روزویلٹ اورچرچل میں ’’سرد جنگ‘‘ ۔۔۔ صہیب مرغوب

،روزویلٹ نے نو آبادیاتی نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیسے منوایا؟

وزیر اعظم برطانیہ ونسٹن چرچل، روسی رہنماجوزف سٹالن اور امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ میں ''گاڑھی چھنتی ‘‘تھی۔ تینوں ضرورتوں کے ساتھی تھے اور ایک دوسرے سے شاکی بھی۔ بے رحم حالات نے تینوں کو اتحاد کی ایسی لڑی میں پرودیا تھا جسے وہ دل سے نہیں مانتے تھے۔تینوں ساتھ نبھانابھی چاہتے تھے اور الگ رہنے کی خواہش بھی مچل رہی تھی۔''سابق امریکی صدرروزویلٹ نظریاتی طور پر نوآبادیاتی نظام کے مخالف تھے۔ رہا برطانیہ ،وہ تو دنیا کا سب سے بڑا سامراجی ملک تھا اسی لئے چرچل روز ویلٹ کی نظروں میں کھٹکتے تھے وہ ان کے نزدیک قابل بھروسہ آدمی نہ تھے۔ چرچل بھی کلی طور پر روزویلٹ پر اعتبار کرنے پر آمادہ نہ تھے، کیونکہ زیادہ تر برطانوی شہری چاہتے ہی نہیں تھے کہ برطانیہ امریکہ کو بھی جنگ میں ملوث کرے‘‘ ۔ (نیشنل جیو گرافک، 11جنوری 2019 ء )
ونسٹن چرچل برطانیہ میں مخصوص شرفاء کے نمائندہ تھے، انمول سگار اور مہنگے مشروبات بغیر چند منٹ رہنا بھی محال تھا۔ اس کے برعکس 4 مرتبہ ووٹوں سے برسراقتدار آنے والے روزویلٹ نوآبادیاتی نظام کے شروع سے ہی مخالف تھے، جیسا کہ جو بائیڈن نے بھی وائٹ ہائوس میں اپنے کمرے سے چرچل کا مجسمہ ہٹا دیا ہے۔ انہوں نے کہا تو نہیں لیکن اس کا مطلب یہی لیا جا رہا ہے کہ ''امریکہ جمہوریت کی بقاء چاہتا ہے ، نوآبادیاتی نظام کی علامتوں کو ارد گرد رکھنا جمہوری مشن کی نفی ہے‘‘۔
جبکہ سٹالن دونوں نظام ہائے حکومت سے متفق نہ تھے۔ وہ دونوں نظاموں کو ہی الٹ دینا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے اپنے ہاتھ لاکھوں روسی شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ ونسٹن چرچل نے اپنے عوام کی مرضی کے خلاف دوسری جنگ عظیم کے میدان میں گھسیٹنا چاہا، تو شاطر روزویلٹ بھی کچھ شرائط منوانے کے بعد ہی برطانیہ کی مدد کو آنا چاہتے تھے۔اگرچہ فوجی ساز و سامان اور ڈالروں کی فراہمی جاری تھی لیکن برطانیہ اور سابق سوویت یونین والے بخوبی واقف تھے کہ امریکہ نے جدید ترین ہتھیار ابھی تک مہیا نہیں کئے جن کے بغیر شائد جنگ نہ جیتی جا سکے۔
1941ء میں ہٹلر جنگ کا آغاز کر چکا تھا ، تاج برطانیہ کو خطرہ تھا کہ ہٹلر برطانیہ کی نوآبادیوں پر بھی قابض نہ ہو جائے اسے امریکہ کی عسکری مدد بھی درکار تھی۔چرچل کو اندیشہ تھا کہ جنگ طویل ہونے کی صورت میں ہٹلر کوایٹمی طاقت بننے کا موقع بھی مل سکتا ہے جس سے دنیا پر اس کے قبضے کو کوئی طاقت نہیں روک سکے گی ۔اس سوچ کا تذکرہ ونسٹن گروم نے اپنی کتاب ''دی الائز ‘‘ (یعنی اتحادی) میں بھی کیا ہے۔ چنانچہ اتحاد کے حامیوں نے تہران میں تین بڑوں کی بیٹھک کا بندوبست کیا لیکن سٹالن آخری وقت میں اپنی مصروفیت کے بہانے ٹالنے کی کوشش کرتے رہے، پھر انہوں نے آخر حربہ استعمال کیا ....''مجھے فضائی سفر پسند نہیں‘‘۔ تہران پہنچے بغیر بن نہ پڑی ۔''ہم سب کے قتل کی سازش تیار ہے ، ‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے باقی دونوں لیڈروں کو بھی اپنے ساتھ روسی سفارت خانے میں چھپا لیا۔
انڈیا برطانیہ کیلئے سونے کی چڑیا تھا، ونسٹن چرچل نہ صرف انڈینز کو خاطر میں نہیں لاتے تھے بلکہ زمانہ قحط میں خوراک کی نقل و حمل نا ممکن بنانے کے لیے سمندری جہاز بھی روک لئے تھے ۔ انہیں امریکہ میں روز ویلٹ جیسے جمہوریت پسند لیڈر کا سامنا تھا جنہوں نے چرچل سے دنیا بھر میں اپنی نوآبادیات کو جمہوری حقوق دینے کا مطالبہ منوا لیا تھا۔ونسٹن چرچل نے امریکہ کوجنگ میں شامل ہونے کی ترغیب دی تو امریکہ نے بھی دنیا بھر میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ پیش کردیا۔ روزویلٹ نے کہا کہ ''ایک جانب تو ہم فاشسٹوں سے لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف ہم نے اپنے ہی ممالک میں دقیانوسی نوآبادیاتی نظام میں جکڑے ہوئے باشندوں کو آزادی دینے سے کترا رہے ہیں‘‘۔
روزویلٹ کا یہ بیان چرچل کے سینے میں کسی نوکدار خنجر کی مانند کھب کر رہ گیا تھا ۔ چرچل نوآبادیات کو آزادی دینے کے تصور سے ہی بوکھلا جاتے تھے، امریکہ نے مطالبہ کیا کہ ''جنگ کے بعد عالمی نظام کو کیسے چلایا جائے گا‘‘ ،پہلے اس نکتے پر اتفاق رائے کر لیا جائے ورنہ ساتھ دینے کا کوئی فائدہ نہیں‘‘۔ 1941ء سے ان امور پر بحث جاری تھی ۔ بعد میں ''پوسٹ وار آرڈر‘‘ پر مبنی یہ تجاویز ''اٹلانٹک چارٹر‘‘ کے زیر عنوان جاری کی گئیں۔ مشترکہ بیان میں یہ نکتہ بھی شامل کر لیا گیا کہ ' 'تمام اتحادی جنگ کے خاتمے کے بعد اپنے زیر اثر ممالک میں عوام کو اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کا موقع دیں گے ۔جن لوگوں کو ان کی مرضی کے خلاف زبردستی ساتھ رکھا گیا ہے، انہیں بھی سیلف گورنمنٹ کے قیام سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔یہ ممالک اپنے زیر اثر علاقوں کے عوام کو ان کی مرضی حکومت سازی میں بھی تعاون کریں گے‘‘۔ یہی نکتہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا بھی حصہ بنا لیا گیا۔ سابق صدر وزویلٹ کے بیٹے ایلیٹ روزویلٹ نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