قوم کے غم خوار اور مہنگی بجلی ۔۔۔۔ منیر احمد بلوچ

اپوزیشن اتحاد‘ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسوں کی سیریز کے اختتام پر حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیوں کی نوید سنا دی گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ جنوری کے آخر پر لانگ مارچ اور دھرنے کا مژدہ بھی سنایا جا رہا ہے۔پچھلا بیانیہ جب بری طرح پٹ گیا تو اب مہنگائی کا جواز تراشا جا رہا ہے۔ آئے روز اپوزیشن رہنما پریس کانفرنس میں بتاتے ہیں کہ گیس اتنی مہنگی ہو گئی‘ بجلی کے نرخ اتنے بڑھ گئے۔ مہنگائی کی شرح اتنی ہے۔ ویسے تو یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ باتیں یہ ایک دوسرے کے خلاف بھی جلسے جلوسوں میں کرتے رہے ہیں مگر اس حوالے سے ماضی کا ایک سفر کرنا ہو گا تاکہ اصل حقیقت سامنے آ سکے۔
بجلی کے نرخ کب بڑھے‘ اس وقت کس کی حکومت تھی‘ تختِ حکومت پر کون براجمان ہے‘ یہ نتائج آپ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے از خود اخذ کر لیں‘ بس اتنا یاد رکھیں کہ ہم پر جب یہ ظلم ڈھایا گیا تو وہ یکم اپریل 1991ء کی ایک دوپہر تھی اور بجلی کے بلوں میں یکایک 12 فیصد اضافہ کر دیا گیا، قریب آٹھ ماہ بعد جنوری 1992ء میں بجلی 50۔2 فیصد مہنگی کرنے کے صرف ایک ماہ بعد فروری میں دوبارہ بجلی 2.50فیصد مہنگی کر دی گئی، پھر اپریل 92ء میں 16 فیصد بجلی مہنگی ہو گئی اور مارچ 93ء میں ایک بار پھر 2.50فیصد بجلی کی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔ نومبر 94ء میں 24.3 فیصد اور جولائی 95ء میں 21.5 فیصد قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ محض تین‘ چار سالوں میں بجلی کی قیمتیں چار سے پانچ گنا تک بڑھ گئیں۔ اب اگر بجلی کے نرخوں میں اضافے کے مذکورہ اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالیں تو پس منظر میں پی ڈی ایم کے ہیروں سے جڑے ہار میں قوم کے ان مسیحائوں اور عوام کے غم میں گھلے جانے والے ان غمخواروں کے چہرے سامنے آ تے ہیں جو ہمیں موجودہ حکومت سے نجات دلانے کیلئے بے چین ہوئے جاتے ہیں۔ آپ کو شاید ہو کہ جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو اپنی پہلی تقریر میں انتہائی دکھ بھرے لہجے میں وہ یہی کہتے رہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں IPPs کے مہنگے ترین معاہدوں نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان معاہدوں کی قیمت ہم آج بھی گردشی قرضوں کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ بھی شاید آپ کو یاد ہو کہ 2013ء میں میاں نواز شریف کی حکومت نے آتے ہی 480 ارب کے گردشی قرضے یکمشت ادا کیے تھے، نجانے انہیں کس بات کی جلدی تھی کہ کسی کابینہ یا کمیٹی کی منظوری بھی ضروری نہیں سمجھی گئی۔
گریگ پیلاسٹ (Greg Palast) معروف امریکی مصنف ہیں اور انہیں دنیا بھر میں بیسٹ سیلر کتابیں لکھنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ان کا ایک مضمون ہمارے ملک میں مہنگی بجلی کی بنیاد رکھنے کے بہت سے رازوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ گریگ پیلاسٹ کے مطابق: سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی اہلیہ اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی کمپنیاں مختلف ملکوں کے ساتھ اپنی پسند کی شرائط پر بجلی کی فروخت کے معاہدے کرتی ہیں۔ بدلے میں بدعنوان حکمرانوں کو کک بیکس میں شکل میں بھاری رقوم بیرونِ ملک فراہم کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے عوام کے غمخوار اور ہمدرد سیاستدان ہائیڈل پاور سٹیشن منصوبوں کو شجر ممنوعہ قرار دے دیتے ہیں اور ایسا واویلا کرتے ہیں جیسا پانی سے بجلی پیدا کرنا یا ڈیم بنانا انتہائی نقصان کا سودا ہے اور آئی پی پیز ہی مسیحا ہیں۔ 1997ء میں میاں نواز شریف کو بطور وزیراعظم سلیکٹ کرایا گیا تو ایک برس بعد ہی حکومت پاور پلانٹس سے خریدی گئی بجلی کے واجبات ادا کرنے میں ناکام ہو گئی اور نتیجہ سود کی بلند ہوتی شرح کی صورت میں برآمد ہوا۔ ساتھ ہی ان پلانٹس سے خریدی جانے والی نئی بجلی کے بلوں کا بوجھ بھی بڑھانا شروع کر دیا اور پھر ان کمپنیوں کے ''بادشاہ گروں‘‘ نے دبائو ڈال کر حکومت سے زبردستی ادائیگیاں کروائیں اور 1998ء میں اُس وقت کے وزیراعظم نے ایک دفاعی ادارے کے سربراہ سے کہا کہ وہ 36 ہزار افسر اور جوان واپڈا میں بھیجنے کا آرڈر جاری کرے کہ وہ ہر گھر سے بجلی کا بل اکٹھا کریں۔ پھر ہر گائوں، قصبے اور شہر کے گلی محلوں میں جوانوں کو بھیجا جانے لگا جس پر بجلی کمپنی کے ایک حصہ دار نے بے ساختہ کہا کہ اس اقدام سے رقوم کی ادائیگی میں کافی بہتری آئی ہے۔
