خوشی ۔۔۔۔ معصومہ مبشر

ایک وقت تھا خوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔
دوستوں سے ملکر، عزیز رشتہ داروں سے ملکر، نیکی کرکے، کسی کا راستہ صاف کرکے،کسی کی مدد کرکے۔
خربوزہ میٹھا نکل آیا، تربوز لال نکل آیا، آم لیک نہیں ہوا،۔ٹافی کھا لی، سموسے لے آئے، جلیبیاں کھا لیں،۔
باتھ روم میں پانی گرم مل گیا، داخلہ مل گیا، پاس ہوگئے، میٹرک کرلیا، بی اے کر لیا، دعوت کرلی، شادی کرلی۔
عمرہ اور حج کرلیا، چھوٹا سا گھر بنا لیا، امی ابا کیلئے سوٹ لے لیا، بہن کیلئے جیولری لے لی، بیوی کیلئے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے۔
اولاد آگئی اولاد بڑی ہوگئی، انکی شادیاں کردیں نانے نانیاں بن گئے ،دادے دادیاں بن گئے ۔
سب کچھ آسان تھا اور سب خوش تھے پھر ہم نے پریشانی ڈھونڈنا شروع کردی، بچہ کونسے سکول داخل کرانا ہیں، پوزیشن کیا آئے، نمبر کتنے ہیں،جی پی اے کیا ہے؟
لڑکا کرتا کیا ہے، گاڑی کونسی ہے، کتنے کی ہے، تنخواہ کیا ہے، کپڑے برانڈڈ چاہیئں یا پھر اس کی کاپی ہو۔؟
جھوٹ بولنا پھر اسکا دفاع کرنا، ہم سے ہمارے دور ہوگئے،گھر اوقات سے بڑے ہو گئے، ذرائع آمدن نہیں بڑھے پر گاڑیاں، موٹر سائیکل، ٹی وی، فریج، موبائل آگئے سب کے کریڈٹ کارڈ آگئے پھر ان کے بل، پھر بچوں کی وین، بچوں کی ٹیکسی، بچوں کا ڈرائیور، بچوں کی گاڑی، بچوں کے موبائل، بچوں کے کمپیوٹر،
بچوں کے لیپ ٹاپ،بچوں کے ٹیبلٹ، وائی فائی، گاڑیاں، جہاز، فاسٹ فوڈ، باہر کھانے، پارٹیاں،پسند کی شادیاں، دوستیاں، طلاق پھر شادیاں، بیوٹی پارلر، جم، پارک،اس سال کہاں جائیں گے،؟
یہ سب ہم نے اختیار کئے اور اپنی طرف سے ہم زندگی کا مزا لے رہے ہیں ۔کیا آپ کو پتہ ہے آپ نے خوشی کو کھودیا ہے۔ جب زندگی سادہ تھی تو خوشی کی مقدار کا تعین ناممکن تھا ۔اب اسی طرح دھوم دھڑکا تو بہت ہے پر پریشانی کا بھی کوئی حساب نہیں۔
اپنی زندگی کو سادہ بنائیں، تعلق بحال کیجئے، دوست بنایئے، دعوت گھر پر کیجئے، بے شک چائے پر بلائیں، دورہونے والے سب چکر چھوڑ دیجئے، سوشل میڈیایہ سب دوری کے راستے ہیں- آمنے سامنے بیٹھیے، دل کی بات سنیئے اور سنائیے، مسکرائیے۔ یقین کیجئے خوشی بہت سستی مل جاتی ہے بلکہ مفت، اور پریشانی تو بہت مہنگی ملتی ہے۔آئیے پھر سے خوش رہنا شروع کرتے ہیں۔