حسینہ معین ۔۔۔ خدا حافظ از طیبہ بخاری

’’پہلا سفر، پہلی ہجرت، پہلی محبت، میرا پاکستان ٹھہرا‘‘‘ حسینہ معین ۔۔۔۔خدا حافظ

انہیں ڈرامہ انڈسٹری میں عورت کے بولڈ ، خود مختار کردار کی تخلیق کارسمجھا جاتا تھا حسینہ معین کاچند لفظوں میں تعارف کروایا جائے توجس نے کامیابی کیلئے کبھی کوئی کوشش نہیں کی لیکن ہمیشہ خدا نے کامیابی دی۔۔۔۔جو کبھی کسی کے پاس سکرپٹ لے کر نہیں گئیں لیکن انکا ہر سکرپٹ اور ڈرامہ مقبول ہوا ۔۔۔۔جو کہانی نہیں حقیقت لکھتی تھیں ۔۔۔ اورجنہیں لکھنے کے مواقع خود ہی ملتے چلے گئے۔۔۔کالج میں تھیں تو ریڈیو سے پیغام آگیا ۔ یو نیورسٹی سے فارغ ہوئیں تو ٹی وی والوں نے بلا لیا ۔ ۔ ۔ جو یہ کہتی تھیں کہ ’’خدا نے جس کو جو بنانا ہوتا ہے وہ بنا دیتا ہے۔‘‘۔۔۔
انہیں ہر سیریل پر ایوارڈ ملا بغیر کسی سفارش کے اورایوارڈزسے انکی الماری بھر ی ہوئی تھی۔۔۔

مجھے آج حسینہ آپا کے وہ الفاظ یاد آ رہے ہیں جو انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں مجلہ ماہنامہ’’ہلال ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہے تھے کہ ’’میرا پہلا سفر ، میری پہلی ہجرت، میری پہلی محبت ، میرا پاکستان ٹھہرا ‘‘۔۔۔پھر وقت نے دیکھا کہ انہوں نے تمام زندگی اپنی پہلی محبت اتنی شان اور وقار سے نبھائی کہ اس میں کسی کو کبھی شریک نہیں ٹھہرایا ، اپنی زندگی کے پہلے سفر اور پہلی ہجرت کو بھی کبھی نہیں بھلایا انکی تحریروں میں زندگی ، سفر اور ہجرت سب ساتھ ساتھ چلتے رہے اور اس انداز سے چلے کہ دیکھنے والے کو کبھی یکسانیت محسوس نہیں ہوئی۔ وہ واحد لکھاری تھیں جو کہانی سے زیادہ حقیقت لکھتی رہیں اور عمر بھر حقیقت لکھنے پر زور دیتی رہیں ۔ زندگی کے بارے میں انکا مشاہدہ بہت مضبوط اور تجربہ بہت تلخ تھا لیکن انہوں نے اپنی تحریروں کو تلخی کی نذر نہیں ہونے دیا زندگی کے حسن کو برقرار رکھا ، وہ ایسا کیوں نہ کرتیں کیونکہ وہ بالکل اپنے نام کی طرح تھیں ۔ انہیں عورت کا کمزور ، بودا اور مظلوم کردار بالکل بھی پسند نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ انہیں ڈراموں میں بولڈ اور خود مختار لڑکی کی تخلیق کارکہا گیا انہیں پاکستانی ڈراموں کی ’’شہزادی ‘‘ بھی لکھا گیا ، اُن کا نام سپرہٹ ڈرامے کی علامت سمجھا جاتا تھا ،شاندار ڈرامے لکھنے کی وجہ سے وہ نئی نسل میں بھی مشہور ہوئیں ۔ خواتین کا مضبوط بہادر کردار، دل کو چھو لینے والی محبت‘ احساسات کی ترجمانی کرتے ڈائیلاگ اور اعلیٰ پائے کا مزاح یہ تمام انکے ڈراموں کو وہ خوبیاں ہیں جو ایک ساتھ کسی اور لکھاری کے ہاں نہیں ملتیں ، انہی ان گنت خوبیوں کے باعث ڈرامہ انڈسٹری میں کوئی ان کی ہمسری نہ کر سکا ۔

حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو اترپردیش کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم گھر میں ہی حاصل کی تقسیم ہند کے بعد انکا گھرانہ راولپنڈی میں آباد ہوا مگر جلد ہی لاہور منتقل ہوگیا۔ 50ء کی دہائی میں کراچی آئیں اور پھر کراچی کی ہی ہو رہیں، اپنی خداداد صلاحیت کی بناء پر بطور ادیب لکھنا شروع کیا،جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز 1969ء میں کیا ’’عید کا جوڑا‘‘ کے نام سے تحریر کردہ ان کا ڈرامہ بے حد پسند کیا گیا۔ان کے مشہور ڈراموں کی ایک طویل فہرست ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ان کا کوئی بھی ڈرامہ عوامی مقبولیت کی سند سے محروم نہیں رہا ، پھر بھی ان کے چند شاہکار ڈراموں کا ذکر کیا جائے تو ’’پرچھائیاں،دھوپ کنارے،انکل عرفی، تنہائیاں ، پل دو پل، دھند، بندش، تیرے آجانے سے ، شہ زوری، کرن کہانی، زیر زبر پیش، ان کہی، گڑیا، آہٹ، پڑوسی، کسک، نیا رشتہ، جانے انجانے، آنسو، شاید کہ بہار آجائے، آئینہ، چھوٹی سی کہانی، میری بہن مایا ‘‘کے علاوہ دیگر مشہور ڈرامے شامل ہیں۔ حسینہ معین نے فلم’’ کہیں پیار نہ ہوجائے کی کہانی کے علاوہ کئی فلموں کے مکالمے بھی تحریر کئے جن میں ’’نزدیکیاں‘‘ اور ’’یہاں سے وہاں تک‘‘ شامل ہیں۔یہ وہ دور تھا جب ان کی مقبولیت کے چرچے بھارت تک بھی پہنچ چکے تھے راج کپور کی فرمائش پر حسینہ معین نے بھارتی فلم’’ حنا ‘‘کے مکالمے بھی لکھے جو 1991 ء میں نمائش پذیر ہوئی۔انکی بہترین خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 14 اگست 1987ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔پاک فوج کے بارے میں کہتی تھیں ’’مجھے فوج بہت پسند ہے۔یہ ہماری پر سکون نیند کیلئے راتوں کو جاگتے ہیں اور ہماری حفاظت کیلئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں ۔ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔میرے د ل کی نیک تمنائیں اور خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔اللہ ان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔اور ایک خواہش ہے کہ وہ میرے ملک کو بچا لیں کیونکہ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور فوج ہمارے ملک کی محافظ ہے۔‘‘

