نتائج کی نمائش 1 تا: 6 از: 6

موضوع: سوار محمد حسین شہید

  1. #1
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    337
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    سوار محمد حسین شہید

    [size=large][align=center]جس کے ہر قطرے میں خورشید کئی
    جس کی ہر بوند میں اک صبح نئی
    دور جس صبح درخشاں سے اندھیرا ہو گا
    رات کٹ جائے گی گُل رنگ سویرا ہو گا
    رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[/align][/size]

    کرنل طفیل محمد نے اپنے سامنے کھڑے بائیس تئیس سالہ فوجی جوان کا سیلوٹ وصول کیا اور دبنگ لہجے میں پوچھا:
    “کیا بات ہے جوان؟“
    “ سر۔۔۔۔۔۔۔۔“ جوان نے مخصوص فوجی لہجے میں کہا۔ “ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کو اپنے جوانوں کو اسلحہ سپلائی کے لئے رضاکارانہ خدمت کی ضرورت ہے؟“
    “ ہاں۔۔۔۔۔ درست ہے۔۔۔۔“ کرنل صاحب نے اسے غور سے دیکھا۔
    “سر۔۔۔۔میں اس خدمت کے لئے خود کو پیش کرتا ہوں!“
    “تم کس رجمنٹ سے ہو جوان؟“
    “لانسر رجمنٹ سے سر!“
    “ مگر تم خاص طور پر یہ کام کیوں کرنا چاہتے ہو؟“
    “ میں محاذ سے دور اپنی گاڑی میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا سر۔۔۔۔ میں اپنے جوانوں کو اسلحہ سپلائی کر کے اپنا فرض ادا کرنا چاہتا ہوں۔“
    “ اور کچھ؟“ کرنل صاحب نے متاثر ہو کر پوچھا۔
    “ نو سر۔“ جوان نے بلند آواز میں جواب دیا۔
    “ پرمیشن گرانٹڈ۔“
    “ تھینک یو سر۔“ جوان کے چہرے پر خوشی کی سرخی چھلک اٹھی۔ اس نے ایڑیاں بجا کر سیلوٹ کیا اور متعلقہ شعبے کی طرف بڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد وہ اسلحہ کی گاڑی لے کر اپنے فوجیوں کی طرف روانہ ہو گیا جو دشمن کے سامنے سینہ سپر تھے۔ اسلحہ کی سپلائی اس کی ڈیوٹی نہ تھی مگر وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا قائل نہ تھا۔
    یہ فوجی جوان سوار محمد حسین شہید تھے جو 18 جون 1948 کے دن ڈھوک پیر بخش میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق جنجوعہ راجپوت خاندان سے تھا جو پندرہ سے بارہ میل دور ڈھوک میں عرصہ سے آباد تھے۔ ان کے خاندان کے اکثر لوگوں نے فوج میں ملازمت کی اور اعلٰی عہدوں پر فائز رہے۔ ان کے نانا حوالدار احمد خان نے پہلی جنگ عظیم میں برطانوی حکومت کے دور میں اعلٰی خدمات انجام دینے پر چار میڈل حاصل کئے۔ ان کے ایک خاندانی عزیز شہامد خان نے دوسری جنگِ عظیم میں فوجی خدمات پر وکٹوریہ کراس حاصل کیا تھا۔ ان کے والد روز علی زمیندار تھے اور ڈھوک ہی میں کھیتی باڑی کرتے تھے۔
    سوار محمد حسین شہید نے قرآن پاک گھر میں ختم کیا اور پرائمری سکول جھنگ پھیرو میں ابتدائی تعلیم کے لئے داخل کرا دئیے گئے۔ یہاں سے پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد دیوی ہائی سکول سے انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا مگر ایک مضمون میں فیل ہو گئے۔
