نمبرز گیم بدلنے کی کوشش ۔۔۔۔ امجد بخاری

سینیٹ الیکشن کی گونج پورے ملک میں سنی جارہی ہے اور اس کے اثرات بھی ہر جگہ محسوس کیے جارہے ہیں ۔
گلے شکوے دور کرنیکا موسم ہے، جوڑ توڑ کی سیاست میں ایک روز اگر اپوزیشن ارکان حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرتے ہیں تو دوسرے روز کوئی حکومتی رکن اسمبلی اپنی شکایات کی گٹھڑی کھول کا بیٹھ جاتا ہے،ابھی کچھ روزقبل جنوبی پنجاب سے رکن صوبائی اسمبلی خرم لغاری نے وزیر اعلیٰ کیخلاف شکایات کے انبار لگا دئیے تھے اور پارٹی چھوڑ نے کا اعلان کر دیا تھا انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیاتھا کہ انکے ساتھ دیگر 5 ناراض ارکان بھی ہیں۔ پھر ان کو منانے کا آغاز ہوا، پہلے ان کی ملاقات وزیر اعظم سے کرائی گئی جہاں انہوں نے کھل کر شکوے کیے وزیر اعظم نے ان سے وعدہ کیا کہ ان کے گلے دور کیے جائیں گے اس کے بعد وزیر اعظم کی ہدایت پر انکی ملاقات وزیر اعلیٰ پنجاب سے کرائی گئی جہاں پھر ایک مرتبہ گلے شکوئوں کا سیشن ہوا اور شکوے کچھ اس طرح ختم ہوئے کہ خرم لغاری نے وزیر اعلیٰ پر اپنے اعتماد کا اظہار اور حکومت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے کا اعلان کیا ۔ سینیٹ انتخابات کے بعد کیا نوعیت ہوتی ہے اس کو اندازہ تازہ سیاسی سرگرمیوں کے بعد ہوگا۔

کچھ عرصہ قبل ڈیر ہ غازیخان سے بھی ایسی آوازیں سننے کو ملی تھیں ۔چونکہ اسمبلی میں حکومتی برتری بھی بہت تھوڑے مارجن سے ہے اس لیے ایک ایک رکن اہم ہے اور ارکان کو خود بھی اس کا ادراک ہے اس لیے توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ15روز میں ارکان کے انداز کچھ اور بدل جائیں گے۔ ایسے حالات میں مسلم لیگ( ق) کو بھی متحرک ہونے کا موقع مل گیا ہے اور چوہدری پرویز الہٰی کے جنوبی پنجاب کے ارکان سے رابطے بڑھ گئے ہیں، یہ گہما گہمی 3 مارچ تک پورے جوبن پر ہوگی حکومت ہو یا اپوزیشن سب ارکان کے ناز نخرے سہیں گے۔

سینیٹ کیلئے انتخابی ٹکٹ جاری ہوگئے ہیں ، جنوبی پنجاب کے حصے میں کیا آیا اور سیاست کیا رُخ اختیار کریگی یہ سب اہم ہے۔ پی ٹی آئی نے یہا ں سے جنرل نشست پر اپنے پرانے کارکن عون عباس بپی کو ٹکٹ جاری کیا ہے، عون عباس بپی اس وقت ایم ڈی بیت المال اور وزیر اعظم کے پرانے ساتھی ہیں ۔

ادھر اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے بطورامیدوارلائی ہے۔یوسف رضا گیلانی منجھے ہوئے سیاستدان اور جوڑ توڑ کے ماہر ہیں دھیمے انداز سے وضع داری کی سیاست کرنے میں شہرت رکھتے ہیں ۔اب سینیٹ کے انتخابات میں ان سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اپنی انہی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’نمبر ز گیم ‘‘بدلنے کی کوشش کریں گے اور اپوزیشن کی سیاست میں جان ڈالیں گے لیکن حکومت بھی اس نشست پر ’’ رسک‘‘ نہیں لے گی، اس لیے اس نشست پر مقابلہ دلچسپی کا حامل ہوگا۔خود یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن کی حکومت مخالف مہم میں سیاسی طور پر بہت کچھ حاصل کیا ہے ، آصفہ بھٹو زرداری کی عملی سیاست کا آغاز ملتان سے کرواکے انہوں نے پارٹی کے اندر اور علاقے میں اپنی جگہ مزید مضبوط کی ،سینیٹ کے یہ انتخابات انہیں نتائج سے قطع نظر مزید مضبوط بنائیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی طرف سے جنوبی پنجاب کے دوروں کا سلسلہ جاری ہے، وہ ان علاقوں کے مسائل سے با خبر رہتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے انہوں نے بہاولپور کے نواح میں ہونیوالی چولستان جیپ ریلی میں شرکت کی لیکن یہ انتظامی اعتبار سے اہم دورہ تھا انہوں نے اس موقع پر متعد د سیاسی ملاقاتیں کیں جو سینیٹ انتخابات کیلئے اہم ہیں اور پنجاب حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بھی ساز گار ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے چولستان میں ہونے والی جیپ ریلی میں شرکت کی انعامات تقسیم کیے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور لاہور سے بہاولپور کے سفر کے دوران کئی مقامات کا فضائی جائزہ لے کر معاملات درست کرنے کی ہدایات جاری کیں وزیر اعلیٰ نے جیپ ریلی میں خود بھی نمائشی طور پر جیپ چلائی اور خواہش کا اظہار کیا کہ وہ خود بھی جیپ ریلی میں گاڑی بھگانا چاہتے تھے، وزیر اعلیٰ کی آمد سے چولستان جیپ ریلی کی اہمیت بڑھ گئی ، یہ ریلی طویل عرصے سے باقاعدگی سے ہورہی ہے اور ملک کا ایک اہم ایونٹ بن گئی ہے لیکن ضرورت ہے کہ اس ریلی کو بین الاقوامی بنا یا جائے ڈرائیور کو بھی دنیا بھر سے مدعو کیا جائے اور شائقین بھی آئیں، خود وزیر اعلیٰ نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا ہے اب دیکھتے ہیں کہ وہ خود اس کیلئے کیا اقدامات کرتے ہیں، انہوں نے اس موقع پر راجن پور کے سیاحتی علاقے ماڑی کو بھی چولستان کے ساتھ سڑک کے ذریعے منسلک کرنے کا اعلان کیا جس سے یہ پورا علاقہ سیاحوں کو اپنے طرف کھینچے گا اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