آشوب آگہی ۔۔۔ ادا جعفری
جیسے دریا کنارے

کوئی تشنہ لب

آج میرے خدا

میں یہ تیرے سوا اور کس سے کہوں

میرے خوابوں کے خورشید و مہتاب سب

میرے آنکھوں میں اب بھی سجے رہ گئے

میرے حصے میں کچھ حرف ایسے بھی تھے

جو فقط لوح جاں پر لکھے رہ گئے