’’مرزاغالب کے اشعار نوجوانوں کو خون خرابے پر اکسا رہے ہیں‘‘
اس عظیم شاعر کا نام دہشت گردوں کے آلہء کار کے طور پر مقدمہ نمبر 3036/2008 میں شامل کر لیا گیاتھا
صہیب مرغوب
انڈیا میں انسداد دہشت گردی کا قانون دہشت گردی کی روک تھام سے زیادہ مسلمانوں کو پابند سلاسل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ یہ وہ قانون ہے جس کے تحت مہاراشٹرا پولیس نے محبتوں کے شاعر مرزا اسداللہ خان غالب کو بھی نہیں بخشا، اسے نفرتوں کا شاعر بنا کر ان کا نام دہشت گردوں کے آلہ کار کے طور پر مقدمہ نمبر 3036/2008 (یکم اپریل 2008ء) میں شامل کر لیا گیاتھا۔پولیس انسپکٹر کا کہنا تھا کہ ''دہشت گرد غالب کی شاعری سے انسپائریشن حاصل کر رہے ہیں۔یہ معاشرے میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار ہیں، ان کے اشعار سے تشدد اور مار دھاڑ کی بو آتی ہے‘‘۔
ہوا یوں کہ انڈیا نے کبھی مسلمانوں کی کسی تنظیم کو ابھرنے ہی نہیں دیا۔2001ء میں مسلمان طلبا کی تنظیم مہاراشٹرا میں کافی زور پکڑ رہی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب بال ٹھاکرے کی جماعت مسلمانوں کوکچلنے کے لئے دینی مدارس پر بھی دھاوا بول رہی تھی ۔مدارس کی بقاء اور تحفظ کے لئے طلبا ڈھال بننے لگے تو ان کی تنظیم ''سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا ‘‘ (SIMI)کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا۔ تنظیم کے کارکنوں کے خلاف درجنوں مقدمات درج کئے گئے جن میں سے کئی کو کیسوں میں طویل عرصہ جیل کاٹنے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔ 2008ء میں بم دھماکوں کے بعد مہاراشٹرا پولیس نے حد ہی کرد ی۔مسلمان طلباء کے خلاف کم از کم سولہ مقدمات درج کئے گئے۔ پولیس انسپکٹر تھانہ وجے ناکہ (سولا پور ) شیوا جی رائو نے ایف آئی آر میں سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ کے طلبا ء کے خلاف درج مقدمے میں غالب کے کئی اشعار بھی بطور حوالہ شامل کئے ۔ان کے مطابق گرفتار نوجوانوں کے قبضے سے ''دہشت گردی ‘‘پر مبنی لٹریچر (بشمول غالب کی شاعری ) برآمد ہوا تھا ۔ پولیس نے اسے ''سیمی لٹریچر ‘‘(SIMI literature) قرار دیا تھا۔
ایف آئی آر نمبر 3036/2008میں پولیس نے غالب کو تشدداور نئی نسل میں آزادی کی امنگ جگانے کا ''قصوروار ‘‘ ٹھہرایا گیا تھا ۔بات اگر ایک دو اشعار پر ختم ہوجاتی تب بھی ٹھیک تھا۔انسپکٹر لکھتاہے ''(غالب کے سہارے) یہ لوگ مہاراشٹرا ریاست کو انڈیا سے توڑنے کے خواہاں ہیں، یہ عمل قومی سلامتی اور یک جہتی کے منافی ہے ، ان کے پس پردہ غالب کی ہی شے ہے‘‘۔
مندرجہ ذیل ''قابل اعتراض‘‘ شعر پر بھی بحث ہوئی تھی،
بدل کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشہ اہل کرم دیکھتے ہیں
پولیس کے مطابق ''شاعر کہتا ہے کہ انڈین گورنمنٹ تماشا کر رہی ہے ‘‘جس سے نوجوانوں کے جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں۔یوں غالب نے انڈین گورنمنٹ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ ''SIMI‘‘کے مسلمان طلبا ء انڈین نوجوانوں کو تشدد پر ابھارنے کے لئے غالب کے اشعار کو ڈھال بنا رہے ہیں ۔پولیس کے مطابق ''جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے لان میں غالب کا قد آور مجسمہ بھی نصب ہے ۔ یہ گواہی دیتا ہے کہ طلبہ غالب کے اشعار سے اثر لے رہے ہیں۔مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے کہا کہ ''حکومت اگرچہ اس تنظیم کو کالعدم قرار دے چکی ہے لیکن نوجوان غالب سے تحریک حاصل کر رہے ہیں‘‘۔دہشت گردی پر اکسانے والاایک شعر ملاحظہ کیجئے،یہ شعر سب سے زیادہ زیر بحث آیا۔
موج خون سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستانہ یار سے اٹھ جائیں کیا
انسپکٹر نے مراٹھی زبان میں اس شعر کا ناقص سا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا کہ ''مرزا غالب کا یہ شعر نوجوانوں کو خون خرابے پر اکسا رہا ہے‘‘۔صدر شعبہ اردو جامعہ ملیہ کالج ،پروفیسر خالد محمود نے شعر کی تشریح کچھ یوں کی، '' غالب کا یہ شعر انتہائی مثبت پیغام کا حامل ہے، غالب کا پیغام ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جاے،ہم اپنا پیارا گھر (یا ملک) نہیں چھوڑیں گے۔خواہ کوئی ہمارا سر ہی کیوں نہ قلم کر دے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے ‘‘۔بے خود دہلوی نے اس شعر کا ترجمہ کچھ یوں بیان کیا تھا''غالب کو زندگی بھر اونچ نیچ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔موج خوں اسی اتار چڑھائو کی علامت ہے‘‘۔پروفیسر فرانسس پرشیٹ (Frances Pritchett) نے بھی بے خود دہلوی کی تشریح کا حوالہ دیا ہے۔
میڈیا میں دوران بحث تھانے دار نے کہا کہ '' ہاں! مرزا غالب کے عنوان سے مضامین میری نظر سے بھی گزرے ہیں، مجھے غالب کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی کیونکہ اخبارات شاعروں کے بارے میں کم ہی لکھتے ہیں۔ ایک مضمون کا عنوان دیر تک میری نظروں کے سامنے رہا۔لکھا تھا...... 'غالب ، نفرت انگیز جذبات بھڑکا رہا ہے‘۔میں تو بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ مضمون مضحکہ خیز ہے ،قطعی مضحکہ خیز۔ میں نے یہ مضمون ایک قاری کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے آدمی کے طور پر پڑھا جو غالب کو اچھی طرح جانتا ہے،نہ صرف شاعری کا گہرا مطالعہ کیا ہے بلکہ غالب کا دور ،اس کا رہن سہن اور تربیت پر بھی میری نظر ہے۔ میں جانتا تھا کہ میں بے سروپا باتیں پڑھ رہا ہوں۔ مجھے پکا یقین ہے کہ طلباء غالب سے تحرک حاصل کر رہے ہیں۔یہ ان کی روح کی طرح ہے‘‘۔
شاعری کے پیغام کو سمجھنے سے پہلے شاعر کی زندگی کو سمجھنا بھی ضروری ہے، ان لوگوں نے غالب کی شاعری تو پڑھ لی لیکن مطلب نہ سمجھ سکے ۔پروفیسر خالد محمود کے مطابق ''اس سے زیادہ حب الوطنی پر مبنی پیغام شاعر میں کم ہی ملتا ہے۔مگر انڈین پولیس دیش بھکتی کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔مزید قابل اعتراض اشعار ملاحظہ فرمائیے:
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
یہ پوری غزل محبوب سے شکایتوں سے پر ہے ، اسکا ملک قوم یا دہشت سے کیا واسطہ۔مگرمہاراشٹرا پولیس نے دہشت گردی کی بو سونگھ لی ہے۔ایک اور شعر پر بھی کافی لے دے ہوئی تھی،
موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستان یار سے اٹھ جائیں کیا
پولیس نے کہا کہ شاعر ' 'خوں ریزی کی باتیں کر رہا ہے، جنگ پر آمادہ دکھائی دے رہا ہے‘‘۔حالانکہ پروفیسر خالد کے مطابق ''غالب کا کہنا ہے کہمیں یہیں محبوب کی چوکھٹ پر بیٹھا رہوں گا۔مجھے کسی کا ڈر نہیں، یہ ذہن بنا لیا ہے، موت ہی مجھے اس چوکھٹ سے ہٹا سکتی ہے‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ ''ہم جانتے ہیں کہ غالب کی شاعری سوچنے پر مجبور کرتی ہے، کئی دریچے وا کرتی ہے،ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے، لیکن یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ قتل پر اکساتی ہے ‘‘۔
پولیس نے دوران سماعت مندرجہ ذیل اشعار کے بھی حوالے دیئے لیکن پروفیسروں کی تشریح کے بعد انہیں پولیس کا یہ موقف مسترد کرناپڑا۔ یہ الگ بات ہے کہ بے گناہوں کو رہا ہوتے ہوتے کئی سال لگ گئے ۔اشعار ملاحطہ کیجئے:
یہ لاش بے کفن اسدخستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ میری زنجیر کا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
اس فتنہ خو کے در سے تو اٹھتے نہیں اسد
اس میں ہمارے سر پر قیامت ہی کیوں نہ ہو
گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلا
ننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا
مٹ جائیگا سَر ،گر، ترا پتھر نہ گھِسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
ہر چند سْبْک دست ہوئے بت شکنی میں
ہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور
ہے موج زن اک قلزم خوں، کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھئے کیا کیا مرے آگے
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھرجوش اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
غالب شکنی اگر مہاراشٹرا تک محدود رہتی تب بھی خیر تھی، مدھیہ پردیش میں بھی اردو ادب کے خلاف اسی قسم کے بے سروپا مقدمات درج کئے گئے ۔ تھانہ سید آباد(حیدر آباد ) کے انسپکٹر پی دیوندر نے اپنے حلفیہ بیان میں اسی قسم کے الزامات لگائے ۔اسی تھانے میں ایک اور پولیس انسپکٹر اودھے سنگھ راٹھورنے ممبئی کے نفیس احمد انصاری اور میلگائوں کے شبیر احمد کے خلاف بطور ثبوت اردو کیڈمی دہلی کے زیر اہتمام شائع ہونے والا بچوں کا ایک جریدہ ''امنگ ‘‘ بھی پیش کیا ۔یہ دہشت گردی کے موادکا حصہ بنایا گیا تھا۔حالانکہ جریدے میں غالب سمیت کئی دوسرے شعرا ء کی سبق آموز شاعری بھی شامل کی گئی تھی۔اس جریدے کے لئے ''بارودی مواد‘‘ اور ''اسلحہ‘‘ اور ''مجرمانہ مواد‘‘ جیسی اصطلاحات اور الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔یہ تمام بارودی مواد اور غالب کی شاعری دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس وی کے شالی (VK Shali) کی سربراہی میں بنائے گئے خصوصی ٹریبونل میں پیش کئے گئے تھے۔
اگر غالب زندہ ہوتے تو وہ ایف آئی آر کا جواب کیسے دیتے .....یہی ناں،.....''اگر گدھا مجھے دولتی مارے تو کیا میں بھی گدھے کو لات رسید کردوں!‘‘یا پھر خاموش رہتے ،جہالت کی انتہا پر خون کے آنسو روتے اور پھر کہتے 'موج خوں سے یہی مراد ہے کہ عقل و دانش کا خون ہو گیا ہے‘۔
انڈیا میں اردو لٹریچر کو بھی باغیانہ لٹریچر قرارد یا جا رہا ہے۔بنگال اورآسام کے کروڑوں باشندے اور ان کی شاعری اسی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔جواہر لال یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر آشا سارنگی نے اس عمل کو ''لسانی نسل کشی ‘‘ قرار دیا ہے۔