علی محمد راشدی ۔۔۔۔۔ طیبہ بخاری

’’رودادِ چمن ‘‘ سے ’’فریادِ سندھ ‘‘تک علی محمد راشدی کی ’’کہانی ‘‘ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر ہر شعبۂ زندگی میں نام پیدا کیا
سیاست دان، صحافی، مؤرخ ، سفارتکار اور ادیب کیا کچھ نہیں تھے علی محمد راشدی ،اپنی انہی خوبیوں اور خاندانی روایات کے باعث ''پیر ‘‘ کہلائے۔پیر علی محمد راشدی 15 اگست 1905ء کو ضلع لاڑکانہ کے چھوٹے سے قصبے بہمن میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سندھی‘ عربی اور فارسی میں اپنے گائوں سے حاصل کی۔ انگریزی کے اسباق ماسٹر محمد رفیق سے پڑھے ا ور مہارت نصرت ریلوے اسٹیشن کے اسٹیشن ماسٹر سے حاصل کی۔ علم و ادب کابے پناہ شوق تھا۔ مطالعے کی دولت سے مالا مال تھے اسی دولت کی بدولت نہ صرف سندھ بلکہ آل انڈیا سطح پر شہرت حاصل کی۔کسی کالج یا یونیورسٹی سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود صرف مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر ہر شعبۂ زندگی میں نام پیدا کیا۔ پیر محمد علی راشدی کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں اس ہمہ جہت شخصیت کی زندگی پر گفتگو کرنے کیلئے طویل وقت درکار ہے لیکن ہم کم وقت میں نئی نسل کو ان کے کمالات سے آگاہ کرنے کی بھرپورکوشش کریں گے ۔
تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن رہے ،قیامِ پاکستان کے بعد مختلف سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیں، زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے ، کہیںبہت زیادہ سراہے گئے تو کہیں مطعون ٹھہرایا گیا ، لکھنے کا بہت شوق تھا اردو ، انگریزی اور سندھی زبانوں میں اپنے قلم کا زور دکھایا ، ادب ، سیاست اور صحافت کی دنیا میں اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ مختلف حلقوں میں ناپسندیدہ رہے لیکن علم و ادب کے حوالے سے آپکی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ 1924 ء میں صحافتی سفر شروع کیااور کیا کچھ نہیں لکھا ون یونٹ کی تاریخ لکھی تو کراچی کی کہانی بھی بیان کی ، رودادِ چمن پر قلم اٹھایا تو فریادِ سندھ بھی تاریخ کے سپرد کی، ان کی چند کتابوں میں ''رودادِ چمن (اردو)، فریادِ سندھ (سندھی)، چین جی ڈائری (سندھی)، ون یونٹ کی تاریخ (اردو) کراچی کی کہانی (اردو)‘‘ شامل ہیں جبکہ کئی مضامین اردو اور انگریزی زبان میں مختلف اخبار اور جرائد کی زینت بنے۔
صحافت کے بعد سیاست کی دنیا میں قدم رکھا 1953ء کی سندھ اسمبلی کے انتخابات میں روہڑی کے حلقے سے بلا مقابلہ رکن منتخب ہوئے اور 1954ء میں پیرزادہ عبدالستارکی کابینہ میں ریونیو‘ صحت اور اطلاعات کے قلمدان سنبھالے۔جب 1954ء میں محمد ایوب کھوڑو وزیر اعلیٰ بنے تو سندھ اسمبلی سے ون یونٹ کا بل منظور ہوا جس میں علی محمد راشدی کا بھی بڑا ہاتھ تھا، راشدی ایوب کھوڑو کی کابینہ میں وزیر برائے صحت، اطلاعات اور ریونیو تھے۔ون یونٹ بل 1955ء میں پاس ہوا اور اس بل کے پاس ہوتے ہی ایوب کھوڑو اور راشدی سے سندھ کے لوگوں نے منہ پھیر لیا ۔ پھر راشدی محمد علی بوگرہ کی کابینہ میں اطلاعات کے وزیر بنے۔ 1963ء سے وفات تک کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا جو پہلے مکتوب مشرق بعیداور پھر مشرق و مغرب کے نام سے شائع ہوتا رہا‘ کچھ وقت ہانگ کانگ میں بھی مقیم رہے۔ 1970ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار عبداللہ شاہ سے ہار گئے لیکن بعد میں 1972ء سے 1977ئء تک وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مشیر اطلاعات رہے۔
