ونگ کمانڈر نعمان اکرم شہید .۔
wing-commander-noman-akram-biography-10.jpg
wing commander.jpg
پاک فضائیہ کے شاہین پاکستان کا قابلِ فخر اثاثہ ہیں، یہ پاکستان کی فضائی حدود کے نگہبان ہیں اور جب بھی ملک پر کڑا وقت آیا‘ انہوں نے اپنی جان بھی دینے سے گریز نہیں کیا۔ وطن عزیز کے دفاع کیلئے شاہینوں نے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیا لیکن وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ 1965ء کی جنگ کو خاص طور پر اور 27 فروری 2019ء کو بالعموم پاکستان کی ہوابازی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
پاک فضائیہ کے شاہین‘ ایئر کموڈور ایم ایم عالم ، سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، ایئر کموڈور عبدالستار علوی، ایئر چیف مارشل حکیم اللہ، ایئر وائس مارشل فاروق عمر، ایئر چیف شہید مصحف علی میر اور نشانِ حیدر حاصل کرنے والے نوجوان پائلٹ آفیسر راشد منہاس کی تقلید کرتے ہیں۔ ان کا عزم صرف ایک ہے‘ اس ملک کی حفاظت کرنا اور اس کی طرف بڑھتے ہوئے کسی بھی خطرے کو ختم کر ڈالنا۔ اسی عزم و حوصلے کی مثال پاکستان کے قابلِ فخر سپوت ونگ کمانڈر نعمان اکرم شہید بھی ہیں جنہوں نے جیتے جی بھی وطن کا نام روشن کیا اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت بھی قربانی کی ایک عظیم داستان چھوڑ گئے۔
نعمان اکرم 24 جنوری 1979ء کو (اُس وقت) کیپٹن اکرم کے گھر پیدا ہوئے جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ نعمان اکرم شروع سے ہی پڑھائی میں بہت اچھے اور کھیلوں کے شوقین تھے جس وقت ان کے والد کی بطور میجر پوسٹنگ بنوں میں ہوئی تو نعمان اکرم کو مقامی زبان سیکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، اس پر ان کے والدین نے ان کو پی اے ایف کالج سرگودھا میں داخل کروا دیا، یہاں سے ان کے ایئر فورس کے سفر کا آغاز ہوا۔ یہ سفر اتنا شاندار تھا کہ چاہے کالج ہو یا پی اے ایف اکیڈمی‘ نعمان اکرم ہر جگہ نمایاں رہے۔ ان کا تعلق 106 جی ڈی پائلٹ کورس سے تھا۔ وہ ایف سولہ کے پائلٹ تھے، انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بھی پرواز اڑائی۔
شہادت سے ایک سال پہلے انہوں نے شیر افگن ٹرافی جیتی جو پاک فضائیہ میں بہت بڑی اچیومنٹ مانی جاتی ہے۔ وہ اپنے سکواڈرن 9 کے آفسر کمانڈنگ تھے اور یہ بھی کم عمری میں ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ انہوں نے قطر میں بھی خدمات انجام دیں۔ سکواڈرن 9 میں نعمان اکرم پائلٹس، انجینئرز اور ٹیکنیشنز کے انچارج کے علاوہ فائٹر پائلٹ بھی تھے۔ سکواڈرن 9 کی ملک کے لیے گراں قدر خدمات ہیں اور قیامِ پاکستان سے یہ ملک کے دفاع میں مصروفِ عمل ہے۔ تمام ادوار کے بہترین طیارے اس سکواڈرن کا حصہ رہے ہیں۔ نعمان کے مشاغل میں سپورٹس اولین سطح پر تھے‘ وہ ٹینس کے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔ بہت سے نوجوان کھلاڑی ان کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے۔ اپنی یونٹ میں بھی وہ سب کے کام آتے تھے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ایئر فورس ہمیشہ تیار ہے اور اگر کبھی ہمیں اپنی جان قربان کرنا پڑی تو ہم ایک لمحے کا بھی توقف نہیں کریں گے۔ ہم ڈیوٹی دیتے رہیں گے کیونکہ ہم نے اپنے بڑوں سے یہی سیکھا ہے اور جو کچھ ہو سکا، ہم کریں گے، پاکستان ایئر فورس آپ کی حفاظت کے لیے ہمیشہ موجود ہے۔
11 مارچ 2020ء کو 23 مارچ کی پریڈ کی ریہرسل کرتے ہوئے ان کا طیارہ شکرپڑیاں کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا۔ نعمان اکرم شہید نے کریش سے پہلے ہر ممکن کوشش کی کہ سویلین آبادی کو بچا لیا جائے اور طیارے کو بھی نقصان نہ پہنچے۔ شہید ونگ کمانڈر نعمان اکرم نے شہری آبادی کو بڑے نقصان سے بچانے کے لیے شہادت کو گلے لگایا وگرنہ وہ بہ آسانی طیارے سے نکل سکتے تھے۔ اللہ نے ان کے نصیب میں شہادت لکھ رکھی تھی اور عوام کو بچاتے ہوئے وہ رتبۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔ یہ منظر اسلام آباد کے شہریوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس روز ہر آنکھ اشک بار تھی۔
