اصل اپوزیشن کون، نون لیگ یا پیپلز پارٹی ۔۔۔۔۔ عبدالکریم



ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال میں اصل اپوزیشن کونسی سیاسی جماعت کر رہی ہے، مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن پر سوار ہے۔ دونوں پارٹیاں پاکستانی سیاست کی سب سے بڑی جماعتیں ہیں، وفاق کی علامت بھی سمجھی جاتی ہیں، موجودہ سیٹ اپ میں عمران خان حکومت نے دونوں سیاسی جماعتوں کو غیر سیاسی کیا ہوا ہے۔ دونوں جماعتیں حکومت کی شدید مخالف ہیں، اب دونوں جماعتیں حکومت کی بجائے ایک دوسرے کی سیاسی حریف بنی ہوئی ہیں، سمجھ نہیں آرہی کہ اصل اپوزیشن کون کر رہا ہے۔

دونوں سیاسی پارٹیاں اصل اپوزیشن کی دعوے دار ہیں، ن لیگ کہتی ہے وہ اپوزیشن کا اصل رول نبھا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ وہ اپوزیشن کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے نزدیک حکومت کو سب سے زیادہ مشکل میں ڈالنے میں زرداری صاحب کا بہت بڑا کردار ہے۔ زرداری صاحب نے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد کیا۔ پی ڈی ایم کے بانی بھی زرداری صاحب ہیں۔ زراداری صاحب نے ہی مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف صاحب کو قائل کیا کہ سیاست کو سڑکوں کی بجائے پارلیمان میں رکھا جائے تو یہ جمہوریت کے لیے بہتر ہے۔ زرداری صاحب کے بقول سڑکوں کی سیاست سے صرف غیر جمہوری قوتوں کو ہی فائدہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے نزدیک یہ جنگ پارلیمان میں لڑی جائے جس کا فائدہ پی ڈی ایم کو ہوا ہے کہ پی ڈی ایم کی کامیابی ہی پارلیمان کی سیاست میں تھی۔ جب تک پی ڈی ایم میں اتحاد رہا ہے تو عوام کی امید بھی پی ڈی ایم کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ پی ڈی ایم میں موجود ہر سیاسی جماعت نے بہت سیاسی فائدے لیے ہیں، سب سے زیادہ سیاسی فائدہ پیپلز پارٹی نے لیا ہے چاہے گلگت بلتستان کا الیکشن ہو یا سینیٹ کا الیکشن ہو یا بھر ضمنی انتخابات ہوں، سب پی ڈی ایم کے اتحاد کی وجہ سے کامیاب رہے۔

زرداری صاحب کا پارلیمانی سیاست کا نظریہ بھی کامیاب رہا، آپ کہہ سکتے ہیں کہ زرداری صاحب نے پارلیمانی سیاست کے ذریعے اچھی اپوزیشن کی ہے۔ پی ڈی ایم کی پھوٹ کے بعد پیپلز پارٹی ن لیگ پر بہت الزام لگا رہی ہے، پیپلز پارٹی ن لیگ کے بارے میں کہہ رہی ہے کہ ن لیگ دوبارہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہو رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کا الزام ہے کہ ن لیگ ہمیشہ اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیلشمنٹ کا کندھا استعمال کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی اس کا الزام شہباز شریف پر لگارہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے بقول جب پی ڈی ایم بنی تھی تب شہباز شریف گرفتار ہوگئے تھے اور جب پی ڈی ایم ٹوٹی ہے شہباز شریف کی ضمانت منظور ہو گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے نزدیک شہباز شریف ن لیگ میں سے اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہیں کیونکہ شہباز شریف نظریہ ضرورت پر پورا اترتے ہیں۔ شہباز شریف کی سوچ نواز شریف اور مریم نواز کی سوچ سے بہت مختلف ہے۔ پیپلز پارٹی کے نزدیک ن لیگ پارٹی میں نظریاتی اختلافات کی زد میں ہے۔ لیڈر شپ کے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے ن لیگ میں اپوزیشن کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ پی ڈی ایم کی پھوٹ کے بعد مریم نواز کو پیپلز پارٹی سنجیدہ ہی نہیں لیتی اس لیے پیپلز پارٹی سمجھتی ہے اصل اپوزیشن صرف وہ لوگ ہی کر رہے ہیں۔

جہاں تک ن لیگ کا تعلق ہے تو وہ سمجھتی ہے اصل اپوزیشن کا کردار وہی ادا کر رہی ہے۔ ن لیگ کے بقول پیپلز پارٹی اسٹیلشمنٹ سے ملی ہوئی ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے بننے کے بعد ن لیگ کو پکا یقین ہو گیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کا سیاسی استعمال کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے باپ پارٹی کے جو ووٹ لیے ہیں اس کامریم نواز کوبہت صدمہ پہنچا ہے۔ مریم نواز کے بقول پیپلز پارٹی نے ن لیگ کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہے اور پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کو توڑ کر اپوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ پیپلز پارٹی اپوزیشن کی بجائے اب حکومتی اتحاد کا حصہ ہے کیونکہ باپ پارٹی حکومت کی اتحادی پارٹی ہے، اس سے ووٹ لینا اپوزیشن کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اس طرح دو کشتیوں میں سوار اپوزیشن اب حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہی۔

