دل وہی ہے جس میں وہ دل دار ہے
آنکھ وہ ہے جس میں روئے یار ہے

طالب دیدار سے پردہ نہیں
کیوں حجاب رخ نقاب یار ہے

ہے خطا اس رند کا مست الست
جو شراب عشق کا سرشار ہے

رنگ گل پھیکا ہے جس کے سامنے
اتنا رنگیں یار کا رخسار ہے

ڈھونڈتے ہیں کس کو سب اہل طلب
وہ تو ہم سب کے گلے کا ہار ہے

یا خدا اکبرؔ کی کشتی کو نکال
تو ہی اس بیڑے کا کھیون ہار ہے
شاہ اکبر دانی پوری