قرآن اور ماہ رمضان ۔۔۔۔۔ مولانا امیر محمد اکرام اعوان

قرآن حکیم کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی ایک زمانے کیلئے نہیں جب تک دنیا آباد ہے اور سورج طلوع و غروب ہورہا ہے ، قرآن ہی کتاب ہدایت ہے

رمضان المبارک وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ کا کلام نازل ہوا ۔ اللہ نے بندوں کومخاطب فرمایا،بندوں سے کلام فرمایا ۔اسی لیے کہاگیا کہ اگر کوئی آدمی جسے بدکاروں یا گناہ کا روں کی صحبت میں جا کر یہ اندیشہ ہو کہ ان کی باتیں اس پہ غالب آ جائیں گی، وہ بھی ان جیسا ہوجائے گا۔ہاں! کوئی ایسا شخص جسے یہ خطرہ نہ ہو کہ ان کی باتیں مجھ پہ غالب آجائیں گی بلکہ جسے یہ امید ہو کہ میری بات ان پر اثر کرے گی تو اس پر تبلیغ فرض ہے۔جب دوآدمی آپس میں بات کرتے ہیں تو مزاجاً طبعاً جو کمزور ہوتا ہے، وہ دوسرے کی بات کا اثر لے لیتا ہے۔ آپ کسی ایک آدمی کو جواریوں کے ساتھ چھوڑدیں ، کچھ عرصہ رہے گا تو وہ بھی جواری بن جائے گا۔ ان کی باتیں ، ان کی حرکات اس پہ اثر کرجائیںگی۔ اسی طرح کسی کو نیکوں کی مجلس میں چھوڑ دیں تو رفتہ رفتہ وہ نیکی کی طرف مائل ہوتا چلاجائے گا۔ یہ حال تو ایک عام آدمی کی بات کا ہے اور جب اللہ کریم جل شانہ کلام فرمائیں تو اس کی عظمت کی کیا بات ہے ! جس نے وہ کلام سننا ہے اس نے توضرور مغلوب ہونا ہے اور اسی رنگ میں رنگے جانا ہے۔ اسی لیے کفار کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ یہ گونگے، بہرے ہیں یہ سنتے سمجھتے ہی نہیں۔نبی کریم ﷺ سے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا: ینظرون الیک وھم لا یبصرون آپ ﷺ کی طرف نگاہیں گھماتے ہیں لیکن آپ ﷺ کو دیکھ نہیں پاتے ۔ انہیں اپنے شہر مکہ کا ، اپنے قبیلے قریش کا عزیز،محمد بن عبداللہ (ﷺ) تو نظر آتا ہے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ ان کی نگاہ میں نہیں آتا،اسی لیے آپ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ ایسے بد نصیب ہیں اور ان کی نگاہ ایسی کمزور پڑ گئی ہے کہ ینظرون الیک آپﷺ کی طرف نگاہیں تو پھیرتے ہیں وھم لا یبصرون آپ ﷺ کو دیکھ نہیں پاتے۔آپ ﷺ کی شان، آپ ﷺ کی حیثیت ، آپﷺ کی عظمت سے آشنا نہیں ہوتے۔ اسی طرح جب حضورﷺ کلام حق ارشاد فرمارہے ہوتے ، صحابہؓ تلاوت کرتے تویہ آوازتو سنتے تھے اور منصوبے بھی بناتے تھے کہ جب کوئی قرآن پڑھ رہا ہوتو تم شور کرو تاکہ اس کی آواز دوسرے نہ سنیں اور کسی پر اثر نہ ہو۔ یہ سارے منصوبے تو بناتے تھے لیکن اللہ کریم فرماتے ہیں کہ خود گونگے بہرے تھے، سن ہی نہیں سکتے اور جو سن لیتا ہے وہ اس رنگ میں رنگا جاتاہے۔ یہ اللہ کریم کے کلام کی عظمت ہے۔

شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن یہ ایسا مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ کریم نے قرآن نازل فرمایا اور قرآن ایسی حقیقت ہے جس کی نظیر کہیں مل نہیں سکتی ۔ھدی للناس قرآن کی خصوصیت یہ ہے کہ اولادِ آدم جہاں بھی ہے، جتنی بھی ہے اور جس حال میں بھی ہے، اس سب کیلئے ہدایت ہے۔ انسان مدنی الطبع ہے،مل جل کر رہنے والا ہے۔ اس کے مل جل کر رہنے سے مختلف قبیلے،اقوام،پھر ممالک، حکومتیں، ریاستیں، علاقے وجود میں آئے۔حضور اکرم ﷺ سے پہلے جتنے نبی مبعوث ہوئے اورجتنی کتابیں نازل ہوئیں وہ مختلف علاقوں یا قوموں کیلئے تھیں اور مختلف زمانوں کے لیے تھیں ۔ انسانیت ترقی پذیرتھی۔انسانیت بھی پروان چڑھ رہی تھی لیکن اللہ نے اسے نور نبوت سے محروم نہ رکھا ہرقوم میں مسلسل انبیاء ؑ تشریف لاتے رہے اور ہر نبی دین اسلام کی تبلیغ کرتا رہا۔ہر نبی نے احکام الٰہی پہنچائے۔پھر ایسا زمانہ آیا کہ انسانیت اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ نوع انسانی اپنی بلوغت کو پہنچ گئی۔ اب اس میں مزید کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں تھی تو اللہ کریم نے نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی بناکر مبعوث فرمایا، ساری انسانیت کیلئے، بیک وقت اور یہ پہلی بار ہوا،۔ روئے زمین پر بسنے والی ساری قوموں کیلئے سارے لوگوں کیلئے ، سارے افراد کیلئے ، ایک ہی رسول اور ایک ہی کتاب۔

قرآن حکیم کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی ایک زمانے کیلئے نہیں ہے۔ جب تک دنیا آباد ہے اور سورج طلوع و غروب ہورہا ہے ، قرآن حکیم ہی کتاب ہدایت ہے۔ اس نے زندگی کے ایسے مکمل اصول و قوانین دئیے ہیں جو دنیا کے ہر فرد کیلئے بہترین اور قابل عمل ہیں۔ اللہ کریم نے جو قانون بنایا، وہ ساری کائنات کیلئے بنایا یہ ایسا جامع، معتدل قانون، آسان اورپاکیزہ ترین طرز حیات ہے کہ اس کے مطابق زندگی گزارنے والا نہ صرف اس دنیا میں خوشحال رہتا ہے، اللہ کی رحمتوں کا مرکز رہتا ہے بلکہ دوسری دنیا میں آنے والی ہمیشگی کی زندگی میں بھی کامیاب رہتا ہے اس کلام کے نزول کیلئے اللہ نے اس مبارک مہینے کو چنا۔