    اسی دوران 1965 کی جنگ ستمبر چھڑ گئی۔ گھر والوں نے بہت اصرار کیا کہ سوار محمد حسین تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں مگر انہوں نے آگے پڑھنے سے انکار کر دیا۔ 1966 میں جاملی کے مقام پر فوج میں عام بھرتی کا اعلان کیا گیا۔ سوار محمد حسین اپنے ایک دوست دل پذیر کے ساتھ جاملی ریسٹ ہاؤس میں ریکروٹنگ آفیسر کے سامنے بھرتی کی غرض سے پیش ہوئے۔ دونوں کو منتخب کر لیا گیا۔ سوار محمد حسین کی نیلی آنکھوں، کسرتی بدن اور اخلاق سے بھرپور گفتگو نے ریکروٹنگ آفیسر کو بہت متاثر کیا اور ان کی انہی خوبیوں نے انہیں فوجی سپاہی بھرتی ہونے میں مدد بھی دی۔
    1968 میں سوار محمد حسین کی شادی ان کی خالہ زاد ارزاں بی بی سے کر دی گئی۔ ارزاں بی بی سے سوار محمد حسین کے دو بچے پیدا ہوئے۔ پہلے بیٹی رخسانہ اور بعد میں بیٹا منور محمد۔ بیٹے کی پیدائش کے وقت وہ سیالکوٹ میں تعینات تھے۔ اس خوشی میں انہوں نے پوری یونٹ کو مٹھائی کھلائی تھی۔
    طبعاََ سوار محمد حسین نڈر، بے باک اور بہادر تھے۔ مطالعے کا ذوق تھا اور دینی کُتب بڑے شوق و اہتمام سے پڑھتے تھے۔ دودھ، دہی، لسی کے شوقین تھے اور خوش مزاجی و خوش اخلاقی ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔
    دینی رحجان نے ان کو بزرگانِ دین کی عقیدت سے لبریز رکھا۔ درویش منش سوار محمد حسین جب کبھی گاؤں آتے تو اپنے مرشد کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے۔ صوم و صلٰوۃ کی پابندی ایک ایسا وصف تھا جو ان کو دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔
    1971 کی جنگ شروع ہوئی تو سوار محمد حسین شہید اس وقت شکر گڑھ سیکٹر میں تھے۔ ان کا یونٹ موضع “ باہر“ کے گاؤں میں متعین تھا۔ اس مقام پر سوار محمد حسین نے اپنے فوجی جوانوں کو اسلحہ سپلائی کے فرائض بڑی تندہی، مستعدی اور جوش سے ادا کئے حالانکہ یہ کام ان کی ڈیوٹی میں شامل نہ تھا۔ وہ تو گاڑی میں وائرلیس پر بیٹھے صرف احکامات وصول کرنے کے پابند تھے مگر انہیں خالی بیٹھے رہنے سے اس وقت شدید الجھن ہونے لگی جب وہ دوسرے لوگوں کو سر گرمی سے ادھر ادھر آتے جاتے اور لہو گرم رکھنے کے حامل کاموں میں مصروف دیکھتے، بالآخر وہ رہ نہ سکے اور اپنے کمانڈنگ آفیسر کرنل طفیل محمد کے پاس جا پہنچے اور خصوصی درخواست کر کے اپنی ڈیوٹی رضاکارانہ طور پر اسلحہ سپلائی پر لگوا لی تاکہ وہ عملی طور پر بھی جنگ میں حصہ لے سکیں۔
    جب کمانڈنگ آفیسر کے خصوصی احکامات پر انہیں اسلحہ سپلائی کے فرائض تفویض کئے گئے تو ساتھ ہی ایک سٹین گن بھی ان کے ہاتھ میں تھما دی گئی تاکہ دوران ادائیگی فرض وہ اپنی حفاظت اور دشمن کی مرمت کر سکیں۔ یوں اسلحہ سے لیس سوار محمد حسین نے جنگ 1971 میں عملی جہاد کے میدان میں قدم رکھ دیا۔
    کمانڈنگ آفیسر کرنل طفیل محمد کو اعلٰی حکام نے اس روز یہ حکم دیا کہ نالہ ڈیک اور بیئیں کے درمیان 14 میل کے ایریا میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کر لیں۔ فوجی نقطہ نظر سے یہ کام بے حد اہم اور عملی طور پر بے حد مشکل تھا کیونکہ دشمن کی شدید گولہ باری میں ہر قدم پر خطرہ ہی خطرہ تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔ پاک فوج کے جوان کب کسی بھی مشکل کو خاطر میں لاتے ہیں۔ انہوں نے اس ناممکن کو بھی ممکن کر دکھایا اور فوجی حکام کے عندیے کی تکمیل شروع ہو گئی۔
