آئینہ خلقِ رسالت ۔۔۔۔۔ علامہ رضاءالدین صدیقی

حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سیرت کردار میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار وعمل کا آئینہ تھے۔انتہائی خلیق ، مواضع اور منکسر المزاج تھے،کوئی بچہ اور بچی بھی بات کرنے لگتی تو کھڑے ہو کراس کا مسئلہ سنتے اور اسکی اعانت کرتے ۔غریبوں ،مسکینوں کی صحبت میں کوئی مضائقہ نہ سمجھتے جبکہ امراء ،وزراء حتیٰ کہ حکمرانِ وقت کی مصاحبت سے بھی گریز کرتے ۔صاحبان علم وتقویٰ آپ کے پاس آتے تو کھڑے ہو کر انھیں خوش آمدید کہتے لیکن کسی بھی امیر آدمی یا اراکین سلطنت کی تعظیم کیلئے کھڑے نہ ہوتے۔ کبھی کبھی کسی وزیر یا سلطان کے دروازے پر نہیں گئے آپکے احباب میں سے کوئی غیر حاضر ہوتا تو اسکے حالات دریافت فرماتے ، کوئی بیمار ہوجاتا تو عیادت کیلئے تشریف لے جاتے ،خواہ سفر ہی اختیار کرنا پڑے، ایک مرتبہ حضرت شیخ علی ہیتی بیمار ہوگئے تو آپ ان کی بیمار ی پر سی کیلئے انکی بستی زرہران میں تشریف لے گئے جو بغداد سے قدرے فاصلے پر واقع ہے۔طبیعت میں حلم اور برباری غالب تھی، کسی ذاتی یا خانگی معاملے میں کبھی غصہ نہ فرماتے ، عوام یا خواص سے کوئی لغزش ہوجاتی تو اسے معاف فرمادیتے ۔ شیخ ابو عبد اللہ بغدادی کہتے ہیں:’’آپکے اخلاق نہایت محبوب اور اوصاف ازحد پاکیزہ تھے ۔ ہر رات عام دسترخوان بچھتا،مہمانوں کے ساتھ کھاتے، کمزوروں کے ساتھ بیٹھتے ،طلبہ سے خاص انس رکھتے آپ سے زیادہ صاحب حیا میں نے کوئی نہ دیکھا بڑے رقیق القلب ،خدا سے بہت ڈرنے والے،بڑی ہیبت والے ازحد کریم الاخلاق اور پاکیزہ طبع تھے ۔ محارم الہی کی بے حرمتی کے وقت سخت گیر تھے مگر اپنی ذات کیلئے انتقام نہ لیتے۔‘‘ امام محمد بن یوسف البرزالی فرماتے ہیں:۔’’آپ مستجاب الدعوات تھے، آنکھوں میںبڑی جلدی آنسو آجاتے ، ہمیشہ ذکروفکر میں مشغول رہتے ۔بڑے رقیق القلب ،خندہ پیشانی کے خوگر، شگفتہ رو،کریم النفس فراخ دست،وسیع العلم ،بلند اخلاق تھے۔عبادات اورمجاہدات میں آپ کا پایہ بلند تھا‘‘۔ سخاوت ،جو دوکرم اور بھوکوں کو کھانے کھلانے کاخاص ذوق تھا۔ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ساری دنیا کی دولت میرے قبضہ میں ہو تو بھوکوں کو کھانا کھلادوں یہ بھی فرماتے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری ہتھیلی میں سوراخ ہے۔کوئی چیز اس میں ٹھہرتی نہیں۔ فرمایا کرتے تھے میں نے تمام اعمالِ صالحہ کی چھان بین کی ہے۔ ان میں سب سے افضل عمل بھوکوں کو کھانا کھلانا ہے۔ صبر وصداقت اور استقلال اورصدق میں آپ کی شخصیت یکتائے روزگار تھی۔