میانمار میں تیسری بغاوت ۔۔۔۔۔ صہیب احمد مرغوب

گذشتہ سوموار میانمار میں جمہوریت پسندوں پر بھاری ثابت ہوئی جب یکم فروری کی صبح آن سان سوچی کو نظر بند کرتے ہوئے ملک بھر میں ایمرجنسی لگا دی گئی۔یہ نئے سال میں کسی بھی جمہوری حکومت کی پہلی اور میانمار میں 70برسوں میں تیسری برطرفی ہے ۔آرمی چیف من اونگ ہیلانگ (Min Aung Hlaing) نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے صدر (اب سابق)ون منٹ (Win Myint) ،24 وزراء اور حکمران جماعت ''نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘‘ کے دیگر قائدین کو گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر پہنچا دیا ہے۔ انقلاب کے بعد نائب صدر منٹ سوے (Myint Swe) صدربنا دیئے گئے ہیں۔قبل ازیں وہ 21مارچ 2018ء سے 30مارچ 2018ء تک بھی قائم مقام صدر رہ چکے ہیں سڑکوں پر فوج کا گشت جاری ہے، قوم نے گذشتہ رات بھی کرفیو میں گزاری ۔ سوچی حکومت کمزور تھی مگر جمہوری تھی ، نئے نظام کو عالمی طاقتوں کی جانب سے کڑی مزاحمت کا سامنا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت سبھی ممالک نے جمہوریت کی بساط الٹنے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے اقتصادی پابندیاں لگانے کا عندیہ بھی دیدیا ہے ۔
گذشتہ برس کے اختتام سے عالمی ماہرین 10 ممالک میں ہونیوالی متوقع تبدیلیوں پر نظر رکھنے کا اشارہ کر رہے تھے جہاں مارشل لاء لگانے یا حکومت گرانے کی کوششیں ہو سکتی ہیں، میانمار ان میں شامل نہیں تھا ، یہ تبدیلی اچانک ہے اور اس کی وجوہات کا تاحال علم نہیں ہو سکا۔ حالانکہ آن سان سوچی عالمی عدالت انصاف میں بھی روہنگیا مسلمانوں پر جنگی جرائم کا الزام مسترد کرتے ہوئے فوج کو اچھا جمہوری ''کور‘‘ دے رہی تھیں اسی لئے مبصرین برطرفی پر حیرت زدہ ہیں۔
میانمار میں پہلی بغاوت
دوسری جنگ عظیم کے بعد 1948ء میں آزادی پانے والے میانمار میں پہلے وزیر اعظم یو نو (U Nu) نے جنرل نی ون (Ne Win) کو آرمی چیف بنایا مگر جنرل نی ون نے ہی انہیں جیل کا راستہ دکھایا۔ جنرل نی و ن اپنی قائم کردہ ''یونین انقلابی کونسل‘‘ کے سربراہ بن بیٹھے ۔صدر آگا مہن ون موآنگ (Win Muang) 1967ء تک جیل میں رہے۔
دوسری جنگ عظیم میں براہ راست حملوں کا نشانہ بننے والے میانمارکی معاشی حالت قیام کے بعد سے ہی دگرگوں تھی۔خراب معیشت، بدعنوانی، بے روزگاری اور بد امنی عروج پر تھی۔ مارشل لاء کیلئے یہ جواز کافی تھے، 2مارچ 1962ء کو قائم ہونیوالی پہلی فوجی حکومت 26سال چلی۔ پہلے 12 برس سیاسی سختیوں کے تھے 1974ء میں نئے آئین کے نفاذ کے بعد انقلابی کونسل نے اختیارات سول حکومت کو منتقل کر دیئے لیکن فوج شریک اقتداررہی ۔
3 مرتبہ وزیر اعظم بننے والے سیاستدان یو نو
یونو نے بھی 3 مرتبہ وزیر اعظم بننے کا ریکارڈ قائم کیا۔ وہ 4جنوری 1948ء سے 12جون 1956ء تک 28فروری 1957ء سے 28اکتوبر 1958ء تک اور 4 اپریل 1960ء سے 2مارچ 1962ء تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔پہلی برطرفی کے بعد علاج کی غرض سے برطانیہ، سوئٹزر لینڈ اورآسٹریا کا رخ کیا۔بعد ازاں فوج کی حمایت سے دوبارہ اقتدار سنبھال لیا۔ وہ 87برس کی عمر میں 14فروری 1995ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔
ہنگامے
فوج اور سول انتظامیہ کا ملا جلا اقتدار دیر پا ثابت نہ ہو سکا، جلد ہی عوام میں مایوسی بڑھنے لگی۔غربت، بے روزگاری ، مہنگائی ، کرنسی نوٹوں کی تنسیخ، معاشی بد انتظامی اور پولیس تشدد کیخلاف 12 مارچ 1988ء کو شروع ہونیوالی تحریک 21 ستمبر تک چلی۔8 اگست 1988ء کو عروج پر ہونے کے باعث یہ مظاہرے ''8888 ہنگامے ‘‘ کہلائے ۔جب 5 لاکھ مظاہرین نے رنگون کی سڑکوں پر قبضہ کر لیا۔ کئی ہزار مظاہرین مارے گئے۔
دوسرا مارشل لاء
سڑکوں پر مظاہرین کا قبضہ تھا، 23جولائی 1988کو وزیر اعظم ون نے بھی استعفیٰ پیش کرتے ہوئے ملک کی باگ دوڑ '' رنگون کا قصائی ‘‘ کہلائے جانے والے سین لیون (Sein Lwin) کے سپرد کر دی ۔18ستمبر 1988ء کو فوج نے اقتدار سنبھالتے ہوئے ''سٹیٹ پیس اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل ‘‘ قائم کردی ۔ 23برس بعد2011 ء میں اقتدار ''یونین سالیڈیرٹی اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی‘‘ کے سپرد کر دیاگیا۔
آن سان سوچی کا عروج
آن سان سوچی 2برس کی تھیں جب ان کے والد جنرل آن سان برطانوی فوج سے لڑتے ہوئے مارے گئے،آزادی کے بعد اپنی والدہ ڈان خن چی (Daw Khin Kyi) کے ساتھ انڈیا میں قیام کیا۔ خونریز مظاہروں کے دور میں آن سان سوچی جمہوریت کی علم بردار کے طور پر ابھریں۔وہ آئیکون بن گئیں ، بازی عالمی اداروں کی مدد سے ابھرنے والی آن سان سوچی کے ہاتھ میں تھی۔1990 ء میں ہونیوالے ''کنٹرولڈ انتخابات ‘‘ میں بھی ان کی پارٹی 81فیصد ووٹ لے کر 492کے ایوان میں 292نشستیں لے اڑی۔ مگر حکمران ٹولے نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے آن سان سوچی کو 2010ء تک رہائش گاہ پر نظر بند رکھا ۔ اپریل 2012ء میں ہونیوالے ضمنی انتخابات میں45میں سے 42 پر کامیابی کے بعد و اپوزیشن لیڈرکی نشست پر بیٹھیں ۔ 6 اپریل 2016ء کو حکمران بننے والی آن سان سوچی شروع ہی سے اقتدار بچانے کی کوششوں میں لگی رہیں مگر ناکام رہیں 1991 ء میں نوبل انعام اپنے نام کرنیوالی سوچی کی کارکردگی سے عالمی ممالک مطمئن نہ تھے ۔ روہنگیا مسلمانوں پر بدترین تشدد ، قتل عام اور زندہ جلائے جانے کے واقعات جمہوریت پر بدنما داغ ہیں۔ کئی اداروں نے ان سے ٹائٹلز واپس لے لئے تھے ،ان کیخلاف جنگی جرائم کامقدمہ عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت رہا۔ نظر بندی انکے لئے نئی بات نہیں ہے وہ 15 سال (1989ء تا 2010) نظربند رہ چکی ہیں۔
میانمار میں تیسرا مارشل لاء
64سالہ من اونگ ہلینگ30 مارچ 2011ء سے کمانڈر انچیف کے عہدے پر فائزہیں، وہ ا پنے عوام کے لئے نیا چہرہ نہیں ہیں۔ 5مارچ 2020 ء کو ان کا عہدہ نائب صدر کے برابر کر دیا گیا تھا،نائب صدر تو تھے ہی ، مگر اب حکمران ہیں۔