    جنگ کے دوران حربی مصلحتوں کا تقاضہ یہ تھا کہ دشمن کو اس علاقے سے دور روک کر رکھا جائے۔ چنانچہ تعداد میں کہیں زیادہ اور جدید اسلحہ سے لیس بھارتی فوج کو 5 سے 9 دسمبر 1971 تک اس علاقے کے پار اس طرح روکے رکھا کہ وہ ایک قدم آگے نہ بڑھ سکےاس دوران دشمن نے بارہا حملے کئے۔ مسلسل دباؤ بڑھاتا رہا مگر تابڑ توڑ حملوں کے باوجود اسے ہر بار منہ کی کھانا پڑی۔ پسپائی جیسے اس کے نصیبوں میں لکھی تھی جو ہر بار اسے مزید پیچھے دھکیل دیتی۔
    سوار محمد حسین اس عرصے میں بڑی سرگرمی کے ساتھ دشمن کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے میں مصروف رہے۔ ان کے جوش و جذبہ کا عالم یہ تھا کہ ایک دن تن تنہا ایک مورچے میں بیٹھ کر دشمن پر دھواں دھار فائرنگ شروع کر دی۔ ان کی جان اس سارے عرصے میں مسلسل خطرے میں تھی مگر جب وہ اپنے مورچے سے نکل کر اپنے یونٹ میں واپس آئے تو دشمن کے درجن بھر فوجیوں کو ہلاک کر چکے تھے۔
    واپس آ کر انہوں نے اپنے کمانڈنگ آفیسر کو بتایا کہ وہ دشمن کے درجن بھر سے زائد سپاہیوں کو جہنم رسید کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پوزیشن کا پورا نقشہ بھی بنا لائے ہیں تو کرنل طفیل محمد نے انہیں شاباش دی۔ پھر ان کی بتائی ہوئی پوزیشن کے مطابق دشمن کو نشانے پر رکھا گیا تو اسے ایسا جانی و مالی نقصان پہنچا جس میں ٹینکوں کی تباہی، بارود کی بربادی اور دوسرے اسلحے کا زیاں شامل تھا۔ اس معرکے میں سوار محمد حسین نے دشمن کے 16 شرمن اور سنچورین ٹینک خود تباہ کئے جو ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔
    اسی روز پاک فوج نے کجگل کے مورچے پر قبضہ کر لیا۔ دشمن سر توڑ کوشش کے باوجود یہ مورچہ واپس نہ لے سکا۔ اس دوران ہرڑ کلاں اور ہرڑ خورد کے بالمقابل 2500 گز کے وسیع و عریض علاقے میں پاکستانی فوج کے صرف تین سکواڈرن تھے جو اپنے سے کئی گنا بڑی بھارتی فوج پر مسلسل ضرب لگا رہے تھے۔ اسے نقصان پہنچا رہے تھے۔ اس کی آگے بڑھنے اور دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا رہے تھے۔ ان میں سے درمیانی سکواڈرن میں سوار محمد حسین بھی شامل تھے اور وہ اپنی گن سے دشمن کو تاک تاک کر نشانہ بنا رہے تھے۔
    صورتِ حال کا تقاضہ اب یہ تھا کہ پاک فوج نالہ چو اور اس ے ملے ہوئے دیگر دو نالوں پر مورچہ بندی کر کے اپنی پوزیشن مستحکم کرے ورنہ دشمن کا بڑھتا ہوا دباؤ کسی بھی وقت ناگہانی صورتحال کا جنم دے سکتا تھا۔ اس کی پیش قدمی اگر شروع ہو جاتی تو پھر اسے روکنے کے لئے ضرورت سے زیادہ طاقت خرچ کرنا پڑتی جو ان حالات میں ممکن نہ تھا۔ اس علاقے میں سب سے بڑی خطرناک بات یہ تھی کہ ہر طرف بارودی سرنگیں بچھی تھیں۔ اس خاص مشکل کی آڑ میں دشمن نے بالآخر پیش قدمی شروع کر دی اور تھوڑی دیر بعد ہرڑ خورد پر قبضہ مستحکم کر لیا۔ یہ بے حد خطرناک صورتِ حال تھی جو پاک فوج کے لئے ایک چیلنج بنتی جا رہی تھی۔
    سوار محمد حسین شہید 9 دسمبر 1971 کو گشت پر تھے جب موضع ہرڑ خورد میں ایک گاؤں “ کھیڑا“ پہنچے تو ان کو دشمن کا ایک خفیہ ٹھکانہ دکھائی دے گیا۔ انہوں نے اپنی سٹین گن نکالی اور دشمن پر فائرنگ شروع کر دی۔ دشمن کے کئی فوجی ہلاک کرنے کے بعد وہ پلٹے اپنی رجمنٹ میں آ کر اپنے سیکنڈ ان کمانڈ میجر امان اللہ کو اس واقعے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ موضع ہرڑ خورد میں بھارتی فوج اپنی مائن فیلڈ کے ساتھ ہم پر حملے کے لئے پر تول رہا ہے۔