یادوں کی دنیا میں جائیں تو اپنی زندگی کے بارے میں حسینہ معین بتاتی تھیں کہ ’’ میرابچپن عام بچوں کی طرح گزرا۔ ہم لوگ 5 بہنیں اور 3 بھائی تھے میں اپنے والدین کی چوتھی اولاد تھی۔میرے والد کوبیٹیوں سے بہت محبت تھی وہ آرمی میں سویلین سائیڈپر تھے۔ قیامِ پاکستان کے موقع پران کو آپشن دیا گیا تھا کہ آپ پاکستان میں رہیں گے یا انڈیا میں؟تو میرے والد نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ٹرین کی چھکا چھک کے ساتھ‘ ہم بچوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ہم بھاگ کر کبھی ایک سیٹ پر جا بیٹھتے کبھی دوسری پر۔ ہمارے لبوں پر ایک ہی نعرہ تھا ’’پاکستان زندہ باد‘‘ جس کو سن کر ماں کی چھلکتی آنکھوں کے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ جا تی ماں کو اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کا دُکھ تھا اور ہمیں اپنے آزاد وطن پاکستان جانے کی خوشی۔ میرا پہلا سفر، میری پہلی ہجرت، میری پہلی محبت، میرا پاکستان ٹھہرا۔ ۔ ۔ پاکستان پہنچنے کے بعد والد صاحب کی ٹرانسفر پنڈی میں ہوئی۔ زندگی اس وقت بڑی خوبصورت لگتی تھی۔بعدمیں میرے والد کا تبادلہ لاہور ہو گیا۔ہم لوگ ماڈل ٹاؤن کی سڑکوں پر کرکٹ کھیلا کرتے تھے پڑھائی کا خیال تک نہیں تھا۔اس وقت ٹی وی تو تھا نہیں اس لئے ریڈیو ہی سنا کرتے تھے۔ میٹرک میں نے ماڈل ٹاؤن سکول لاہور سے کیا اسکے بعد کراچی چلے گئے۔کالج میں میں بہت شرارتی تھی مجھے’’ دِیول‘‘ کہا جاتا تھا۔میں کچھ بھی نہیں بننا چاہتی تھی کوئی خواب نہیں تھا۔۔کالج کے زمانے میں ہی لکھنے کا موقع ملا۔ اس وقت سیکنڈ ائیر میں تھی، شان الحق حقی کی بیگم سلمیٰ آپاہماری اردو کی لیکچرر تھیں انہیں اندازہ تھاکہ میری اردو بہت اچھی ہے۔ جب ریڈیو پاکستان سے طلباء کا جشن تمثیل ہوا تو ہمارے کالج میں ایک لیٹر آیا کہ20منٹ کا ایک ڈرامہ چاہئے۔ سلمیٰ آپا نے مجھے لکھنے کو کہا۔اورمیرے پہلے ڈرامے کو ہی انعام مل گیا۔یہ وہ موقع تھا جواللہ نے مجھے دیا۔ بی اے تک میں ریڈیو پاکستان کیلئے ڈرامے لکھتی رہی۔انہی دنوں جب ٹی وی آیا تو ان لوگوں نے میرا ریڈیو کاایک ڈرامہ’’بھول بھلیاں‘‘ لیا اور کہا کہ اسے ٹی وی کیلئے لکھوں ڈرامہ کامیاب ہو گیا۔یہ پہلا موقع تھا جب میں لوگوں کے سامنے آئی۔ اسکے بعد عید کا خصوصی کھیل ’’عید مبارک‘‘ لکھا اس میں نیلوفر، علیم اور شکیل تھے۔ خوش قسمتی سے وہ بھی کامیاب ہو گیا۔ پھر شہزاد خلیل صاحب کیساتھ ڈرامہ ’’تنہائیاں‘‘ کیا، یہ بات بھی بہت عجب رہی کہ میرے ساتھ 2 ڈائیریکٹرز کام کرتے تھے اور میں اکیلی لکھتی تھی۔خواجہ نجم الحسن کیساتھ تاریخی کھیل ’’تان سین‘‘ کیاجو بہت کامیاب رہا۔ ایک انڈین سنگر نے مجھ سے کہا کہ اسکے سارے گانے آپ کو فری میں کر کے دینے کو تیار ہوں۔‘‘

یہاں ہم آپکو بتاتے چلیں کہ انکے ڈرامے کی ہر ہیروئن مقبول ہوئی ، اسکی وجہ بھی کوئی اور نہیں خود حسینہ معین تھیں بقول انکے’’ ہم اپنے پر ڈرامے کیلئے نئی لڑکی تلاش کرتے تھے‘جو ہمیں پسند آجاتی اسکے گھر جاکر گھر والوں کی خوشامد کر کے ان کو رضا مند کر کے لاتے ۔ شہناز شیخ نے ’’ان کہی‘‘کیلئے انکار کیاتو میں نے کہا ’’ اگر تم یہ کریکٹر نہیں کرو گی تو ہم ’’ان کہی‘‘کریں گے ہی نہیں‘‘پھر وہ راضی ہو گئی۔ شہلا احمد کو انکل عرفی میں لائے۔ ہم لوگ ایک فیملی کی طرح کام کرتے تھے ہمارے زمانے میں نہ کسی کو پیسے کی پرواہ تھی نہ سفارش کی۔‘‘

