فرسٹریشن

بچہ جب کھلونوں سے کھیل رہا ہوتا ہے تو ایسا مگن ہوتا ہے جیسے کُل دنیا یہی ہے. کھیلتے کھیلتے کسی کھلونا گاڑی کا پہیہ نکل جاتا ہے. بچہ بہت انہماک سے یہ پہیہ جوڑنے لگتا ہے. کچھ وقت اور کچھ ناکام کوششوں کے بعد آپ دیکھیں گے بچہ اشتعال میں آنے لگتا ہے. وہ اب aggressive ہوکر جوڑنے کی کوشش کرتا ہے. لیکن غصہ اسے اور مشکل بنا دیتا ہے. اچانک اشتعال کی ایک لہر میں بچہ جھنجھلاہٹ میں کھلونا زمین پر پٹخ دیتا ہے. کھلونا ٹوٹ جاتا ہے. اور بچہ رونا شروع کردیتا ہے.

اسے فرسٹریشن کہتے ہیں. ہمارے کام خواہشات یا پسند کے آگے کی ہر رکاوٹ ہر بند ہم میں فرسٹریشن کو جنم دیتی ہے. یہ انسانی فطرت میں ہے. کوئی بھی انسان اس سے مُبرا نہیں ہے. بس فرق فرسٹریشن کو ہینڈل کرنے کا ہوتا ہے. کچھ بچے بڑے ہوکر بھی فرسٹریشن کے سامنے بچگانہ رویہ ہی اپناتے ہیں. کچھ اسے ہینڈل کرنا سیکھ لیتے ہیں. چلتی سڑک پر ٹریفک روک جائے تو کچھ گاڑیاں صبر سے لائن میں کھڑی ہوجاتی ہیں. کچھ گاڑیاں ڈرائیور کی فرسٹریشن میں لائنیں توڑ کر مخالف سمت سے آتی گاڑیوں کے سامنے آجاتی ہیں. ٹریفک جیم ہوجاتا ہے.

زندگی بہتی ندی کی طرح ہے. ندی پر بلاوجہ بند باندھ لیں تو آخر کتنا پانی روکیں گے.؟ ایک دن جذبات کا ریلا یہ بند توڑ کر سیلاب بن جائے گا. بنی نوع انسان نے بہتی ندیوں پر بند آب پاشی اور توانائی کے حصول کیلئے باندھنا سیکھ لیا. آپ بھی یہ مان لیں زندگی قدم قدم مشکلات اور رکاوٹوں کا نام ہے. اپنی فرسٹریشن کو صحت مند راہ پر لگائیں. جیسے کھڑی ٹریفک میں بیٹھ کر صبر سے قران سننا یا ذکر الہی ہو. جیسے مشکلات یا رکاوٹوں میں پیچھے ہو کر دو رکعت نماز ہو.

صبر آپ کو وقت دیتا ہے. اور وقت مسائل و رکاوٹوں کے حل کے نت نئے طریقے اور انداز سکھاتا ہے. توڑ پھوڑ وقتی تسکین ضرور ہوتی ہے. لیکن پیچھے یہ صرف رونا اور پچھتاوا دے کر جاتی ہے