    میجر صاحب نے فوری طور پر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے جوانوں کو مستعد کر دیا۔ ابھی یہ تیاری ہو رہی تھی کہ بھارتی فوج نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس نے سب سے پہلے ٹینکوں سے یلغار کی جسے پاک فوج کے بہادر سپاہیوں نے ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد بھارتی پیدل فوج کے دستے آگے بڑھے جو موضع ہرڑ خورد کے انتۃائی مقام تک آ پہنچے۔ یہاں ایک ایسی رکاوٹ موجود تھی جس کے باعث دشمن فوج اور پاکستانی دستوں کے لئے ایک دوسرے کو دیکھ لینا ممکن نہ تھا۔ یہ رکاوٹ تھی نالہ چو کا وہ ڈیم یا بند جو خاصا اونچا تھا اور دونوں افواج کے درمیان دیوار کی طرح حائل تھا۔ اس صورت حال میں دونوں طرف کے اینٹی ٹینک ٹروپس بھی مفلوج ہو کر رہ گئے۔
    یہ 10 دسمبر 1971 کا تاریخی دن اور سہ پہر کا وقت تھا۔ نازک صارتِ حال اس قدر اعصاب شکن تھی کہ سوار محمد حسین شہید حسبِ عادت اسے برداشت نہ کر سکے۔ انہوں نے بے مثال جرات و شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مورچے سے باہر قدم رکھا اور فائرنگ سے حتی الامکان پرہیز کرتے ہوئے خاموشی سے دشمن کے اگلے مورچوں تک چلے گئے۔ دشمن کی ساری مورچہ بندی اور ٹروپس کا جائزہ لیا اور لوٹ آئے۔
    واپس آ کر انہوں نے اپنی رجمنٹ کے ٹینک ٹروپس کی پوزیشن تبدیل کی اور اسے بائیں طرف سے دائیں طرف لے آئے۔ ان کو پوری طرح علم ہو چکا تھا کہ بھارتی فوج کے دستے ہرڑ خورد میں کس مقام پر جمع ہو رہے ہیں تاکہ پاک فوج پر حملہ کرنے کے لئے اپنی قوت کو مجتمع کر سکیں۔
    پھر اس سے پہلے کہ بھارتی فوج کوئی عملی قدم اٹھاتی، سوار محمد حسین شہید نے اپنے ٹینک ٹروپس اور آرٹلری کی راہنمائی کرتے ہوئے دشمن پر بھرپور حملہ کر دیا جس کی اسے نہ توقع تھی نہ وہ اس کے لئے تیار تھا کیونکہ وہ تو خود حملہ کرنے کی پوزیشن میں تھا اور چند لمحوں بعد حملہ کرنے والا تھا۔
    اچانک اور اس قدر شدید حملے نے دشمن کے اوسان خطا کر دئیے۔ وہ حبط الحواس سا ہو گیا۔ اسے اپنے نقصان کا علم اس وقت ہوا جب قیامت اس کے سر سے آ گر گزر چکی تھی۔ دھماکوں اور فائرنگ کی آواز نے ذرا دم لیا تو اسے پتہ چلا کہ اس کے 18 جدید ترین ٹی پچپن ٹینک نیست و نابود ہو چکے ہیں۔ مارے جانے والے فوجی اور زخمیوں کا شمار اس وقت ممکن نہ تھا اور یہ ساری کاروائی محض چند منٹ پر محیط تھی۔ سوار محمد حسین شہید کی بروقت اور درست راہنمائی کی مرہونِ منت تھی جس کے لئے انہوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی پوزیشن معلوم کی تھی۔
    پاکستانی توپ خانہ مسلسل دشمن پر زبردست گولہ باری کر رہا تھا۔ اس گولہ باری سے دشمن کی انفنٹری بٹالین کے پرخچے اڑ گئے۔ جب بھی دشمن کا کوئی ٹنک تباہ ہوتا، کوئی توپ خاموش ہوتی یا اس کے مورچوں کے چھیتھڑے اڑتے، سوار محمد حسین شہید اپنی جگہ سے اٹھ کر جوشِ ایمانی سے لبریز نعرہ تکبیر اور نعرہ حیدری اس طرح بلند کرتے کہ دشمن کے دلوں پر ہیبت چھا جاتی اور صحیح لگتا ہوا نشانہ بھی اس کے کانپ جانے والے ہاتھوں سے غلط ہو جاتا۔
    اسی دوران ایک لمحہ ایسا آیا جب اللہ نے اپنے نام لیوا کو طلب کر لیا۔ اسے اس پر اس قدر پیار آیا کہ مزید دوری کا حکم سمیٹ لیا گیا۔

