جہانگیر ترین گروپ اور تحریک انصاف۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔ عبدالکریم

کیا جہانگیر ترین گروپ حکومت کے لیےخطرہ ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جوآج کل حکومت کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ حکومت کو سب سے زیادہ خطرہ اپنے لوگوں سے ہے۔ یہ سب کے سامنے ہے کہ موجودہ حکومت کے قائم ہونے میں جہانگیر ترین کا کتنا ہاتھ ہے؟ کہ کس طرح سے جہانگیر ترین لوگوں کو اپنے جہاز میں بیٹھا کر بنی گالہ لائے اور پارٹی کو ایلکٹیبلز سے بھر دیا۔ یہ جہانگیر ترین ہی تھے جن کے جہاز کو عمران خان نے اپنی الیکشن مہم میں استعمال کیا۔ جہانگیر ترین پارٹی میں عمران خان کے بعد سب سے زیادہ بااثر تھے۔ پارٹی کے سب بڑے اور چھوٹے فیصلوں میں جہانگیر ترین موجود ہوتے تھے اور پارٹی پوزیشن پر اپنی رائے بھی دیتے تھے۔ بعض دفعہ ان کی رائے کو من و عن تسلیم بھی کیا جاتا تھا اورجس کافائدہ جہانگیرترین کو یہ ہوا کہ لوگ عمران خان کے بعد جہانگیر ترین کو پارٹی لیڈر سمجھنا شروع ہو گئے کیونکہ عمران خان صاحب کی ایک عادت ہے کہ وہ کم لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں اورپارٹی کے معاملات میں ہر کسی کو عمران خان صاحب تک پہنچنے کی رسائی بھی نہیں تھی۔

اس طرح پارٹی کے سارے معاملات جہانگیرترین کے ہاتھ میں جاتے چلے گئے۔ لوگ اپنے حلقوں کے مسئلے مسائل جہانگیر ترین کے پاس لے کرجاتے تھے۔ جہانگیر ترین کیونکہ سارا دن بنی گالہ میں رہتے تھے، اس لیے لوگوں کو عمران خان کی نسبت جہانگیر تریں بہت آسانی سے مل لیتے تھے۔ عمران خان صاحب نے بھی جہانگیر ترین کو پارٹی کے حوالے سے سارے اختیار دیئے ہوئے تھے۔ بعض تو ایسے معاملات تھے جس کا عمران خان کو بھی پتہ نہیں ہوتا تھا اور جہانگیر ترین حل بھی کر لیتے تھے۔

جہانگیر ترین کیونکہ پرانے سیاستدانوں کے دوست ہیں، اس لیے اپنا سیاسی اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں۔ سارے پرانے سیاستدانوں کے ساتھ ان کے سیاسی اور ذاتی مراسم بھی ہیں۔ اگر آپ جہانگیر ترین کا ماضی دیکھیں تو آپ کو جہانگیر ترین کا کوئی بہت بڑاسیاسی کارنامہ نظر نہیں آئے گا۔ جہانگیر ترین کو سیاست میں لانے والےمخدوم احمد محمود ہیں جوکہ جنوبی پنجاب کےبہت منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ جب مشرف صاحب کا طوطی بولتا تھا ملک میں مشرف راج تھا، مشرف نے شرط رکھی تھی کہ جو بھی ایم این اے بنے گا اسکی تعلیم کم ازکم بی اے ہو تو مخدوم احمد محمود بی اے نہیں تھے۔ انھوں نے 2002 کے الیکشن میں اپنی جگہ جہانگیر ترین کو اپنے حلقے رحیم یار خان سے کھڑا کیا اور جتوایا۔ جہانگیر ترین کو ق لیگ میں لانے والے بھی مخدوم احمد محمود ہیں۔ انہوں نے ہی جہانگیر ترین کو مشرف حکومت میں وزیر بھی بنوایا اور جب مشرف حکومت ختم ہوئی تو مخدوم صاحب ہی ان کو مسلم لیگ فنکشنل میں لے گئے۔ 2008 کا الیکشن بھی جہانگیرترین مخدوم احمد محمود کے حلقے سے لڑے۔ اسکے بعد جہانگیر ترین تحریک انصاف میں شامل ہو گئے جہانگیر ترین کو عمران خان نے پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا اور پارٹی کے سارے انتظامی معاملات جہانگیر ترین کو دے دیئے۔

