حکایت رومیؒ ۔۔۔۔۔۔ مکمل سبق

ایک شہزادہ اپنے استاد محترم سے سبق پڑھ رہا تھا۔ استاد محترم نے دو جملے پڑھائے، جھوٹ نہ بولو اور غصہ نہ کرو۔ کچھ دیر کے وقفے کے بعد شہزادے کو سبق سنانے کے لئے کہا۔ شہزادے نے کہا کہ ابھی سبق یاد نہیں ہو سکا۔ دوسرے دن استاد محترم نے دوبارہ سبق سنانے کو کہا۔ شہزادہ پھر بولا، استاد محترم !ابھی تک سبق یاد نہیں ہوا۔ تیسرے دن چھٹی تھی۔ استاد محترم نے کہا کہ ’’کل چھٹی ہے سبق ضرور یادکر لینا‘‘ ۔ بعد میں میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا۔
چھٹی کے بعد اگلے دن بھی شاگرد خاص کو سبق یاد نہ ہو سکا۔ استاد محترم یہ خیال کئے بغیر کہ شاگرد ایک شہزادہ ہے،غصے سے چلائے ، ’’یہ کوئی بات ہے کہ اتنے دنوں میں دو الفاظ یاد نہیں کر سکے‘‘، یہ کہتے ہوئے جلدی سے ایک تھپڑ رسید کر دیا۔
تھپڑ کھانے کے بعد شہزادہ پہلے تو گم سم ہو گیا۔ اور پھر بولا: ’’استاد محترم سبق یاد ہو گیا۔ استاد کو تعجب ہوا کہ پہلے تو سبق یاد نہیں ہو رہا تھا اور اب فرفر سنا دیا، شہزادے نے عرض کی ’’ استاد محترم، آپ نے مجھے دو باتیں یاد کرائی تھیں، جھوٹ سے بچنے اور غصہ نہ کرنے کے سبق پڑھائے تھے۔ جھوٹ بولنے سے تو میں نے ا سی دن توبہ کر لی تھی، مگر غصہ نہ کرو بہت مشکل کام تھا، کوشش کرتا تھا کہ غصہ نہ آئے مگر کسی نہ کسی بات پر آ ہی جاتا تھا۔ جب تک غصے پر قابو پانا نہ سیکھ جاتا اس وقت تک میں کیسے کہتا کہ سبق یاد ہو گیا ہے۔ استاد محترم !جب آپ نے تھپڑ مارا اور مجھے ذرا غصہ نہیں آیابلکہ اپنی غلطی کا احساس ہواتو میں سمجھ گیا کہ آج آپ کا دیا ہوا سبق مجھے اچھی طرح یاد ہو گیا ہے، استاد محترم سبق یاد کرنا ہی نہیں ہوتا اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے‘‘۔
درس حیات: اے عزیز من!ہم اقوال زریں روزانہ ہی پڑھتے ہیں، ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں، ہمیں ان پر عمل کرنا چاہیے، عمل سے ہی انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ عمل سے ہی زندگی بنتی ہے۔