  2. #2
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    337
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    RE: سوار محمد حسین شہید

    اس وقت سوار محمد حسین شہید اپنی ٹینک شکن گن کے گنر کو دشمن کی پوزیشن بتا رہے تھے کہ دشمن کے ایک ٹینک سے مشین گن نے فائرنگ کی۔ گولیوں کی بوچھاڑ آئی اور سوار محمد حسین شہید کا سینہ چھلنی کرتی ہوئی نکل گئی۔
    آخری بار سوار محمد حسین شہید نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور اپنے اللہ کے بلاوے پر لبیک کہہ دیا۔
    ان کی شہادت کے چند منٹ بعد پاک فوج نے دشمن پر فتح حاصل کر لی اور اسے شکست کے مفہوم سے اس طرح آشنا کیا کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی پاک فوج سے ٹکر نہ لینے کی وصیت کر گیا ہو گا۔
    سوار محمد حسین شہید کے کمانڈنگ آفیسر کرنل طفیل محمد نے بتایا کہ:
    “ اگلے مورچوں پر جب پاک فوج دشمن کو نیست و نابود کرنے کے لئے تابڑ توڑ حملوں میں مصروف تھی تو میرے سیکنڈ ان کمانڈ میجر امان اللہ نے وائرلیس پر مجھے سوار محمد حسین شہید کے اس عظیم کارنامے کی خبر دی اور ساتھ ہی ان کی شہادت کی اطلاع دی۔ میں نے جب انا للہ وانا الیہ راجعون کہا تو میجر امان اللہ نے پُر زور الفاظ میں کہا کہ سر۔۔۔۔۔۔۔۔ سوار محمد حسین شہید صرف ایک ہی اعزاز کا حق دار ہے اور وہ ہے نشانِ حیدر۔۔۔۔۔ اس کی بہادری کے لئے اس سے کم اعزاز نا مناسب ہو گا۔۔۔۔۔۔ اور اپنے سیکنڈ ان کمانڈ کی وہ بات گواہی تھی جس پر کوئی اعتراض، کوئی شبہ نہ کر سکتا تھا لہٰذا سوار محمد حسین شہید کو نشانِ حیدر دیا گیا۔“
    4 فروری 1972 کو سہ پہر کے وقت پاکستان کی بری افواج کے کمانڈر انچیف جنرل گل حسن خان نے افواجِ پاکستان کی طرف سے سوار محمد حسین شہید کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہید کو سلامی پیش کی۔
    جنرل گل حسن خان سورا محمد حسین شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے خصوصی طور پر بذریعہ ہیلی کاپٹر ان کے آبائی گاؤں ڈھوک پیر بخش پہنچے تھے۔
    اس خصوصی تقریب میں سوار محمد حسین شہید کے بہت سے رشتہ داروں اور گاؤں والوں نے شرکت کی۔ ان سب کے سینے اپنے شہید کے ذکر اور نام پر فخر سے پھولے ہوئے تھے۔ جنرل گل حسن نے سوار محمد حسین شہید سے باتیں کرتے ہوئے شہید کی ثابت قدمی، بہادری اور شجاعت کی بے حد تعریف کی اور ان کی شہادت کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا:
    “ سوار محمد حسین شہید کی قربانی پر ساری قوم کو فخر ہے۔“
    قبر پر حاضری اور سلامی کے بعد جنرل گل حسن، سوار محمد حسین شہید کے مکان پر گئے۔ وہاں انہوں نے سوار محمد حسین شہید کی والدہ اور بیوہ سے ملاقات کی اور شہید کے دونوں بچوں کو بے حد پیار کیا۔ یہ ایسا رقت آمیز منظر تھا کہ ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ جنرل گل حسن نے اپنی طرف سے سوار محمد حسین شہید کی بیوہ اور باپ کو تین ہزار روپے کا چیک اور تعریفی اسناد پیش کیں جو نشانِ حیدر کے علاوہ تھیں۔
    سوار محمد حسین شہید کو نشانِ حیدر دیا گیا۔ ان کے سلسلے میں یہ اعزاز اس لئے ایک خاص اور انفرادی اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے پہلے نشانِ حیدر صرف آفیسرز کے حصے میں آیا تھا لیکن سوار محمد حسین شہید نے ایک سپاہی کی حیثیت سے جرات، فرض شناسی اور ان مٹ بہادری سے ایک کارنامہ سر انجام دے کر یہ اعزاز حاصل کیا۔
    سوار محمد حسین کے والد کو جب ان کی شہادت کی خبر ملی تو وہ گھر پر نہ تھے، ساتھ کے گاؤں میں کسی کام سے گئے ہوئے تھے۔ خبر سن کر انہوں نے بے اختیار “ اللہ اکبر“ کا نعرہ بلند کیا اور گھر والوں کو رونے دھونے سے فوراََ منع کر دیا۔ انہوں نے صاف اور واضح الفاظ میں کہا:
