نوچ کر اپنے جواں جسموں کی پُرنور بہار
کب تلک اور کریں گے رُخِ قاتل پہ نثار
روک سکتے نہیں سیلاب کو زندانوں کے در
تیغ بن جائے اگر ہاتھ میں لیں شاخِ شجر
اٹھ کھڑے ہوں گے یہ جلاد کی صورت اک دن
دیں گے قاتل کو نہ فریاد کی مہلت اک دن