اشارے


شہر کے مکانوں کے

سرد سائبانوں کے

دل ربا تھکے سائے

خواہشوں سے گھبرائے

رہرووں سے کہتے ہیں

رات کتنی ویراں ہے

موت بال افشاں ہے

اس گھنے اندھیرے میں

خواہشوں کے ڈیرے میں

دل کے چور بستے ہیں

ان کے پاس جانے کے

لاکھ چور رستے ہیں


منیر نیازی