بے نشانوں کے نشان‘‘ از مظہر محمود شیرانی کی کتاب میں لکھا ایک واقعہ

’کشمیر کی جنگ آزادی میں ایک رات ساٹھ ستر قبائلی مجاہدین نے پٹھانوں کی مخصوص قسم کھائی جو زن طلاق کہلواتی ہے کہ کل رات اگر پونچھ کو فتح نہ بھی کر سکے تو اس کے گیٹ کو آگ ضرور لگائیں گے ۔ اس قسم کا صاف مطلب تھا کہ اگر ہم اپنی قسم پوری نہ کر سکے تو ہماری بیویوں کو طلاق ہے ۔ بہرحال اگلے روز انہوں نے صبح سے شام تک بہتیری جان لڑائی مگر بے سود۔ سورج غروب ہونے کو آیا تو انہیں بھی اپنی قسم کی فکر ہوئی ۔ شہر پونچھ کے پھاٹک کے قریب جھیوڑ کا جھونپڑا تھا۔ اس نے بھاڑ جھونکنے کیلئے سوکھی ٹہنیوں کا انبار جمع کر رکھا تھا۔ مجاہدین نے انہیں گھسیٹ کر پھاٹک کے قریب کیا اور آگ لگا دی ۔ جھیوڑ کی بیوی نے بہتیری دہائی دی کہ ہم مسلمان ہیں ، ہمارا نقصان کیوں کرتے ہو ؟ ادھر سے جواب ملا ۔ اوہ مائی ! مسلمان ہیں تو کیا کریں ، تم کو پتہ نہیں ادھر ہمارا زن طلاق ہوتا ہے ۔ ان مجاہدین نے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر حساب لگایا تو پتہ چلا کہ ان زن طلاق کی قسم اٹھانے والوں میں ایک بھی شادی شدہ نہ تھا