امریکی جمہوریت پر 6.5 فیصد آبادی کا کنٹرول ۔۔۔۔ صہیب احمد مرغوب

امریکی جریدہ ''فوربس‘‘ نے اپنی ایک تازہ اشاعت میں کیا خوب سوال اٹھایا ہے،جریدہ لکھتا ہے کہ '' اس ملک کو آپ کیا کہیں گے جہاںحکومت کو 5.6فیصد آبادی کنٹرول کرتی ہو‘‘۔ پھر جریدہ لکھتا ہے کہ '' ایسے ملک کو دنیا امریکہ کہتی ہے!‘‘
سٹیون سا سلزبرگ کا کہنا ہے کہ ''یہ میرا نقطہ نظر نہیں ہے ، میں ذاتی خیالات نہیںپیش کر رہا بلکہ خالصتاََ ریاضی کے اصولوں کے مطابق ہی لکھ رہاہوں کہ امریکی جمہوریت کو صرف 5.6فیصد افراد جدھر چاہیں موڑ سکتے ہیں یہ ان کے مکمل کنٹرول میں ہے‘‘۔
ہر ریاست سے دو دو ارکان سینیٹ کا انتخاب : جب میں نے ان کی ریاضی کو جاننے کی کوشش کی ،تو صورتحال کچھ ایسی ہی ظاہر ہوئی،امریکی آئین کے مطابق ریاست بڑی ہو یا چھوٹی ،سینیٹ میں ووٹ برابر ہوتے ہیں ۔ سینیٹرز آبادی کی بنیا پر نہیں ،بلکہ ریاست کی بنیاد پر منتخب کئے جاتے ہیں اس لئے امریکی آئین میں ہر ریاست کو دو دو سینیٹرز منتخب کرنے کا حق دیا گیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں11کروڑ افراد کے وو ٹ 26.6لاکھ افراد کے برابر!:۔ بلحاظ آبادی کیلی فورنیا امریکہ کی سب سے بڑی اور ٹیکساس دوسر ی بڑی ریاست ہے۔کیلی فورنیا کی آبادی 3.9کروڑاورٹیکساس کی آبادی 2.9کروڑ سے زیادہ ہے۔ تیسرے نمبر پر فلوریڈ ا (آبادی :2.17 کروڑ ) اور چوتھے نمبر پر نیو یار ک ( آبادی : 1.9 کروڑ) ہیں۔ ان چار ریاستوں کی مجموعی آبادی 11 کرو ڑ کے لگ بھگ بنتی ہے۔ اس کے برعکس کم ترین آبادی والی ریاستوں میں وائومنگ (آبادی : 5.8 لاکھ ) ، ورمنٹ (آبادی :6.24لاکھ )، الاسکا (آبادی : 7.315لاکھ) اور نارتھ ڈکوٹا (آبادی : 7.65لاکھ) شامل ہیں ۔ان چار ریاستوں کی مجموعی آبادی 26.6لاکھ بنتی ہے۔
26چھوٹی ریاستوں سے 52سینیٹرز:۔ امریکہ میں 26چھوٹی ریاستیںکل 52سینیٹرز منتخب کرتی ہیں لیکن وہاں رہنے والوں کی تعداد کل آبادی کا صرف 17.6فیصد بنتی ہے۔مختلف جائزہ رپورٹوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زیادہ تر سینیٹرز مجموعی ووٹوں کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی کم ووٹ لے کر ایوان بالا میں پہنچ جاتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ 8.9فیصد عوام ( 17.6 فیصد کا نصف) امریکہ میں 52سینیٹرز منتخب کرنے کے بعد امریکہ کی سیاست کا نقشہ ہی بدل دیتے ہیں۔ مصنف سٹیون ساسلزبرگ کے مطابق'' امریکی آئین کے تحت بجٹ کے علاوہ سینیٹ کسی بھی ایسے بل پر بحث نہیں کرتا جسے 60فیصد ارکان کی حمایت حاصل نہ ہو۔یعنی اگر 40سینیٹرز کسی ایک جانب ہو جائیں تو وہ کسی بھی بل پر بحث کو رکوا سکتے ہیں۔جبکہ 21چھوٹی ریاستوں کی آبادی کل آبادی کامحض 11فیصد بنتی ہے۔ یعنی امریکہ کی کل آبادی کا نواں حصہ 42سینیٹرز کا انتخاب کرتا ہے۔
یہ 40فیصد سینیٹرز چھوٹی ریاستوں سے بھی ہوسکتے ہیں جن کی آبادی امریکہ کی کل آبادی کا محض 5.6فیصد بنتی ہے۔
امریکی حکومت کیسے کام کرتی ہے؟:امریکہ میں صدر سینیٹ کی منظوری تک کسی بھی رکن کانگریس کو کابینہ میں شامل نہیں کر سکتا ۔سابقہ امریکی صدر اینڈریو جیکسن نے جب 1833ء میں راجر بی ٹینی کو کابینہ میں شامل کرنا چاہا تو سینیٹ نے مسترد کر دیا۔ جس کے بعد وہ کابینہ وزیر نہ بن سکے۔سینیٹ کی جانب سے یہ پہلا نام تھا جسے مسترد کیا گیا جس کے بعدلمبی لائن لگ گئی۔سینیٹ نے جارج ڈبلیو ایچ بش کو1989ء میں جان ٹاور) کووزیر دفاع اور 1993ء میں بل کلنٹن کو) کو اٹارنی جنرل بنانے سے روک دیا تھا۔ سینٹ کی جانب سے نام مسترد کئے جانے کے بعد 2001 ء میں جارج ڈبلیو بش لنڈا شاویز اور براک اوباما ٹام ڈیشلے کو وزیر صحت بنانے میں ناکام رہے تھے ۔ہم ڈونلڈ ٹرمپ کو نہایت طاقت ور صدر سابق سمجھتے رہے ہیں لیکن وہ بھی کوشش کے باوجود اپنے دست راست اینڈریو پزڈر ) کو وزیر محنت نہ بنا سکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے متوقع استرداد کے اندیشے کے پیش نظر ان کے نام کے علاوہ کئی نام واپس لے لئے تھے ۔اسی لئے ہر انتخاب کے بعد امریکہ میں یہ بحث بھی چھڑ جاتی ہے کہ صدر کو کن کن ناموں کی منظور ی مل سکے گی یااور کون کون سے نام مسترد ہو سکتے ہیں۔امریکہ میں حکومت ایگزیکٹو آرڈر تو جاری کر سکتی ہے لیکن ان آرڈرز کو بھی ایوان بالا کی سکروٹنی سے گزرنا پڑتا ہے۔