    “محمد حسین نے شہید ہو کر میری ہی نہیں میرے پورے خاندان کی عاقبت سنوار دی ہے۔ اس نے ملک کے دفاع میں جان دی ہے۔ اگر میرے اور بھی بیٹے ہوتے تو میں ان کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا۔ وہ شہید ہو کر اپنی اس آرزو کی تکمیل سے ہمکنار ہوا جو ہمیشہ اس کے پیشِ نظر رہتی تھی۔“
    کمانڈنگ آفیسر کرنل طفیل محمد نے سوار محمد حسین شہید کی شہادت پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:
    “سوار محمد حسین کی مردانگی، جرات اور فرض شناسی نے دشمن کو جو نقصان پہنچایا اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے زخم چاٹتا رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہرڑ خورد کی فتح کا سہرا سوار محمد حسین شہید کے سر ہے۔“
    ان کی رجمنٹ میں شامل صوبے دار امیر خاں ملک اے۔ای۔سی نے ان کی بہادری کا چشم دید واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا:
    “آگ اور دھویں کے بادل ہر طرف چھائے ہوئے تھے۔ اس طوفانی صورتحال میں سوار محمد حسین شہید اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر اگلے مورچوں کے درمیان بھاگ بھاگ کر شجاعت کے نئے باب رقم کر رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اسے دنیا کے رسمی، حفاظتی اور دفاعی انتظامات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ شہادت سے پہلے ہی وہ بارہا اپنی شجاعت اور بے باکی کے کئی باب لکھ چکا تھا جو اس کے ساتھیوں اور افسروں کو ازبر تھے۔ 9 دسمبر 1971 کے دن شام تک یونٹ کا ہر بڑا چھوٹا اس کی ہمت، دلیری اور لگن کا قائل ہو چکا تھا۔“
    سوار محمد حسین شہید کی گفتگو بہت دلنشین ہوا کرتی تھی۔ صاف گوئی اور بے باکی ان کا طرہ امتیاز تھی۔ ان کی آواز بے حد رسیلی تھی اور جب وہ گاؤں آتے تو دوستوں میں بیٹھ کر اکثر لوک گیت گایا کرتے۔ محرم الحرام کے دنوں میں جب وہ مرثیے اور نوحے پڑھتے تو سننے والوں کے دل اندوہ، رنج اور غم سے پھٹنے کو آ جاتے۔ واقعہ کربلا ان کی زندگی کے لئے مشعل راہ تھا۔ وہ جب بھی اس واقعے کی جزئیات پڑھتے تو تفصیلات ان کے لبوں سے یوں جاری ہوتیں جیسے وہ ایک ایک منظر کے محرم ہوں۔
    مہمان نوازی اور دوست پروری ان کی گھٹی میں تھی۔ ان کا ایک دوست بیمار ہو گیا۔ سوار محمد حسین شہید جب بھی اس کی تیمارداری کو جاتے تو دوھ، پھل یا کوئی اور شے ضرور لے کر جاتے۔ ایک دن ان کے دوست نے کہا:
    “ محمد حسین۔ تم یہ کیا تکلف کرتے ہو یار؟“
    “کیا تکلف؟“ انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
    “ یار تم نے روز آنا ہوتا ہے اور ہر روز کوئی نہ کوئی شے لے آتے ہو۔ یہ اچھا نہیں لگتا۔“
    “ کیوں اچھا نہیں لگتا؟“ سوار محمد حسین شہید نے کہا۔ “ یہ تم پر کوئی احسان نہیں ہے، یہ میرا فرض ہے۔ دوستی کا فرض ہے جو میں ادا کر رہا ہوں۔“
    “پھر بھی۔“
    “پھر بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ سوار محمد حسین شہید نے اس کی بات کاٹ دی۔ “ میں تو جب بھی آؤں گا خالی ہاتھ نہ آؤں گا۔ یہ تیمارداری کے اصولوں کے خلاف ہے، اس لئے آئندہ کے لئے بحث بند۔“
    ان کا دوست خاموش ہو گیا۔ اور سوار محمد حسین شہید اس کی تیمارداری کے لئے جتنی بار بھی گئے حسبِ عادت کوئی نہ کوئی شے لے کر جاتے رہے۔
    سوار محمد حسین شہید کی عائلی زندگی بے حد خوشگوار تھی۔ ان کو صرف چار سال ازدواجی زندگی کے ملے مگر ان چار سالوں میں ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جو کسی شکر رنجی یا جھگڑے سے آلودہ ہو۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کو ہر وقت ہنسنے ہنسانے کی عادت تھی۔ ناراض ہونا یا غصہ دیر تک دل میں رکھنا ان کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔ ان کی وفا شعار اور سگھڑ بیوی نے اپنے مجازی خدا کی جس طرح ان چار سال میں خدمت کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ محدود تنخواہ کے باوجود سوار محمد حسین شہید اکثر اپنی بیوی کے لئے کوئی نہ کوئی چیز خرید کر لاتے تھے۔ یہ ان کی گھر سے دلچسپی اور شریکِ حیات کی دلجوئی کیا ایک ادا تھی جس پر وہ آخری لمحات تک کاربند رہے۔