سنہ 2013 کا الیکشن جہانگیر ترین اپنے حلقے لودھراں سے لڑے، اس میں یہ الیکشن ہار گئے۔ پھر ضمنی الیکشن ہوا اس میں یہ جیتے۔ پھر سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے۔ اس کے بعد ن لیگ ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین کی سیٹ سے جیت گئی اور جہانگیر ترین ابھی بھی نااہل ہیں۔ جب تحریک انصاف نے 2014 میں اس وقت کی حکومت کے خلاف دھرنے دیئے تو ان دھرنوں کا انتظامی کنٹرول جہانگیر ترین کے پاس تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں عمران خان نے جہانگیر ترین کو پارٹی کا اتنا بڑا عہدہ دیا، عمران خان نے ہی جہانگیر ترین کو ایک عام سیاستدان سے ایک بڑا سیاستدان بنایا کیونکہ جہانگیر ترین ق لیگ اور مسلم لیگ فنکشنل سے ہوتے ہوئے تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔

جہانگیر ترین کے پاس اس سے پہلے ق لیگ اور مسلم لیگ فنکشنل میں کوئی بڑا عہدہ کبھی نہیں رہا، اسکے باوجود عمران خان نے جہانگیر ترین کو پارٹی میں سیکرٹری جنرل کا بڑا عہدہ دیا۔ اس لیے کافی سارے سیاستدانوں سے ان کے ذاتی مراسم بھی ہیں۔ مختلف پارٹیوں سے بہت سارے لوگ تحریک انصاف میں شامل کرنے میں جہانگیر ترین کا بہت بڑا کردار ہے۔

جہاں تک جہانگیر ترین کے اس حکومت کو بنانے میں کردارکی بات ہے تو جہانگیر ترین خود بتا چکے ہیں کہ کیسے انھوں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ اس ملک میں حکومتوں کو بنانے کے لیے الیکٹیبلز کا بڑا رول ہوتا ہے۔ میں نے اس بات پر عمران خان کو قائل کیا، پھر کہیں جا کے عمران خان نے الیکٹیبلزکو ٹکٹ دیں اور جب حکومت بنی آپ کے سامنے ہے۔ یہ جو تحریک انصاف میں نئے چہرے ہیں یہ سب جہانگیر ترین کی وجہ سے پارٹی کا حصہ ہیں۔

حکومت تو جیسے تیسے بن گئی لیکن جب تحریک انصاف کی حکومت بنی اس کے کچھ ہی مہینوں بعد پارٹی میں اختلافات ہونے شروع ہوگئے تھے، پارٹی کے پرانے چہروں نے نئے چہروں کو قبول نہیں کیا۔ عمران خان سے بھی بہت غلطیاں ہوئیں۔ انھوں نے بھی نئے چہروں کو زیادہ عزت دی، وزارتیں زیادہ تر نئے چہروں کو دی گئیں اور مشیر بھی زیادہ تر نئے چہرے لگائے گئے۔ پنجاب میں وزیراعلٰی بھی تحریک انصاف کا اصل چہرہ نہیں ہے۔ پارٹی کے لوگ آہستہ آہستہ عمران خان سے ان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پارٹی کے اندر ناراض ہونا شروع ہو گئے۔

تحریک انصاف کا اصل نعرہ کرپشن کا خاتمہ ہے۔ عمران خان نے جو 2018 کا الیکشن جیتا ہے وہ کرپشن کے خاتمے کے نعرے سے جیتا۔ جب تحریک انصاف حکومت میں آئی تو اس سے پہلے پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین پر کرپشن کے کیسسز پہلے سے ہی عدالتوں میں چل رہے تھے تو اپوزیشن جیلوں میں جانا شروع ہو گئی تھی۔ اپوزیشن نے بھی کہنا شروع کر دیا تھا کہ ہماراانتقام کے نام پر احتساب ہو رہا ہے۔ جب حکومت کے اپنے لوگوں کی باری آئی تو حکومت نے ان کو بھی جیل میں ڈالا۔ پھر اس حکومت میں بہت سارے بحران بھی آئے جیسے پٹرول ،آٹا ،چینی، دوائیاں وغیرہ وغیرہ اور جو جو لوگ ان میں ملوث تھے حکومت نے ان کا بھی احتساب شروع کردیا۔ بہت سارے لوگوں کو وزارتوں سے ہٹایا گیا بہت سارے لوگوں کی وزارتیں بھی تبدیل کی گئییں توحکومت کرپشن کے خاتمے کے نعرے پرقائم رہی اور اب بھی قائم ہے۔

