کےٹو کا جادو ۔۔۔۔۔ خاور نیازی

ایک یورپی سیاح سے برطانوی میڈیاکے نمائندے نے استفسار کیا ''پاکستان میں ایساکیا ہے جو آپ کو یہاں کھینچ لایا ‘‘؟
اس سیاح کا جواب تھا کہ ''ویسے تو میں نے پاکستان کے بہت سارے خوبصورت مقامات کے بارے بہت کچھ سن رکھا ہے لیکن ''کے ۔ٹو‘‘ پہاڑدیکھنے کے تجسس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، مجھے میرے دوستوں نے روکا لیکن اسے دیکھنے کی بے چینی کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتا تھا ، مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ میں یہ عظیم پہاڑ سر نہیں کر سکوں گا لیکن اسے دیکھنے میں تو کوئی رکاوٹ حائل نہیں ‘‘۔
دنیا میں3 بلند ترین پہاڑی سلسلوںمیں سے ایک سلسلہ ''کوہ قراقرم ‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے جو پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب گلگت میں جگلوٹ کے ایک مقام سے شروع ہو کر شمال مشرق کی طرف درہ قراقرم پر ختم ہوتا ہے کوہ قراقرم کی بلند ترین چوٹی کا علاقائی نام ''شاہ گوری ‘‘ ہے مقامی زبان میں شاہ گوری کا مطلب ''پہاڑوں کا بادشاہ‘‘ ہے یہ پاکستان کی سب سے اونچی اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کا اعزاز رکھتی ہے اس کی بلندی 8611میٹر (28251 فٹ)ہے ۔
1856 میں انگریز سرکار نے جیالو جیسٹ گڈون آسٹن اور تھامسن منٹگمری کے ذریعے جب ہندوستان کے طول و عرض کی پیمائش کے لئے سروے کرایا تو تھامسن منٹگمری نے اس چوٹی کو ''Karakoram ‘‘ کے Kکی مناسبت سے ''کے ٹو‘‘کانام دیا ۔قبل ازیں یہ پہاڑی سلسلہ دریافت کرنے والے گڈون آسٹن کے نام سے منسوب تھا اور ''گڈون آسٹن پہاڑ‘‘کہلاتا تھا۔ اب اس نام کا ایک گلیشیئر موجود ہے۔ کیپمو لا مبا پہاڑ ، ڈیپ سانگ اور بلتستانی زبان میں ''چھو غوری‘‘ بھی اس کے نام تھے ۔
کے ٹو دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ کٹھن اور خطرناک ہے ۔ کٹھن چڑھائی اور بے ہنگم ڈھلوانوں کے سبب کوہ پیما اسے ''ظالم پہاڑی چوٹی‘‘بھی کہتے ہیں ۔اب تک ماؤنٹ ایورسٹ کو 2282کوہ پیما سر کر چکے ہیں جبکہ کے ٹو کو سر کرنے کی ہمت صرف 246کوہ پیمائوں نے کی ہے ۔ اس چوٹی تک پہنچنے میں انتہائی ناسازگار موسم اور جان لیوا چڑھائی کا سامناکرنا پڑتا ہے اس کی تقریباََ عمودی چڑھائی بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔متعدد کوہ پیماؤں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے کے ٹو کو چند دن پہلے تک سردیوں میں کوئی کوہ پیما سر نہیں کر سکا تھا لیکن پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے سردیوں میں سر کرکے یہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا جبکہ بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ موسم سرما میں کئی بار سر ہو چکی ہے ۔
'' بوٹل نیک ‘‘(Bottle Neck) خطرناک چڑھائیوں میں سے ایک ہے جہاں ان گنت جان لیوا حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں ۔ اس مقام پر 2008ء میں پیش آنے والے حادثے میں مختلف ممالک کے 11کوہ پیما جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔دراصل ''بوٹل نیک ‘‘ بلند و بالا برفانی تودوں میں سے ایک ہے،اس اہرام نما پہاڑی چوٹی پر قدم رکھنے والا ہر5 میں سے 1 سیاح زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کے ٹو کوسر کرنے کی اولین کوشش 1902ء میں کی گئی جو ناکام رہی ۔ متعدد دیگر گروپوں کی ناکامی اور اسکے بعد 31جولائی 1954ء میں ایک اطالوی ٹیم میں شامل کمپا نونی اور لیسا ڈلی یہ اعزا ز نے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو ئے۔انہوں نے سر کرنے کیلئے ''ابروزی رج ‘‘کا راستہ اختیار کیا۔یہ گلیشئیر''گڈون آسٹن‘‘کے نام سے موسوم ہے ۔ کے ٹو کا بیس کیمپ''کنکارڈیا‘‘سے صرف 8 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جو گڈون آسٹن ، بالتور اور ابروزی گلیشئیر کا مقام اتصال ہے ۔سلسلۂ قراقرم میں 60سے زیادہ چوٹیوں کی بلندی 7ہزار میٹر سے زائد ہے جبکہ اس کی لمبائی 500کلو میٹر کے لگ بھگ ہے ۔ دریائے سندھ اس سلسلے کا اہم ترین دریا ہے ۔اس پہاڑی سلسلے میں بہت بڑے بڑے گلیشئیرز پائے جاتے ہیں جن میں سیاچین، ہیسپر ، بالتورو ، بیافو اور بتورا قابل ذکر ہیں۔
سلسلہ کوہ قراقرم کی اہم چوٹیاں
٭ـ:گاشر برم اول (K5)،دنیا کی11ویں بلند ترین چوٹی ۔ بلندی 8080میٹر
٭ـ:بروڈ پیک ( K3)،دنیا کی12ویں بلند ترین چوٹی،بلندی 8047میٹر
٭ـ:گاشر برم دوم ( K4)،دنیا کی 13ویں بلند ترین چوٹی ۔ بلندی 8035میٹر
٭ـ:گاشر برم سوئم، دنیا کی 15ویں بلند ترین چوٹی۔بلندی 7952میٹر۔
٭ـ:گاشر برم چہارم، دنیا کی17ویں بلند ترین چوٹی۔بلندی 7925میٹر
٭ـ:ماشر برم ،دنیا کی 22ویں بلند چوٹی ۔بلندی 7821میٹر
٭ـ:چھو غو لیسا ،دنیا کی 36ویں بلند ترین چوٹی ۔بلندی 7665میٹر۔