    مسکراتے چہرے کے مالک سوار محمد حسین شہید بچپن ہی سے وطن کی محبت سے مالا مال تھے۔ 1965 کی جنگ کے دوران ان کی سب سے بڑی دلچسپی پاک بھارت جنگ کی خبریں سننے میں تھی۔ جب کبھی پاک فوج کی بہادری اور دلیری کی کوئی خبر نشر ہوتی یا وہ اخبار پڑھ لیتے تو ان کا چہرہ جوشِ جذبات سے دمک اٹھتا۔ بے اختیار نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے لگتے۔ فضا میں پاک فضائیہ کے شاہینوں کو پرواز کرتا دیکھتے تو بھی ان کے ہونٹوں پر پاک فوج زندہ باد کے نعرے رواں ہو جاتے۔ امانت اور دیانت کا بنیادی سبق ازبر کرنے والے سوار محمد حسین شہید کے پاس ایک بار کسی دوست نے 200 روپے امانتاََ رکھوائے۔ ایک روز ان کے والد نے ان سے پوچھا:
    “ محمد حسین! تمہارے پاس کچھ پیسے ہیں؟“
    “ کیا بات ہے ابا جان؟ کیا ضرورت آن پڑی؟“ انہوں نے جواب میں سوال کیا۔
    “ بیٹا۔ تھوڑے سے پیسوں کی ضرورت ہے!“
    “ میرے پاس توصرف 50 روپے ہیں ابا جان۔“ انہوں نے 50 روپے باپ کی خدمت میں پیش کر دئیے اور باقی روپے جیب میں رکھ لئے۔
    “ پیسے تو تمہارے پاس اور بھی ہیں محمد حسین؟“ والد نے مسکرا کر پوچھا۔
    “ یہ پیسے میرے نہیں ہیں ابا جان۔ ایک دوست کی امانت کے روپے ہیں جو میں آپ کو نہیں دے سکتا۔ 50 روپے میرے ذاتی تھے جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کر دئیے۔“
    باپ کے چہرے پر بیٹے کی امانت داری نے جو فخر کی سرخی پیدا کی اس کا مول دنیا کی کسی دولت سے نہیں چکایا جا سکتا۔
    نماز روزے اور شرعی احکامات کے پابند سوار محمد حسین شہید نے ساری زندگی کسی نشہ آور شے کو ہاتھ نہ لگایا۔ کبڈی ان کا محبوب کھیل تھا۔ والی بال کے بعد پاک فوج میں وہ باسکٹ بال کے بہترین کھلاڑی رہے۔
    رفاہِ عامہ اور دینی کاموں میں حصہ لینا ان کی ہمیشہ خواہش رہی۔ ان کے گاؤں میں ایک مسجد بننا شروع ہوئی تو ان کے والد نے ان کو ایک خط لکھا کہ علاقے کی مسجد کے لئے چندہ دینا ہے کچھ روپے بھیجو۔۔۔۔۔۔ سوار محمد حسین شہید نے جواب میں جو خط لکھا اس کے الفاظ ان کے دینی جذبات کے آئینہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا:
    “ ابا جان۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہو تو کبھی کم نہیں کرنا چاہیے۔ میرے پاس اس وقت اتنے روپے نہیں ہیں جو میری اس خواہش کی تسلی کر سکیں جو میں اللہ کے گھر کی تعمیر میں حصہ لے کر پری کرنا چاہتا ہوں۔ آپ چند دن ٹھہریں۔ جونہی اتنے روپے میری جیب میں آئے جو چندے میں دینے کے لئے مناسب ہوئے میں فوراََ ارسال کر دوں گا۔“
    جنگ کے خاتمے پر اس وقت کے صدر جناب بھٹو جب اگلے مورچوں کے معائنے کے لئے گئے تو پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف نے انہیں سوار محمد حسین شہید کی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات اور آخری بے مثال کارنامے سے آگاہ کیا۔ تو جناب بھٹو اس عظیم شہید کے حالات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے سوار محمد حسین شہید کے لئے نشانِ حیدر کا اعلان کیا اور کہا:
    “ سوار محمد حسین شہید کی یہ قربانی ہماری ملی تاریخ کا قابلِ فخر سرمایہ ہے اور اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔“
    10 دسمبر 1971 کو اپنی جان وطن کی سالمیت پر قربان کر دینے والے سوار محمد حسین شہید عام گاڑیوں کے ڈرائیور تھے مگر شوقِ شہادت نے انہیں اسلحہ سپلائی کا فرض ادا کرنے کی طرف مائل کیا اور بالآخر وہ گھمسان کے رن میں پاک فوج کے ساتھ دادِ شجاعت دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی شہادت اس امر کا اعلان ہے کہ جن کے نصیبوں میں اللہ نے یہ سعادت لکھی ہو، مناصب و مراتب ان کے قدموں پر سجدہ کرتے ہیں، وہ خود کبھی مناصب کی طرف رجوع نہیں کرتے۔