اب حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنے لوگوں سے خطرہ ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں حکومت کو حکومت سے خطرہ ہے۔ بہت سارے حکومتی ایم این اے اور ایم پی اے جہانگیر ترین کو اپنا سیاسی لیڈر مان رہے ہیں اور جہانگیر ترین موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ جہانگیر ترین حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر ان کا احتساب نہ روکا گیا تو وہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ حکومتی ایم این اے راجا ریاض تو سرعام کہ رہے ہیں کہ عمران حکومت جہانگیر ترین کے ایک اشارے کی مار ہے اور بھی بہت سارے پارٹی کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ عمران خان کو عدم اعتماد سے بھی جہانگیر ترین نے بچایا ہے، اگر عمران خان نے جہانگیر ترین پر احتساب نہ روکا تو ہم حکومت کی مخالفت کریں گے۔

جہانگیر ترین نے بہت سارے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو کھانے پر بھی اکٹھا کیا ہے جس سے حکومت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اب حکومت کا حال بھی پی ڈی ایم جیسا ہونے والا ہے، جس طرح موجودہ سیاسی حالات میں پی ڈی ایم کی جو سیاسی موت ہوئی ہے اس کی ذمے دار پیپلز پارٹی ہے۔ پی ڈی ایم کی تحریک حکومت مخالف تحریک تھی جس کو 11سیاسی جماعتوں نے مل کر شروع کیا لیکن شروعات میں ہی اس تحریک کو ذاتی سیاست کی نظر کیا گیا۔ یہ عوامی تحریک کی بجائے چند سیاسی گھرانوں کی مفادات کی نذر ہوگئی۔ اس تحریک کو حکومت مخالف ہونے کی بجائے ادارے مخالف بنایا گیا جس کی وجہ سے اس تحریک کو عوامی پذیرائی نہیں ملی۔ نواز شریف نے اپنے بیانیے سے اس تحریک کو دریا برد کر دیا اور رہی سہی کسر زرداری صاحب نے نکال دی۔

آپ کہہ سکتے ہیں نواز شریف نے اس تحریک کا جنازہ نکالا اور زرداری صاحب نے اس تحریک کا جنازہ پڑھایا۔ مولانا فضل الرحمان منہ تکتے رہ گئے۔ مولانا کو دونوں سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے تو پی ڈی ایم سے جو سیاسی فائدہ لینا تھا لے لیا۔ سینیٹ الیکشن میں جتنی بھی پیپلزپارٹی کو سیاسی کامیابیاں ملی ہیں سب پی ڈی ایم کی مرہون منت ہے۔ چاہے یوسف رضا گیلانی کا سینیٹر منتخب ہونا پھرسینیٹ کا اپوزیشن لیڈر بننا یہ سب پیپلز پارٹی کی سیاسی فتح کا نتیجہ ہے۔

جہاں تک ن لیگ کا تعلق ہے تو پی ڈی ایم کو سیاسی انتشار کے علاوہ کچھ نہیں دیا، تھوڑی بہت سیاسی کامیابیاں ملی ہیں۔ مریم نواز ایک لیڈر کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ چاہے ضمنی انتخابات ہوں یا بھر حمزہ شہباز کی بیل ہو۔ پی ڈی ایم کی پھوٹ میں مریم نواز کا بہت کردار ہے۔ مریم نواز نے پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بلاول بھٹو کو سلیکٹڈ کہا۔ اب تو ن لیگ حکومت کی بجائے پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے رہی ہے۔

ان دونوں سیاسی جماعتوں کی آپس کی لڑائی میں حکومت مزے میں ہے۔ حکومت سمجھتی ہے یہ دونوں پارٹیاں اپنے اپنےسیاسی مفادات کے لیے اکٹھی ہوئی تھیں، اس کٹھ کا کوئی نظریہ نہیں تھا۔ یہ نظریہ ضرورت کے تحت اکٹھے ہوئے تھے، نہ یہ پارٹیاں پہلے کبھی ایک دوسرے کی دوست تھیں نہ اب ہیں۔ نواز شریف اور زرداری صاحب کے ہوتے ہوئے یہ پارٹیاں کبھی اکٹھے نہیں چل سکتیں جس کا نقصان عوام اٹھا رہی ہیں۔

دونوں پارٹیوں نے پی ڈی ایم میں عوام کو بےوقوف بنایا ہے، نہ یہ عوام کے لیے اکٹھے ہوئے تھے نہ یہ عوام کا سوچتے ہیں۔ انکے نزدیک اقتدار ہی سب کچھ ہے۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک میں دیکھا جائے تو اپوزیشن عوام کاسوچتی ہے۔ ایک ہمارے ملک کی اپوزیشن ہے جو کبھی اپنی ذات اور دولت سمیت مفادات سے باہر نہیں نکلتی۔ نہ عوام کا درد پہلے ان کے دل میں تھا نہ اب ہے۔ اپوزیشن کو صرف جاتی امرا اور سندھ کے تخت کی فکر ہے۔ اس ملک میں اصل اپوزیشن عوام کے ووٹ کی طاقت ہے۔ نہ ن لیگ صحیح اپوزیشن کر رہی ہے نہ ہی پیپلز پارٹی صحیح اپوزیشن کر رہی ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں اپوزیشن کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگی ہوئی ہیں اور حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپوزیشن کو نیچا دکھانے میں لگی ہوئی ہے۔ نہ اس ملک کو صحیح حکومت ملی ہے نہ ہی اپوزیشن، اللہ اس ملک کو حقیقی اپوزیشن عطا فرمائے جو خالص عوام کا درد رکھتی ہو۔