امریکہ کی انوکھی ’’خواتین اول ‘‘ ...صہیب مرغوب

امریکہ کی خاتون اول ہونا آسان نہیں ،کافی قابلیت درکار ہوتی ہے ، خود کو منظم اور قابل ثابت کرنا پڑتا ہے، کئی طرح کے پروٹوکولز سے واقفیت کے بغیر کام نہیں چلتا۔ اس کے باوجود بعض خاتون اول نے پروٹوکول یا صدارتی رکھ رکھائو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے طریقے سے وقت گزارا۔ اب ہم ایسی خواتین اول سے ملتے ہیں۔
جولیا ٹیلر:سابق صدر جان ٹیلر کی شریک حیات جولیا ٹیلر فرسٹ لیڈی کم اور سلیبرٹی زیاد ہ تھیں۔جان ٹیلر نے پہلی بیوی کی وفات کے بعد ان سے شادی کی تھی۔انہیں اپنے دور کی ''ماڈل کم کردشیان‘‘ کہا جاتا تھا ۔انہوں نے شادی کی ایک تصویر کا ٹائٹل رکھا ''صدر کی شریک حیات ‘‘ ۔ شادی کی یہ یادگار تصویر مہنگے داموں بک گئی تاکہ عوام بھی شریک حیات کی خوبصورت تصویر سے محظوظ ہو سکیں ۔ وہ پہلی خاتون اول تھیں جن کا نام گرامی اخبارات کی سرخیوں میں ''ماڈلنگ‘‘ کی وجہ سے پہلے ہی شائع ہو رہا تھا ۔اخبارات ان کے ملبوسات کے ڈیزائنز ، زیورات اور میک اپ پر تبصروں سے بھرے ہوتے تھے۔عوامی مقبولیت کایہ عالم تھا کہ لوگ ان سے سفارشیں کرانے لگے تھے۔
فلورینس ہارڈنگ: وارن جی ہارڈنگ کی شریک حیات فلورینس ہارڈنگ نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں بھوت پریت پر یقین کیا جاتا تھا۔اسی توہم پرستی کے ساتھ فلورینس ایوان صدر میں خاتون اول کے طور پر داخل ہو گئیں۔ وہ ا یوان صدر کے بستروں کابھی خاص خیال رکھا کرتی تھیں۔ ان کے خیال میں گوداموں اور بستروں پر بھوت پریت بھی ڈیرے ڈال لیتے ہیں، اگر کوئی ملازمہ غلطی سے مسہری کے کونے پر کوئی چیز رکھ دیتی تو اس کی شامت آ جاتی تھی۔ ان کے نزدیک اس حرکت سے قسمت پھوٹ جاتی ہے۔وہ کہتی تھیں، '' ستارے ہماری رہنمائی کرتے ہیں‘‘۔مادام مارشیا نامی ستارہ شناس سے خاص دوستی تھی۔ روایت کے مطابق ایک بار ستارہ شناس نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ایوان صدر ہی کی کوئی لڑکی ان کے شوہر پر ڈورے ڈال سکتی ہے،اور اگر شوہر صدارتی انتخاب جیت گئے تو ان کی زندگی ختم ہو جائے گی۔ فلورینس ہومیو پیتھک علاج کرایا کرتی تھیں۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق انہوں نے گردوں کا علاج بھی ایک ہومیو پیتھک ''ڈاکٹر‘‘ سے کرایا۔ اور پھر صدر کو کہہ کر ایوان صدر میںسرکاری فزیشن بنوا دیا۔ اسی دوران جب وارن ہارڈنگ کو دل کا دورہ پڑا توفزیشن نے اسے فوڈ پوائزنگ قرار دے دیا جس پر صدر جانبر نہ ہو سکے۔
ڈولی میڈیسن: سابق صدر جیمز میڈیسن کی شریک حیات ڈولی میڈیسن بھی کمال کی خاتون تھیں۔سابق صدر تھامس جیفرسن کے دور میں شوہر کے وزیر خارجہ بنتے ہی ان پر بھی ایوان صدر کے دروازے کھل گئے تھے ۔ان کے حوالے سے کئی طرح کی قیاس آرائیاں گردش کرتی رہتی تھیں۔وہ سیاست دانوں کو دعوتوں پر بلا کر شہرت حاصل کرنے کی متمنی تھیں، مہمانوں کو خود آئس سرو کیا کرتی تھیں، بعض بلز ہالی ووڈ کی شخصیات نے بھی چکائے۔
نینسی ریگن:سابق صدر رونالڈ ریگن کی شریک حیات بھی ستارہ شناس تھیں۔جون کنچلے (Joan Quigley) نامی ایک ستارہ شناس کا ایوان صدر میں آنا جانا تھا۔صدر کی حفاظت کے لئے انہوں نے کنچلے کی مدد سے ان کی تمام مصروفیات کا ایک چارٹ بنا لیا تھا۔ صدارتی خطابات، دیگر تقاریر، پریس کانفرنسوں کا وقت، طیارے میں اڑان .....سبھی کام ستارہ شناس کے مشورے سے طے کئے جاتے تھے ۔حتیٰ کے انتخابی ڈیبیٹس کا وقت بھی انہی کی مرضی سے طے کیا جاتا تھا۔
