خلش

وہ خوبصورت لڑکیاں
دشت وفا کی ہرنیاں
شہر شب مہتاب کی
بے چین جادو گرنیاں
جو بادلوں میں کھو گئیں
نظروں سے اوجھل ہو گئیں
اب سرد کالی رات کو
آنکھوں میں گہرا غم لیے
اشکوں کی بہتی نہر میں
گلنار چہرے نم کیے
ہستی کی سرحد سے پرے
خوابوں کی سنگیں اوٹ سے
کہتی ہیں مجھ کو بے وفا
ہم سے بچھڑ کر کیا تجھے
سکھ کا خزانہ مل گیا
منیر نیازی