پاکستان‘ ان غمخواروں کے دور میں گیارہ روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کی قیمت ادا کر رہا تھا، ان سے چند برس پہلے‘ جب ایک ''آمر‘‘ حکمران تھا تو خیبر سے کراچی تک‘ پاکستان کی ملیں اور کارخانے تین تین شفٹوں میں کام کیا کر تے تھے‘ بہت کم لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی‘ بجلی کے بل پر ہر صارف کو حکومت کی طرف سے سبسڈی دی جاتی تھی۔ اب لوڈشیڈنگ کیوں کی جاتی ہے‘ کیا ہمیں بجلی کی کمی درپیش ہے یا یہ چند مفاد پرستوں کا کیا دھرا ہے؟ سوال کیا جاتا ہے کہ بجلی تو ہمارے پاس وافر مقدار میں موجود ہے‘ پھر پوری قوم پر شدید لوڈ شیڈنگ اور بھاری بلوں کا عذاب کیوں لادا گیا؟ جب آج کا اپوزیشن اتحاد ہم پر حکمرانی کرتا تھا‘ اگر اس وقت بجلی کی پیداوار کا جائزہ لیں تو یہ صورتحال سامنے آتی ہے کہ ہائیڈل پاور منصوبوں میں تربیلا سے 3478 میگا واٹ، منگلا سے 1000 میگا واٹ، غازی بروتھا سے 1450 میگا واٹ، وارسک سے 243 میگا واٹ، چشمہ سے 184 میگا واٹ، درگئی سے 20 میگا واٹ، نندی پور سے 14 میگا واٹ، شادی وال سے 18 میگا واٹ، رسول ہائیڈل پاور سے 22 میگا واٹ، کرم گڑھی سے 4 میگا واٹ، رینالہ پور سے 1 میگا واٹ، چترال سے 1 میگا واٹ، جگران آزاد کشمیرسے 30 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی۔ اسی طرح تھرمل منصوبوں میں فیصل آباد تھرمل 372 میگا واٹ، ملتان تھرمل 195 میگا واٹ، مظفر گڑھ تھرمل 1350میگا واٹ، گدو تھرمل 1655 میگا واٹ، جام شورو تھرمل 850 میگا واٹ، لاڑکانہ تھرمل 150 میگا واٹ، کوئٹہ تھرمل پاور 35 میگا واٹ، گیس ٹربائن کوٹری 174 میگا واٹ، گیس ٹربائن پنچگور 39 میگا واٹ، پسنی تھرمل پاور 17 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے تھے۔ کراچی میں کے ای ایس سی کے تحت کورنگی تھرمل سے 316 میگا واٹ، کورنگی گیس ٹربائن سے 80 میگا واٹ، بن قاسم تھرمل پاور سے 1260 میگا واٹ اور گیس ٹربائن سائٹ سے 100میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان اٹامک انرجی سے 462 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی تھی۔ یعنی ہائیڈل منصوبوں سے 6465 میگا واٹ، تھرمل سے4837 میگا واٹ، کراچی الیکٹرک سے 1756 میگا واٹ، ملک کے مختلف حصوں میں پھیلے 18 آئی پی پیز سے 6335میگا واٹ اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے 462 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی تھی۔ اس طرح پاکستان کل 19ہزار 855 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ ملک بھر میں اس وقت بجلی کی کل ڈیمانڈ 15ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ تھی۔ اس کے با وجود ملک بھر میں دس سے پندرہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کیوں؟ پاور لومز اور ٹیکسٹائل ملیں کیوں بند رہیں؟ مارکیٹس اور شاپنگ پلازے کیوں بند کرائے جاتے تھے؟ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں تھی کہ6365 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز پاکستان سٹیٹ آئل سے فرنس آئل خریدنے سے انکاری تھے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے کروڈ آئل کی خرید بند کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بڑی بڑی ریفائنریز اس وقت صرف چالیس فیصد پیداوار دے رہی تھیں اور ادارے خسارے کا شکار ہو رہے تھے مگر نہ تو معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی اور نہ ہی دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار پر توجہ دی گئی۔ یہ دونوں کام اس حکومت نے آ کر کیے اور شاید یہی ان جماعتوں کے غصے اور حکومت کو گرانے کی اصل وجہ ہے۔