ترقی چاہتے ہیں تو نظام تعلیم بہتر بنائیں ۔۔۔۔ بلال شاہ

قوموں کےعروج و زوال کی داستانیں اگرچہ فطری قانون کے مطابق ہوتی ہیں تاہم اس میں اسباب و عوامل کا بھی کافی عمل دخل ہے جو فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ جس قوم کے پاس علم و ٹیکنالوجی موجود ہے، وہ دوسری اقوام پر نہ صرف معاشی برتری پا لیتی ہے بلکہ ان کو مفتوح بنانے پر بھی قادر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اساتذہ اور علم کی قدر جاننا ہو تو ترقی یافتہ ممالک چین، روس، جاپان، امریکہ و یورپ کو دیکھ لیں، اندازہ ہو جائے گا کہ استاد کی عزت ان معاشروں کا کہاں سے کہاں لے گئی کہ آج ان کا سکہ دنیا بھر میں چلتا ہے۔

جاپان کی مثال لے لیں، تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھایا جاتا ہے اور وہ ” اخلاقیات ” اور ” آداب ” ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا:”جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں”۔ نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس قول پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔

ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔ اشفاق احمد صاحب کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں، وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے۔ اس دن انہیں معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استاد کی عزت میں ہے۔

آپ یقین کریں استاد کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔ جاپان میں معاشرتی علوم ” پڑھائی” نہیں جاتی کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔

جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔
یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج کا راز…

*ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے*
*جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے*

موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت وافادیت کم و بیش ہر شخص کو معلوم ہے مگر تعلیمی اداروں کی نصابی و طبقاتی تقسیم نے اس کے مفہوم کو دھندلا دیا ہے اور ہمارے ہاں تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے اور غیر قوموں کی تقلید کے ناز وانداز سیکھنے کے علاؤہ کچھ نہیں رہی۔ ہمارے ناقص تعلیمی نظام نے ان اغراض ومقاصد کو فراموش کر کے کہ ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اپنی تہذیب و اقدار اور ان کی اپنی ایک نمایاں شناخت کے لئے راستے ہموار کرنے کے بجائے غیروں کی تقلید کے راستے کی طرف ترغیب کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

ہم عوام نہ جی رہے نہ مر رہے ہیں بلکہ عام آدمی سے لے کر وزیراعظم تک سب قرضے لے رہے ہیں اور قرضوں کے بوجھ تلے ہم غلامی کی دلدل میں سسکتی زنگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جہاں فکری، شعوری، معاشی، معاشرتی، تعالیمی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ” آ بیل مجھے مار ” کے مترادف ہے۔ آواز اٹھانے والا دوسرے ، تیسرے دن اس شخص کا پتہ نا معلوم افراد کے فہرست میں درج کیا جاتا ہے۔ یہاں ووٹ کے ساتھ ساتھ ضمیر بکتا ہے، ایوانوں ، عدالتوں اور کچہری میں کرنسی نوٹوں کے عوض بہت کچھ قابل فروخت ہے۔ جہالت کی انتہا کہ یہاں سود ، رشوت ، دھوکہ ، فریب ، جھوٹ اور ملاوٹ کو ہوشیاری اور عقلمندی سمجھاجاتا ہے۔ جو دھوکہ دینا نہ چاہے اس کو لوگ بے وقوف کہتے ہیں۔

بقول شاعر

*گلشن کی بربادی کیلیے ایک ہی الو کافی تھا*
*ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہو گا*

نوکریاں قابلیت کی بنیاد پر کم اور سفارش ورشوت سے زیادہ ملتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں اساتذہ کرام الاؤنس اور تنخواہ بڑھانے کے لیے سڑکوں پر نکلے جو کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس پر ہمارے نام نہاد رہنماوں نے لاٹھی چارج کروا دیا۔ جس قوم کے اساتذہ کو یہ مقام دیا جائے، اس قوم کے معیار تعلیم پر بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے ۔