موجودہ حالات میں جہانگیر ترین حکومت کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ جہانگیر ترین کا بھی شوگر رپورٹ میں نام ہے۔ ایف آئی اے نے بھی ان کے خلاف تحقیقات کی ہیں، ان پر ایف آئی آر بھی کاٹی جا چکی ہیں۔ عمران خان ابھی بھی اپنے کرپشن کے خاتمے کے نعرے پر قائم ہیں۔ جہانگیر ترین کبھی پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز سے ملاقاتیں کرتے ہیں کبھی ان کو کھانے پر بلاتے ہیں، بہت سارے لوگوں کے نزدیک وہ عمران خان کو دھمکی لگا رہےہیں کہ اگر آپ نے میرا احتساب کیا تو میں آپکی حکومت گرا دوں گا۔

اس سے پہلے عمران خان نے پارلیمنٹ سے عدم اعتماد کا ووٹ لیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کو عدم اعتماد سے بچانے والے بھی جہانگیر ترین ہیں۔ اپوزیشن جہانگیر ترین کے معاملے پر بہت سیاست کر رہی ہے۔ مریم نواز کے بقول حکومت کا ایک گروپ اپوزیشن سے رابطے میں ہے۔ یہ حکومت ہمیں توڑنے کے لیے آئی تھی۔ اب خود اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور تحریک انصاف کے ممبران کی ایک بڑی تعداد حکومت سے متنفر ہو چکی ہے اب یہ حکومت نہیں رہے گی۔

جہاں تک عمران خان کی بات ہے انھوں نےتحریک انصاف کے 25ویں یوم تاسیس پر کہا ہے کہ ان کی پارٹی بنی بھی کرپشن کے خاتمے کے نام پر ہے اور ہمارے منشور میں بھی سب سے پہلے ملک میں کرپشن کا حاتمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا قومیں کرپشن سے تباہ ہوتی ہیں، وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو کرپشن پر قابو پا لیتی ہیں اور کرپشن ہی ساری بیماریوں کی جڑ ہے۔ اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت کے کارنامے بھی بتائے۔ اگر عمران خان کرپشن پر اپنے لوگوں کو این آر او دیتے ہیں تو اپنی پارٹی کے منشور کے خلاف جاتے ہیں۔ وہ یہ تو کہتے ہیں کہ میں اپوزیشن کو این آر او نہیں دوں گا اچھی بات ہے نہیں دینا چاہیے۔ جنہوں نے ملک کو لوٹا ان کا کڑا احتساب ہونا چاہیے لیکن ساتھ میں اپنے لوگوں کو بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ سنا ہے اندر کھاتے جہانگیر ترین سے بات چیت ہو رہی ہے اگر عمران خان جہانگیر ترین کو این آر او دے سکتے ہیں جو کہ غلط بات ہے آپ اپنی پارٹی کے منشور سے منحرف ہو رہے ہیں۔ پھر آپ کو نواز شریف اور زرداری سے بھی بات کرنا ہوگی۔ ملک کی خاطر سیاسی استحکام لانا ہوگا۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک کا کافی نقصان ہو چکا ہے۔

ہمارے خیال میں عمران خان کو جہانگیر ترین سے کوئی خطرہ نہیں ہے، عمران خان کو خود عمران خان سے خطرہ ہے۔ عمران خان کو اپنے آپ سے اصل خطرہ خود کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہے۔ اگر عمران خان کو لگتا ہے کہ کرپشن ہی اس ملک کی دشمن ہے تو کرپشن کے خاتمے کے لیے عمران خان کو کسی جہانگیر ترین یا نواز شریف یا زرداری سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر وہ حکومت بچانے کے لیے ان میں سے کسی کو بھی این آر او دیتے ہیں تو وہ اپنی پار ٹی منشور اور پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کریں گے۔ عوام نے عمران خان کو کرپشن کے خاتمے کے لیے ووٹ دیا تھا تو اب بھی کرپشن کے خاتمے کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان کے لیے حکومت بچانے سے زیادہ اہم پاکستان ہونا چاہیے۔ عمران خان کا نعرہ بھی سب سے پہلے پاکستان ہونا چاہیے پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