کی وجہ سے انڈسٹری میں لیبر کی جگہ مشینوں نے لے لی ہے۔ پانچ پانچ سو لوگوں کا کام اکیلی مشین کر رہی ہے جس سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قوتِ خرید کم ہونے سے انسان جب ضروریات پوری نہیں کر پاتا تو لامحالہ طبیعت میں بے چینی اور کھردرا پن ابھر آتا ہے۔ پھر اس موبائل فون نے تو رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ انفوٹینمنٹ کا سیلاب لوگوں کو کچھ سوچنے سمجھنے کی مہلت ہی نہیں دے رہا۔ موبائل فون جس کام کے لئے اٹھایا جاتا ہے‘ وہ کرنے کے بجائے انسان وڈیوز اور سوشل میڈیا کے سمندر میں ڈوب کر کہیں کا کہیں نکل جاتا ہے۔ ان کیفیات کی وجہ سے جہاں لوگوں کی روز مرہ زندگی متاثر ہوئی ہے‘ وہیں صحت بھی خرابی سے دوچار ہوئی ہے اور اس کے نفسیاتی مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔
وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے جیسے اسے پَر لگ گئے ہوں۔ پچھلا سال تو کورونا نگل گیا۔ نئے سال کو بھی ایک مہینہ ہونے کو ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی یونہی پل بھر میں گزر جائے گا اور ہم جلد اسے الوداع اور نئے سال کو خوش آمدید کہہ رہے ہوں گے۔ وقت کی اس تیزی کے باعث لوگوں کے ضروری کام بھی نامکمل رہ جاتے ہیں۔ ایک دن جس تیزی سے گزرتا ہے‘ کوئی ایک کام بھی ہو جائے تو سکھ کا سانس آتا ہے۔ ٹریفک کے اژدہام نے جلتی پہ تیل کا کام کیا ہے۔ شہر میں ایک سے دوسری جگہ جانے میں کم از کم آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ پھر پارکنگ کا مسئلہ آن کھڑا ہوتا ہے۔ جس کی جہاں مرضی ہوتی ہے‘ گاڑی کھڑی کر جاتا ہے۔ لوگوں نے سڑک کو ذاتی جاگیر سمجھ لیا ہے۔ گھروں کے سامنے جہاں چاہو‘ پہاڑ نما سپیڈ بریکر بنا دیے جاتے ہیں۔ تیس فٹ چوڑی سڑک کے دونوں اطراف گھروں کے باہر موجود جگہ کو کیاریاں اور جنگلے لگا کر قبضے میں لے لیا جاتا ہے۔ پھر پانی کا بے جا استعمال اور ضیاع‘ جس کے ہم مجموعی طور پر مرتکب ہو رہے ہیں، حالانکہ جب پانی اور بجلی نہیں ملتی تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ کچھ دبائو ہمیں قدرتی طور پر ملتا ہے اور باقی حصہ ہم خود ڈال کر اپنی اور دیگر افراد کی زندگیاں اجیرن کر رہے ہیں۔
غصہ کیا ہے‘ یہ انسان کا کتنا زیادہ نقصان کر سکتا ہے‘ اس کا اندازہ تبھی ہوتا ہے جب کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم سب انسان ہیں اور انسان کو بہرحال غصہ بھی آتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی علم ہے کہ غصہ انسان کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے‘ ہم یہ بھی جانتے ہیں غصہ آتا ہے تو انسان کے اعصاب اور حواس کھنچنے لگتے ہیں‘ اس کی نسیں پھیلنے لگتی ہیں اور اس کے خون کی رفتار بے قابو ہو جاتی ہے‘ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ غصے کا سب سے فوری اثر دماغ پر ہوتا ہے اور یہ انسان کی قوتِ فیصلہ پر ضرب لگاتا ہے۔ سائنسی طور پر یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ غصہ خون میں ایسا زہریلا مادہ پیدا کرتا ہے جس سے چہرے کی رونق ختم ہو جاتی ہے اور آنکھوں اور ہونٹوں کی تازگی غائب ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ بھی پتا ہے کہ غصہ انسان کے اعصابی نظام کو ریورس گیئر میں ڈال دیتا ہے یوں انسان کے کردار اور اخلاق میں منفی اور تخریبی اثرات پیدا ہوتے ہیں اور انسان جذبات کی انتہائی سطح پر پہنچ جاتا ہے اور اس حالت میں یہ اپنی بڑی سے بڑی چاہت اور پسند کو بھی جوتے کی ٹھوکر سے اڑا دیتا ہے۔ یہ اپنی اولاد‘ اپنی دولت‘ اپنے کیریئر اور زندگی تک کو دائو پر لگا دیتا ہے۔ غصے کی حالت میں انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کی شمع تک کو گُل کر دیتا ہے۔ یقین کیجئے دنیا کے ستر فیصد انسان صرف اسی لئے ناکام ہوتے ہیں کہ وہ غصے پر قابو نہیں رکھ پاتے اور تیس فیصد صرف اس لئے کامیاب ہوتے ہیں کہ وہ ''کول مائنڈڈ‘‘ رہتے ہیں۔ وہ غصے میں بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ لانے کا فن جانتے ہیں اور یہی زندگی کا سب سے بڑا فن ہوتا ہے۔ لیکن سبھی اس فن کے ماہر نہیں ہوتے‘ نہ ہی اسے سیکھنے کی کوئی نیم دلانہ سی کوشش ہی کرتے ہیں۔
