وادیٔ گوجال… قدیم ثقافت کی امین .. خاور نیازی

وادیٔ گوجال چین اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد پر واقع اپنی ثقافت سے پیار کرنے والے لوگوں کی ایک خوبصورت وادی ہے ۔چین کے ساتھ گوجال کی سرحد خنجراب کے مقام پر ملتی ہے جو سطح سمندر سے پندرہ ہزار فٹ بلند ہونے کی وجہ سے سارا سال برف کی دبیز تہوں سے ڈھکی رہتی ہے ۔ پاکستان میں چین کی سرحد کے قریب مسگر گاؤں بھی چین کے صوبے سنکیانگ سے براہ راست ملا ہوا ہے ۔ شمال مغرب میں گوجال کا ایک اہم گاؤں چپورسن ہے جسکی سرحدیں براہ راست افغانستان کے علاقے وافان سے ملتی ہیں ۔وافان کا علاقہ لگ بھگ دو تین کلومیٹر چوڑا ہے جسکے بعد تاجکستان کی سرحد شروع ہو جاتی ہے اس وادی تک رسائی کا سب سے موثر ذریعہ شاہراہ قراقرم ہے جو وادیٔ گوجال سے ہوتے ہوئے خنجراب کے مقام پر چین میں داخل ہوتی ہے ۔
وادی ء گوجال ششکٹ،گلمت،سیسولی، جمال آباد، سوست ،شمشسال اور بوریت وغیرہ جیسے چھوٹے چھوٹے دیہات پر مشتمل ہے ۔
آزادی سے قبل وادیٔ گوجال ریاست ہنزہ کا حصہ ہوا کرتی تھی اور والی ٔ ہنزہ ہی ریاست کے سربراہ ہوا کرتے تھے ۔وادیٔ گوجال کو انتظامی اور معاشی طور پر ایک خاص مقام حاصل تھا ۔گلمت اس وادی کا ایک اہم گاؤں ہے جو ریاست ہنزہ کا گرمائی صدر مقام ہوا کرتا تھا۔ میر آف ہنزہ یہاں پر دربار لگا کر مقدمات کے فیصلے اور علاقائی مسائل کو حل کیا کرتے تھے ۔ قدیم روایات کے مطابق میر آف ہنزہ کے دربار میں علاقائی رقص اور موسیقی کا بندوبست بھی کیا جاتا تھا ، محل کے سامنے کے علاقے میں پولو کے مقابلے بھی کرائے جاتے تھے ۔
ریاست ہنزہ کے خاتمے کے بعد بھی گلمت کی مرکزیت برقرار رہی اور اسے ہنزہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر کا درجہ دے دیا گیا چار ہزار نفوس پر مشتمل گلمت وادیٔ گوجال کی سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے ۔ یہ سیاحت کے اعتبار سے بھی بالائی ہنزہ کا مرکز ہے یہاں سیاحوں کے لئے متعدد ہوٹل بنائے گئے ہیں ۔
پاکستان سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1947ء میں والئی ہنزہ میر محمد غزن خان نے گلمت سے ایک ٹیلی گرام کے ذریعے اپنی ریاست کا الحاق پاکستان سے کرنے کا اعلان کیا۔ 1974 ء میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں سقوطِ ہنزہ واقع ہوا۔اور تب سے لیکر آج تک وادیٔ گوجال انتظامی طور پر ایک تحصیل کی حیثیت سے گلگت بلتستان سب ڈویژن ہنزہ میں شامل ہے ۔ مقامی سطح پر اسے بالائی ہنزہ بھی کہتے ہیں تاہم سرکاری طور پر اسے ''گوجال‘‘ہی کہا جاتا ہے ۔
وادیٔ گوجال کی آبادی 32 ہزار نفوس پر مشتمل ہے ۔اس علاقے میں تین گروہ آباد ہیں ۔وخی، بروشو اور ڈوماکی نسل کے لوگ۔سب سے زیادہ لوگ وخی ہیں جنکی مادری زبان بھی وخی ہی ہے ،دوسرے لوگ بروشو نسل کے ہیں جنکی زبان بروشکی ہے ، تیسرے گروہ کے منفرد ثقافتی پس منظر کے حامل لوگ ڈوماکی کہلاتے ہیں ،یہ ڈوماکی زبان بولتے ہیں ، یہ قلیل تعداد میں ہیں ۔
قدرتی وسائل: وادیٔ گوجال رقبے کے لحاظ سے گلگت بلتستان کی سب سے بڑی تحصیل ہے جو قدرتی وسائل اور معدنی دولت سے مالا مال ہے ۔یہاں کی سرزمین اپنے اندر لا تعداد خزانے سموئے ہوئے ہے ۔یہاں کئی مرتبہ مختلف معدنیات کی موجودگی کی نشان دہی تو کی جاتی رہی ہے لیکن بدقسمتی سے آج تک کبھی بھی سنجیدگی سے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ معدنی اعتبار سے چپورسن وہ واحد علاقہ ہے جو معدنی طور پر انتہائی زرخیز ہے ۔یہاں اعلیٰ معیار کاکوئلہ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ گوادر اور شاہراہ ریشم کی تعمیر کے بعد گوجال اقتصادی راہداری کی شکل اختیار کر چکا ہے جس سے علاقے کی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہونا شروع ہوئے ہیں ۔