*کہیں جانے والے واپس ہی نہ لوٹ آئیں*


عام آدمی تبدیلی کا نام لیتے ہوئے بھی ڈر رہا ہے کہ کہیں جانے والے واپس ہی نہ لوٹ آئیں۔ تبدیلی نے اتنا خوفزدہ کیا ہے کہ لوگ بچوں کے بیگ تبدیل کرتے ہوئے بھی سوچتے ہیں کہ کہیں دھوکہ ہی نہ ہو جائے، لوگ گاڑیاں بدلتے ہوئے بھی ہزار مرتبہ سوچتے ہیں کہ گاڑی بدلوں اور نئی گاڑی چلنے سے ہی انکار کر دے۔ ایک دوست کو موبائل بدلنے کا بہت شوق تھا وہ ہر چند ماہ بعد موبائل بدل لیتا تھا اب گذشتہ ڈیڑھ سال سے ایک ہی موبائل استعمال کر رہا ہے۔ اس سے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے۔ کہنے لگا کہ یہ موبائل اچھا بھلا چل رہا ہے اسے بدل لوں نئے کا کیا بھروسہ چلے چلے نہ چلے نہ چلے۔ میں نے پوچھا کچھ عرصہ پہلے تک تو تمہیں موبائل بدلنے کی جلدی ہوتی تھی اب تم یکسر بدل گئے ہو ،کہنے لگا چودھری صاحب بدل نہیں گیا سدھر گیا ہوں عقل آ گئی۔ آپ دیکھ نہیں رہے کہ تبدیلی نے پورے ملک کا کیا حال کر دیا ہے۔ اگر مجھے کروڑوں لوگوں کی حالت دیکھ کر بھی عقل نہ آئے، میں سبق حاصل نہ کروں تو اپنا نقصان ہی کروں گا۔ ملک گیر تبدیلی سے عام آدمی کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں اس کا اخلاقی سبق یہی کہ تبدیلی کی خواہش نہ کریں اگر سکون چاہتے ہیں تو جو ہے جیسا ہے کی بنیاد پر چلنے دیں۔ بس یہی سوچ کر موبائل بدلنے کی عادت ہی بدل لی ہے۔ چودھری صاحب آپ بھی احتیاط کریں، خود بھی تبدیلی سے بچیں، گھر والوں کو بھی بچائیں