قیام پاکستان سے قبل کے حالات کا ذکر کریں توسندھ کی بمبئی سے علیٰحدگی کی تحریک میں عبداللہ ہارون کیساتھ رہے۔ 1926ء میں سندھ محمڈن ایسوسی ایشن میں شمولیت اختیار کی۔ انجمن سادات راشدیہ قائم کی‘ الراشد رسالہ نکالا۔ضلع سکول بورڈلاڑکانہ اور ضلعی لوکل بورڈ لاڑکانہ کے رکن رہے۔ 1934ء میں سر شاہ نواز بھٹو مرحوم نے پیپلز پارٹی تشکیل دی تو ابتدائی ارکان میں سے ایک پیر علی محمد راشدی بھی تھے۔ سندھ اتحاد پارٹی تشکیل پائی تو عبداللہ ہارون اور سر شاہ نواز بھٹو کو آپکا تعاون حاصل رہا۔ 1938ء میں سندھ مسلم لیگ کانفرنس کا اجلاس کراچی میں بلوایا گیا تو اس کے تمام تر انتظامات کی ذمہ داری آپ نے نبھائی اس کانفرنس میں پورے ہندوستان سے مسلم لیگی عمائدین شریک ہوئے۔پھر مزاج بدلا اور 1945ء کے الیکشن میں مسلم لیگ سے علیٰحدگی اختیار کر لی لیکن قیام پاکستان کے بعد پھر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ حیدرآبادمیں ریڈیو اسٹیشن کے قیام میں آپ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ کے مسلمان قیام پاکستان سے قبل مفلوک الحال تھے۔ آپ نے سندھ مسلم لیگ کی تشکیل، ترقی اور مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کیلئے خود کو وقف کر رکھا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد 57ء سے 61ء تک فلپائن اور 1961ء سے 1962 ء تک عوامی جمہوریہ چین میں بطور سفیر فرائض انجام دیتے رہے۔
اس ہمہ جہت شخصیت کی صحافتی زندگی کی مختصر تاریخ بیان کریں تو کراچی کے اخبار ''سندھ نیوز ‘‘سے بطور نامہ نگار منسلک ہوئے پھر 1926ء میں شکار پور کے'' اخبار الحزب‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ 1928ء میں'' الراشد‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے، سکھر کے'' الامین‘‘ کو بھی 1925 ء سے 1928ء تک بطور ایڈیٹر مرتب کیا۔ خان بہادر محمد ایوب کھوڑو اور سر عبداللہ ہارون کے سیکرٹری رہے۔ 1929ء میں سکھر کے'' سندھ زمیندار‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے 1934ء میں سکھر سے اپنا اخبار'' ستارہ سندھ‘‘ جاری کیا جو 1937ء تک شائع ہوتا رہا۔ 1940ء میں انگریزی جریدہ'' مسلم وائس‘‘ جاری کیااسی دوران'' صبح سندھ‘‘ کے نام سے اخبار اور پھر کراچی سے ''قربانی‘‘ نامی اخبار نکالا۔ 1948ء میں''سندھ آبزرور‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور 1952ء میں ویکلی'' اسٹیٹس مین ‘‘نامی انگریزی اخبار شروع کیا۔ پاکستان نیوز پیپرز ایسوسی ایشن کے صدر رہے اور ہندوستان‘ مصر اور برطانیہ کے دورے کئے ۔ سندھی زبان میں آپ کی یادداشتیں ''اھی ڈینھن اھی شیخص‘‘ کے نام سے 3جلدوں میںشائع ہوئی ہیں جن میں کراچی کی شخصیات‘ تاریخ اور سیاست پر خاصا مواد ملتا ہے، آپ کے صاحبزادے حسین شاہ راشدی1994ء میں سینیٹر منتخب ہوئے اس میں کوئی شک نہیں کہ علی محمد راشدی دانشور تھے، ادیب تھے، تاریخ دان تھے سیاستدان تھے لیکنتنقید کے نشتر بھی سہتے رہے بھرپور اورمصروف زندگی گزارنے والے پیر علی محمد راشدی 82 برس کی عمر میں 14 مارچ 1987ء کو اس جہان ِ فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کوچ کر گئے۔