مورخین اور تجزیہ نگار حیران ہیں کہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی قوم بھی موجود ہے جسکا قومی ترانہ فارسی میں ہے، قومی زبان اردو ہے، قوانین انگریزی میں، مذہب عربی زبان میں، ڈرامے ترکی کے ، فلمیں ہندوستانی، خواہشات یورپین ، عادات جاہلانہ اور خواب مدینہ منورہ میں دفن ہونے کے ہیں۔

آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں، اس لیے ہمارے پاس ” پاسنگ مارکس ” 65 ہیں تو برصغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کر دیئے گئے۔

اور ہم 2018 میں بھی انہی 33 فیصد نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں،
ہمارا تعلیم نظام صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ” پبلشرز ” بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے، اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں۔ بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں۔ اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں۔ خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں۔

بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کر دیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں۔ جن کے بچے فیل ہو جاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو “کوڑھ مغز” اور “کند ذہن” کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا۔ سوائے نقل کرنے اور چھاپنے کے…

ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے وہی قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے۔

ہم پہلی سے لے کر اور دسویں تک اپنے بچوں کو ” سوشل اسٹڈیز ” پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے کتنا ” سوشلائز ” ہونا سیکھا ہے؟ اسکول میں سارا وقت سائنس ” رٹتے ” گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی “سائنس دان” نامی چیز نظر نہیں آئے گی الا ماشاءاللہ…. کیونکہ سائنس “سیکھنے” کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی “رٹّا” لگواتے ہیں۔

ایک تجزیہ قابل غور ہے ملاحظہ فرمائیں۔ 20 سال تک بندے میں اچھے ، برے کی تمیز آجاتا ہے ۔ باقی عمر کے حساب سے بفرض 60 سال مجموعی عمر ہے تو (40) سال باقی بچتے ہیں۔ مطلب تعلیمی ڈگری لینے کے بعد نوکری یا کاروبار شروع کرنے اور تعلیمی ڈگری لینے میں بھی عمر کا بڑا حصہ بیت جاتا ہے۔ مان لیتے ہیں کہ ماسٹر کرتے ہوئے بچے کی عمر کم از کم (22) سے (25) سال تک تو ہو گی۔ یہ ہے ہمارے معاشرے کا حال جہاں تعلیم مکمل کرتے ہوے آدھی زندگی گزر جائے اور آدھی زندگی روٹی ، کپڑا ، مکان بنیادی ضروریات حاصل کرنے پوری ایک نسل گزر جائے وہاں غلامی ، بھوک و افلاس ، غربت اور مہنگائی جیسے ناسور جرائم و بیماریوں کی شکل میں ان صلاحیتوں کو کھا نہیں جاتے تو لازمی آنے والےوقت میں ہم بھی ترقی یافتہ اقوام کہلاتے۔

ہمارا خیال ہے کہ اسکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار حکام اعلی سر جوڑ کر بیٹھیں. اس “گلے سڑے” اور “بوسیدہ” نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں، بچوں کو “طوطا” بنانے کے بجائے “قابل” بنانے کے بارے میں سوچیں۔ علم جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے انسان میں ویسے ویسے عاجزی کا مادہ بھی بڑھتا جاتا ہے، کوئی انسان جتنا زیادہ علم رکھتا ہے اس میں ا نا اور تکبر اتنا ہی کم ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپکی تعلیم آپ کو کہاں لے کر جا رہی ہے؟ وزیر تعلیم سمیت اعلی حکام کے نوٹس میں لانا ضروری ہے کہ نظام تعلیم کو مثالی اور معیاری بنانے کے لئے تحقيق، تخلیقی و تصدیق پر مبنی اسباق، سلیبس کا حصہ بنائیں تا کہ معیار تعلیم کے ساتھ ملک کے بیٹے، بیٹیاں ملک کی ترقی خوشحالی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