بعض افراد سمجھتے ہیں کہ ہم جتنا دوسروں کے ساتھ تضحیک کا رویہ اختیار کریں گے‘ اتنا ہی ہمارا قد کاٹھ بڑھے گا اور مخالف رعب کا شکار ہو جائے گا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آج ہر شخص سمجھدار ہے۔ جو بھی غیر اخلاقی رویہ اختیار کرتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور دین اسلام تو ہے ہی اخلاق اور شائستگی کا نام۔ کسی کی نیک نامی یا شخصیت کا اندازہ لگانا ہو تو اس سے لین دین کیجئے‘ چند منٹ میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ فلاں سیاست دان‘ فلاں عالم‘ فلاں دانشور یا فلاں اداکار کتنا زیرک ہے‘ یہ جاننے کے لئے ان سے چند منٹ کی ملاقات کیجئے‘ کچھ وقت ان کے ساتھ گزاریے‘ ان سے گفتگو کیجئے آپ کو معلوم ہو جائے گا جو بُت آپ نے اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے ہیں‘ جنہیں معاشرہ نجانے کتنی عزت اور احترام دے رہا ہے‘ ان کی حقیقت اصل میں ہے کیا۔ ٹی وی پر آ کر تقریریں کرنا‘ عوام کو چکنی چپڑی زبان سے گمراہ کرنا آسان ہے لیکن حقیقتاً لوگوں کے دلوں میں گھر کرنا انتہائی مشکل۔
بہت سے مناظر ہم ایسے دیکھ چکے جس میں کسی معروف اداکار نے کسی چپڑاسی کو تھپڑ جڑ دیا‘ کسی دانشور کے اپنے گھر سے کم عمر ملازمین برآمد ہوئے جن پر ٹارچر کیا جاتا رہا‘ کسی سے ایئر پورٹس پر ممنوعہ اشیا برآمد ہو گئیں‘ کسی کی بلیک میلنگ کی فون کالز منظر عام پر آ گئیں۔ ایسے واقعات کا یہ مطلب نہیں کہ صرف یہ چند لوگ ہی قصور وار تھے یا صرف یہی ایسا کرتے ہیں بلکہ بحیثیت مجموعی ہمارا معاشرہ ہی آلودہ ہو چکا ہے۔ بات بات پر غصہ آنا اور برداشت میں کمی یونہی ایک دن میں نہیں پیدا ہو گئی۔ اس کے پیچھے درجنوں عشرے اور عوامل ہیں۔ خود ہمارا اپنا لائف سٹائل اس بات کا گواہ ہے کہ ہم کتنا وقت اپنی شخصیت سازی کے لئے نکالتے ہیں، بچوں کو آدابِ زندگی کی کتنی تربیت دیتے ہیں۔ اپنے حالاتِ زندگی سے ہم سے زیادہ کون واقف ہو گا۔ بچے جیسا بڑوں کو دیکھیں گے ویسا ہی کرنے کی کوشش کریں گے‘ اس لئے نئی نسل سے یہ امید وابستہ کرنا کہ وہ آپ کی عزت کرے گی‘ محض خام خیالی ہے۔ جہاں تک سیاست دانوں کی بات ہے تو ان کے لئے صورت حال اور بھی نازک ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر اب اظہارِ رائے کے لئے سبھی آزاد ہیں۔ ہر شخص مثبت‘ منفی کوئی نہ کوئی رائے دے رہا ہے۔ ان آرا کی روشنی میں جہاں سیاست دانوں کو اپنا احتساب کرنا ہے وہاں ایک استاد‘ ایک عالم‘ ایک صحافی‘ ایک سرکاری ملازم اور ہر گھر میں موجود والد اور والدہ نے بھی یہ دیکھنا ہے کہ وہ اس معاشرے کو کیا دے رہے ہیں۔ گلے اور شکوے تو ہوتے رہتے ہیں لیکن اگر پودا گل سڑ چکا ہے تو پھر اس میں مٹی اور پانی بھی ہم نے ہی ڈالنا ہے۔ جو کھاد ہم نے ڈالی اور جو بیج ہم نے بوئے وہ فصلوں کی شکل میں ہمیں اور ہماری نسلوں کو ہی کاٹنا ہیں۔ یہ فصلیں کیسی ہوں گی‘ ان کا انحصار ہمارے آج کے رویوں‘ ہماری عائلی زندگی، ہمارے لین دین کے معاملات اور میل جول پر منحصر ہے۔ ہم جدید مغربی ممالک کی طرح بننا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اس شخص کا سا طرزِ عمل اپنانا ہو گا جو کسی کو گاڑی سے کچرا پھینکتے ہوئے دیکھتا ہے تو اپنی گاڑی سے نیچے اترتا ہے، وہ سارا کچرا ایک لفافے میں ڈال کر واپس اسی گاڑی والے کو تھما دیتا ہے۔ اگر کوئی غلط پارکنگ کرتا ہے تو اسے ٹوکتا ہے اور خود بھی ان باتوں پر عمل کرتا ہے۔ یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن قومیں بہرحال انہی چھوٹی چھوٹی باتوں اور رویوں سے بنتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر برداشت آپ کی کم ہو رہی ہے تو دوسرے کا بھی یہی معاملہ ہو سکتا ہے‘ اس لئے بے وجہ کسی سے الجھنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیے‘ اپنا احتساب کیجئے اور پھر کسی پر انگلی اٹھائیے۔