قیام دیر و طواف حرم نہیں کرتے
زمانہ ساز تو کرتے ہیں ہم نہیں کرتے

تمہاری زلف کو سلجھائیں گے وہ دیوانے
جو اپنے چاک گریباں کا غم نہیں کرتے

اتر چکا ہے رگ و پے میں زہر غم پھر بھی
بہ پاس* عہد وفا چشم نم نہیں کرتے

یہ اپنا دل ہے کہ اس حال میں بھی زندہ ہیں
ستم کچھ اہل ستم ہم پہ کم نہیں کرتے

گرفتہ دل ہیں بتان حرم کہ اب شاعر
نشاط* و عیش کے ساماں بہم نہیں کرتے

سنا رہے ہیں جہاں کو حدیث دار و رسن
حکایت قد و گیسو رقم نہیں کرتے

وہ آستان شہی ہو کہ آستانۂ دوست
یہ اب کہیں سر تسلیم خم نہیں کرتے
احمد راہی