ان کی نمازِ جنازہ معروف مبلغ مولانا طارق جمیل نے پڑھائی تھی۔ نمازِ جنازہ میں ایئر فورس سمیت دیگر عسکری اداروں کے افسروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی، اس کے علاوہ پی اے ایف بیس میں بھی ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تھی ۔ بعدازاں ونگ کمانڈر نعمان اکرم شہید کو پی اے ایف شہدا قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ نعمان اکرم شہید کے والد بریگیڈیئر (ر) اکرم نے بتایا کہ نعمان بہت ذہین اور حساس بچہ تھا، وہ ایک ایسا بچہ تھا جس کی خواہش تمام والدین کرتے ہیں، وہ بہت سی خوبیوں کا مالک تھا۔ بہت محنتی اور لائق تھا، وہ جہاز سے نکل کر اپنی جان بچا سکتا تھا لیکن اس نے آخر وقت تک جہاز اور عوام کو بچانے کی کوشش کی۔ اللہ اس کی شہادت قبول فرمائے، آمین! جمعرات کو ان کی پہلی برسی کے موقع پر اسلام آباد میں بارش ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکی اور پورے شہر کی فضا میں اک اداسی سی تھی، یوں لگ رہا تھا کہ جیسے آسمان بھی شہید نعمان اکرم کی یاد میں رو رہا ہے۔
نعمان اکرم شہید نے ضربِ عضب میں وزیرستان میں گرینڈ آپریشن میں بھی حصہ لیا اور دشمن کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی گراں قدر خدمات پر ان کو تمغۂ بسالت سے نوازا اور بعد از شہادت انہیں ستارۂ بسالت سے نوازا گیا جو ان کے والد آئندہ دنوں ایوانِ صدر میں ہونے والی تقریب میں وصول کریں گے۔ ملٹی رول سکواڈرن 9 میں نعمان اکرم کا نام ہمیشہ جلی حروف میں لکھاجائے گا۔ بریگیڈیئر (ر) اکرم نے بتایا کہ نعمان شہید کی بیوہ اور بچے ان کے ساتھ ہی رہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ ان کے تعلیمی سلسلے اور کریئر میں ان کی مدد کر سکیں۔ نعمان شہید کا بڑا بیٹا اس وقت نویں جماعت کا طالبعلم ہے جبکہ بیٹی ابھی چوتھی کلاس میں پڑھتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: اگر باپ بیٹے کے تعلق کی بات کی جائے تو بچوں میں ہم اپنا مستقبل دیکھ رہے ہوتے ہیں، اپنے تمام خوابوں کی تعبیر ان میں دیکھ رہے ہوتے ہیں، میری بھی یہ خواہش تھی کہ نعمان میرا نام روشن کرے جو اس نے کردکھایا۔ اب بس اللہ سے اتنی گزارش ہے کہ مجھے اتنی مہلت مل جائے کہ میں اس کے بچوں کے فرائض سے سبکدوش ہو جائوں۔ بریگیڈیئر صاحب نے سب سے گزارش کی کہ انہیں اپنی دعائوں میں یاد رکھیں۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک ہدایت کی کتاب ہے‘ اس میں سب کچھ درج ہے‘ اس سے رہنمائی لیں، برے کاموں سے دور رہیں اور اچھے کام کریں۔ ہمارے ملک کی مسلح افواج اس ملک کی بھلائی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ سب ملک کے لئے سوچیں اور ملک کے مفاد میں کام کریں۔
11 مارچ 2020ء کا وہ بدقسمت دن مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے، جس وقت نعمان اکرم کا جہاز تیزی سے گزرا تو میں نے سوچا کہ کیوں نا ایف سولہ کی تصویر لے لوں مگر اس تیز رفتاری میں یہ بہت مشکل کام ہے، اسی اثنا میں مَیں نے دیکھا کہ ان کا جہاز تیزی سے شکرپڑیاں کی طرف گر رہا ہے، جہاز کے پچھلے حصے میں آگ لگی ہوئی تھی اور آناً فاناً میں وہ تباہ ہو گیا۔ کوئی بھی اس حادثے کی توقع نہیں کر رہا تھا، سب کو اس سے ذہنی طور پر صدمہ پہنچا۔ اس وقت ہم سب پائلٹ کی سلامتی کے لئے دعا کرنے لگے مگر اس پائلٹ کو اپنی جان سے زیادہ آبادی اور ملک کے جہاز کی فکر تھی۔ شہید نعمان اکرم نے ہر ممکن کوشش کی لیکن اس دن قسمت میں حادثہ لکھا جا چکا تھا اور یوں پاکستان ایک قابل پائلٹ سے محروم ہوگیا۔
''بیسٹ پائلٹ ٹرافی شیرافگن‘‘ جیتنے والے پاکستان کے ہونہار بیٹے کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہوگیا ہے۔ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین!