سحر ہونے کو ہے ۔۔۔۔ محمد عمران

گئے وقتوں کی بات ہے چار ٹھگوں نے اپنی بکری فروخت کے لیے شہر لے کرجاتے ہوئے ایک سادہ لوح دیہاتی کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا، ایک ٹھگ اسے گاوں سے باہر ملا ، حال احوال کے بعد بولا چچا جان یہ کتا کہاں لے جارہے ہیں، ارے نہیں بیٹا یہ تو بکر ی ہے اور اسے فروخت کرنے کے لیے منڈی لے کر جارہاہوں ، نہیں چچاجان یہ تو کتا ہے، کچھ دیر بحث کے بعد پہلا ٹھگ یہ کہتے ہوئے چلا گیاکہ” ہے تو یہ کتا باقی جیسے آپ کی مرضی”۔

چند کلومیٹر کے بعد یہی مکالمہ دوسرے ٹھگ سے بھی ہوا اور آخر میں اس نے بھی ،”ہے تو یہ کتا کہتے ہوئے اپنی راہ لی” ، مزید چند کلومیٹر کے بعد تیسرے ٹھگ سے اور آخر میں شہر کے داخلی دروازے پر چوتھے ٹھگ سے بھی یہی مکالمہ ہوا۔ چاروں ٹھگوں سے مکالمے بعد دیہاتی کو یہ یقین ہو گیا یہ واقعی کتا ہے، اس نے بکری وہیں چھوڑی اور گھر کی راہ لی۔ ٹھگوں نے بکری قابو کی اور یہی ترکیب کہیں اور آزمانے چل پڑے۔

کچھ ایسا ہی حال پاکستانی قوم کا ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے گلیوں، نالیوں، پلوں،سکول ، کالجوں کا اس قدر راگ الاپا گیا کہ ہمیں بطور قوم یقین ہو چلا کہ ترقی کے معنی تو بس یہی ہیں، اسی وجہ سے ہم میں اکثر لوگوں کے ہیرو نوازشریف یا زرداری ہیں، بھلے انہوں نے یہ سب کام ہماری نسلوں کو گروی رکھ کر ہی کیوں نہ کیے ہوں۔ شائد یہی وجہ تھی جب عمران خان نے بھنگ کے ذریعے ملکی آمدن بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا تو کسی نے کہا کہ ” جن سو ارب درختوں کی بات ہوتی رہی وہ دراصل بھنگ کے درخت تھے، کسی نے کہا کہ دھرنے میں جو سبز باغ دکھائے گئے تھے ،وہ دراصل وہ بھنگ کے باغ تھے، وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھنگ کے مثبت استعمال سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ یوراگوئے نے 2013 میں بھنگ سے متعلق قانون پاس کرکے اسے تحفظ فراہم کیا۔ ہمارے پڑوسی ملک چین میں 40 ہزار ایکڑ ، کینیڈا میں ایک لاکھ ایکڑ، اس کے علاوہ برطانیہ ،آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، فن لینڈ، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، پولینڈ، پرتگال، سری لنکا، تھائی لینڈ اور دیگر کئی ممالک میں بھنگ کوطبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر خان صاحب اپنے ارادوں میں کامیاب ہو گئے تو وہ دن دور نہیں جب اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی بھنگ کے مثبت استعمال سے اربوں ڈالر کمائے گا۔

وطن عزیز کی آمدن بڑھانے کے لیے خان صاحب کا دوسرا اہم منصوبہ زیتون کی کاشت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ، اس وقت وطن عزیز میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت بنیادی سہولیات سےمزین جیسے ہارویسٹنگ باسکٹس ، معیاری تجزیے کے لیے آئل اینالائزر، فلنگ، کیپنگ سیلنگ مشین اور زیتون کا تیل ذخیرہ کرنے کے کنٹینرز سے آراستہ 09 پلانٹ انسٹال کیے گئے ہیں۔ ماہرین کےمطابق تین پلانٹ فی گھنٹہ 600 کلو گرام اور چھ پلانٹ فی گھنٹہ 100 کلوگرام تیل نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مزید براں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز کی شراکت سے زیتون کی پیداوار کے لیے 10 نرسریاں لگائی جا چکی ہیں، ایک اندازے کے مطابق 27 ہزار ہیکٹرز زمین پر زیتون کے درختوں کی کاشت کی جا چکی ہے جسے 70 ہزار ہیکٹرز تک لانے کا منصوبہ ہے۔

آلودگی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے شہروں میں 30 سال کی بجائے 10 سال میں جنگل اگانے کے منصوبوں پر عمل کیا جا رہا ہے، یاد رہے کہ صرف لاہور میں 50 مقامات پر یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

اسکے علاوہ خان صاحب کا اولین منصوبہ”مرغیاں اور کٹے “خاموشی سے جاری ہے،اس پروگرام کے تحت غریب عوام کو مفت مرغیوں کی فراہمی ، کٹوں کی افزائش کرنے پر نقد امداد، چار سے سات لاکھ کٹے اور پچاس لاکھ مرغی کے چوزے سبسڈی پر تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے پی ٹی آئی سرکار اپنے منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے دن رات ایک کردے ، مزید براں پارلیمنٹ کی مدد سے ایسی قانون سازی کی جائے کہ آنے والی حکومتیں اپنے ذاتی مفاد کی خاطران منصوبوں کو ختم یا ایسی ترامیم نہ کرسکیں جن سے یہ منصوبے غیر موثر ہوسکیں۔ ہم سب کو بھی چاہیے خان صاحب کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے مثبت کردار اداکریں، اپنی چادر دیکھ کر پاوں پھیلائیں ، اپنے اردگرد موجود ذخیرہ اندوزں کی اطلاع حکام تک پہنچا کر ان کی حوصلہ شکنی کریں ، اور اگر چینی ، آٹا اور اس قبیل کی اشیا کی بازار میں قلت ہوجائے تو جس قدر ممکن ہوسکے ان کا استعمال کم کردیاجائے، کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر ملکی تعمیرو ترقی میں اپنا کردار ادکرنا ہو گا۔