ایف اے ٹی ایف اجلاس: توقعات اور خدشات

فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا چار روزہ ورچوئل اجلاس آج سے پیرس میں ہورہا ہے اور پاکستان کیلئے اس کی اہمیت یہ ہے کہ اسے گرے لسٹ سے ہٹانے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ اس اجلاس میں کیا جانا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے 27 میں سے 21 اہداف حاصل کر لیے ہیں ‘ مگرچھ نامکمل اہداف کی بنا پر فروری تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا؛ تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے مذکورہ اہداف کی تکمیل کیلئے قابل ذکر پیش رفت کی گئی ہے اور اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف کو آگاہ بھی کیا گیا ہے ؛ چنانچہ پاکستان اس توقع میں حق بجانب ہے کہ اس اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے پاکستان کا نام گرے لسٹ سے ہٹانے کا فیصلہ سامنے آئے گا۔ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کیلئے 2020ء کے دوران پاکستان کی جانب سے بھر پور کام کیا گیا۔

مثال کے طور پر انسدادِ منی لانڈرنگ ترمیمی بل‘ انسدادِ دہشت گردی ترمیمی ایکٹ اور اسلام آباد کیپٹل وقف پراپرٹیز بل جیسی اہم قانون سازی گزشتہ برس پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوران کی گئی۔ اس طرح ناجائز ذرائع سے رقوم کی اندرون یا بیرون ملک منتقلی کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے جو کام ہو ا‘ اسے قابل ذکر قرار دیا جا سکتا ہے۔ انسانی کوششوں میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے مگر انسدادِ منی لانڈرنگ و ٹیرر فنانسنگ کیلئے پاکستان کی حکومت اور اداروں کی کوششوں کو نظر انداز کرنا قرینِ انصاف نہیں؛ البتہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فورم پر فیصلے جس طرح کیے جاتے رہے ہیں یا رکن ممالک کی اجارہ داری کا جو تاثر پایا جاتا ہے‘ اس میں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کے خدشات موجود رہتے ہیں۔ ایسے اندیشے حالیہ اجلاس میں بھی خارج از امکان نہیں‘ایسا تاثر پایا جاتاہے کہ بعض یورپی ممالک پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی سوچ رکھتے ہیں؛ چنانچہ حکومت کو چاہیے کہ ان خدشات اور پاکستان مخالف لابنگ کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے توڑ کا بندوبست اور اپنے حقوق کے دفاع کی بھرپور کوشش کی جائے۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے رکن مماکن کی توجہ اس جانب مبذول کروانا بھی ضروری ہے کہ اس فورم پر فیصلے صرف انہی نکات کی روشنی میں ہونے چاہئیں جو اس تنظیم کے بنیادی دائرہ کار میں ہیں یعنی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسگ کے معاملات۔ اگر بعض ممالک اپنا ذاتی حساب برابر کرنے یا اپنے رنج کی تسکین کیلئے کسی ملک کو تختۂ مشق بنانے کی روش پر چل نکلیں تو یہ اس تنظیم کی ساکھ کیلئے خطرہ ثابت ہو گا۔

پہلے یہ سوچ صرف بھارت کی تھی کہ ایف اے ٹی ایف کا فورم پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے‘ بد قسمتی سے اب بھارت کے حلیف کچھ یورپی ملک بھی اسی انداز میں سوچنے لگے ہیں؛ چنانچہ اس عالمی تنظیم کی جانب سے پاکستان کیلئے موجود چیلنجز کو مد نظر رکھا جانا چاہیے۔ اگرچہ حکام مطمئن ہیں کہ پاکستان کی جانب سے مطلوبہ شرائط پوری کر دی گئی ہیں اور اس اجلاس کے دوران رکن ممالک ان اقدامات کا جائزہ لیں گے اور اس حوالے سے حتمی رپورٹ 25 فروری کو آئے گی ‘ مگر گرے لسٹ سے ہٹائے جانے کی توقع کی بات کی جائے تو گزشتہ برس اکتوبر میں بھی اس قسم کی توقعات تھیں‘ لیکن اس کے باوجود کہ پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کیلئے دیے گئے اہداف کو ایک معمولی فرق کے ساتھ تقریباً مکمل کر لیا گیا تھا ‘ مزید چار ماہ کیلئے گرے لسٹ پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اگرچہ چار ماہ کے دوران کئی نکات پر عمل درآمد ہو چکا ہے مگر فیصلوں کی تاریخ اور رکن ممالک کے میلان کو دیکھا جائے تو خدشات کو رد نہیںکیا جاسکتا‘ بہرحال توقع مثبت رکھنی چاہیے۔