ایلینور روزویلٹ:سابق صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ کی اہلیہ ایلینور روز ویلٹ سپر ماڈل تھیں۔ انہوںنے سموسوں سے لے کر گدے تک ،ہر شے کی ماڈلنگ میں حصہ لیا۔دوران صدار ت بھی انہیں ماڈلنگ کی پیش کشیں ہوتی رہیں۔کانگریس نے ان کے خلاف انکوائری کرانے کا بھی سوچا، لیکن جونہی معلوم ہو اکہ ماڈلنگ کی تمام آمدنی خیراتی اداروں کو چلی جاتی ہے تو گانگریس کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
میری ٹاڈ لنکن:سابق صدر ابراہام لنکن کی شریک حیات میری ٹاڈ لنکن کو دو بچوں کی جدائی نے بد روحوں کے قریب کر دیاتھا۔انہیں کئی مرتبہ محسوس ہوا کہ روحیں ان سے رابطے کے لئے بستر کے آس پاس گھوم رہی ہیں ۔ اپنے شوہر کے قتل کے بعد بیوہ نے ''روحانیت‘‘ کے اجلاسوں میںبھی جانا شروع کر دیا تھا۔
بیس ٹرمین:ایلزبیتھ ورجینیا ٹرومین المعروف بیس ٹرومین سابق صدر ہیری ایس ٹرومین کی اہلیہ تھیں۔انہیں اپنے شوہر سے اس قدر پیا رتھا کہ وہ ہر وقت ان کے ساتھ رہنے کی خواہش مند تھیں۔ان کے خیال میں میسوری جنت اور واشنگٹن ڈی سی جہنم تھا اسی لئے وہ شوہر کے سینیٹر اور پھر صدر بننے پربھی خوش نہ تھیں۔وہ بھی کپڑوں کو شیطانی روحوں سے بچانے کے لئے کئی سو میل دور دھلنے کے لئے بھجواتی تھیں۔
ایلزبتھ اینی فورڈ: ایلزبیتھ اینی فورڈ ''بیٹی فورڈ‘‘ کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔سابق صدر رچرڈ نکسن کے استعفے کے بعدنائب صدر جیرالڈ فورڈنے اچانک صدارت سنبھال لی۔خاتون اول بننے کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ پہلے کی طرح آزاد خیالی کے ساتھ باتیں کرتی رہیں، نشہ پر گفتگو کرنا ان کامعمول تھا،حتیٰ کہ وہ اپنی شادی شدہ زندگی پر بھی باتیں کیا کرتی تھیں۔1976ء میں وہ آرتھرائٹس کی وجہ سے شوہر کی انتخابی مہم میں حصہ نہ لے سکیں۔
لوئیس ایڈمز : جان کوئنسی ایڈمز کی اہلیہ لوئیس کوئنسی کی شادی22برس کی عمر میں ہوئی، ایک نوکری کی وجہ سے انہیں اپنے دو بچوں سے آٹھ برس جدا رہنا پڑا۔ انہوںنے جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کی لاشوں کے ڈھیر بھی دیکھے۔ انہوںنے ڈرامے بھی لکھے۔
راکیل جیکسن :اینڈریو جیکسن کی شریک حیات راکیل جیکسن کی کم عمری میں ہی شادی لوئیس ربرڈز سے ہو گئی تھی ، مگر جلد ہی طلاق لے کر اینڈریو سے شادی کر لی۔انہیں بھی شوہر کے صدارتی انتخاب سے کوئی دل چسپی نہ تھی ۔
جیکی کینیڈی :انہیں اقتدار کے ایوانوں میں رہنا اچھا لگتا تھااسی لئے انہوں نے جان ایف کینیڈی سے اور بہن لی نے پولینڈ کے شہزادے سے شادی کرلی تھی۔ کینیڈی کے قتل کے مناسب وقت کے بعد جیکی نے بہن کے ''منگیتر‘‘ ایک ارب پتی یونانی ارسطو اوناسس سے شادی کر لی۔
کلاڈیا الٹا : آپ سابق صدر لڈن بی جانسن کی شریک حیات تھیں اور ''کلاڈیا برڈ‘‘ کے نام سے بھی مشہور تھیں۔ جانسن کے ایک دوست انہیں ''گوریلہ ‘‘ کہتے تھے۔
تھیلمیا کیتھرین پیٹ نکسن : سابق صدر نکسن کی شریک حیات اس قدر مشہور تھیں کہ جب نکسن نے انتخابی مہم کا آغاز کیاتو سب سے معروف نعرہ تھا ''پیٹ برائے خاتون اول‘‘۔انہیں واٹر گیٹ سکینڈل کی خبر ہی نہ ہونے دی گئی ورنہ وہ اپنی مقبولیت کی بدولت شوہرکو اس بحران سے نکال سکتی تھیں۔