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: سوار محمد حسین شہید

    خؤب خوب

  4. #4
    رکنِ خاص محمدانوش کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    265
    شکریہ
    76
    75 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    RE: سوار محمد حسین شہید

    صرف اتنا کہوں گا.

    اے پاک وطن کے رکھوالوں، اے پاک سرزمین کے جانبازو ہم سب کو تم پر فخر ہے. اللہ تم جیسے سپوت ہر ماں کو دے.

    پاک فوج کے شہیدو تمہیں لاکھوں کروڑوں سلام

  5. #5
    معاون
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    62
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: سوار محمد حسین شہید

    پاک فوج کے شہداء کو سلام

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: سوار محمد حسین شہید

    خوبصورت شیئرنگ کے لیئے بہت شکریہ

متشابہہ موضوعات

  1. سوالوں کی گرہ میں سوال
    By بےباک in forum قلم و کالم
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 11-30-2012, 09:49 AM
  2. سیرت و سوانح سیدنا حسین رضی اللہ عنہ
    By محمداشرف يوسف in forum صحابہ کرام اور صحابیات
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 11-27-2012, 05:38 PM
  3. سفر سوات پاکستانی سوئٹزر لینڈ
    By شاہنواز in forum سیر و سیاحت
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 11-27-2012, 03:23 PM
  4. سوانحی خاکہ: پیرجی محمد حسین نقشبندی
    By اسامہ حماد in forum اسلامی شخصیات
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 01-22-2012, 10:16 PM
  5. سودا ہے کوئ سر میں نہ سودائ کا ڈر ھے
    By عبادت in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 12-21-2011, 01:46 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University