محبت ، نفرت اور عشق کے بارے میں حسینہ معین کا نظریہ یہ تھا کہ ’’اگر آپ ہر جذبے میں سچے ہوں تو محبت بھی سچی ہوتی ہے ۔ نفرت بھی سچی ہوتی ہے نفرت کرنا تو خیر میں نے سیکھا ہی نہیں۔اسی لئے آپ کو شاید میرے کرداروں میں منفی کردارکبھی نہیں ملیں گے۔آج کل کے بچوں کو آپ کیا دکھا رہے ہیں۔ماں باپ،بہن بھائی سب عشق کر رہے ہیں۔ اس قسم کی چیزیں دکھائیں گے تو پھرکیا انجام ہو گا۔آج کل ایسی ایسی چیزیں دکھائی جا رہی ہیں کہ ڈر لگتا ہے کہ اگر بچے نے اس کا مطلب ہی پوچھ لیا تو کیا جواب دیں گے؟‘‘

شادی نہ کرنے اور تنہا زندگی گزارنے کا فیصلہ بھی حسینہ معین کا اپنا تھا ، وہ اکثر اپنے انٹرویوز میں کہتیں ’’والدہ کی خواہش تھی کہ میں شادی کروں مگر انہوں نے مجبور نہیں کیا ان کا خیال تھا میں خود کرلوں گی اور خود میں نے کی نہیں۔‘‘

اپنے ڈراموں میں مزاح کے منفرد انداز اور معیار کے بارے میں وہ بتایا کرتیں ’’ مزاح اور پھکڑ پن میں بھی باریک سی لکیر ہوتی ہے۔اگر آپ اس کو کراس کر جائیں گے تو مزاح پھکڑ پن بن جائے گا۔آجکل جوکچھ دکھایا جا رہا ہے وہ مزاح نہیں کچھ اور ہے۔آپ نے مشتاق احمد یوسفی،شفیق الرحمن اور ابن انشا ء کا مزاح پڑھا ہو گا۔ تہذیب، تمیز اوراطوار ہم گھر سے سیکھتے ہیں۔‘‘

آج کے ڈرامے کے بارے میں حسینہ آپا کا کہنا تھا ’’مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے کہ ڈرامہ آرٹ کی شکل سے نکل کر نوٹنکی بن چکا ہے۔ بری سے بری بات کو بھی سلیقے سے کہا اور دکھایا جا سکتا ہے ۔‘‘ تیرھویں عالمی اردو کانفرنس میں مسعود قمر نے ان سے پوچھا، اگر ہمارے ہاں شادیاںنا ہوتیں تو پھر آپ کیا لکھتیں ؟ آدھا منٹ خامشی چھا گئی پھر حسینہ آپا نے کہا ’’طلاق کے ڈرامے تو میں پھر بھی نا لکھتی ۔‘‘ ۔۔۔

ہم حسینہ معین کے بارے میں کیا لکھ سکتے ہیں ، صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ ان کے دنیا سے جانے کے بعد انکی چند باتیں اور یادیں دہرائی جائیں جو انکی طرح اپنی مثال آپ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ خدا حافظ حسینہ معین ۔۔۔۔لیکن آپ اپنی تحریروں کی صورت میں ہمیشہ ہم میں موجود رہیں گی ۔ کیونکہ

ہوتی ہے صرف پیاروں کی صورت سپرد ِ خاک
ہوتی نہیں پر ان کی محبت سپردِ خاک