اللہ کا حصہ

دین و دنیا کی دولت سے سرشار ایک رئیسِ شہر صبح کی سیر کے بعد جونہی باغ سے نکل کر پارکنگ میں موجود اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تو مسکین صورت بنائے ایک نوجوان ہاتھ جوڑ کر فریاد کرنے لگا: جناب! میں کسی سے بھی روٹی کیلئے پیسے نہیں مانگتا، میری التجا ہے کہ خدا کے نام پر مجھے کہیں کوئی نوکری دلوا دیں۔ رئیس اس کی بات سن کر تھوڑا سا مسکرایا اور کہا: میرے پاس تمہارے لیے کوئی نوکری تو نہیں البتہ تمہاری بہتری کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کروں گا۔ پھر اس نے نوجوان سے ایک سوال پوچھا جس نے اسے چونکا دیا۔ وہ بولا: کیا تم میرے بزنس پارٹنر بننا پسند کرو گے؟ نوجوان کو اس شخص کی بات سمجھ نہ آئی اور ہکلا کر بولا: کیا کہا جناب نے؟ رئیسِ شہر نے دوبارہ کہا: کیا تم چاول بیچنے کے کاروبار میں میرے حصہ دار بنو گے؟ اس نوجوان نے منمناتے ہوئے کہا: میرے پاس تو دس‘ بیس روپوں کے علاوہ اور کچھ نہیں‘ میں کسی کاروبار کا حصہ دار کس طرح بن سکتا ہوں؟ آپ اگر مجھے کوئی نوکری دے دیں تو میرے لیے یہی بہت ہو گا۔
رئیسِ شہر اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے گیا اور ملازمین سے کہہ کر اسے پیٹ بھر کر ناشتہ کرایا۔ اس کے بعد اس نے نوجوان کو بلایا اور کہنے لگا: میں چاہتا ہوں کہ تم میرے کھیتوں کے چاول مارکیٹ میں لے جا کر بیچو‘ اس کیلئے میں تمہیں مارکیٹ میں ایک جگہ کرایہ پر لے دوں گا، تمہیں چاولوں کی بوریاں ملتی رہیں گی جسے تم محنت سے بیچو گے تو یقینا منافع ہو گا اور ہر مہینے تم جتنے چاول بیچو گے‘ اس کا جو منافع حاصل ہو گا‘ وہ ہم دونوں آپس میں بانٹ لیا کریں گے۔ نوجوان یہی سمجھتا رہا کہ اس کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے کیونکہ بڑے لوگوں کی اکثر یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ غربا کا مذاق اڑایا کرتے ہیں لیکن جب اس رئیس نے دوبارہ یہ پیشکش کی تو بے ساختہ خوشی اور تشکر سے نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور اس نے نیک دل انسان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ''یوں لگ رہا ہے کہ جیسے یہ سب کچھ خواب ہے‘‘۔
رئیس آدمی نے نوجوان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: جانتے ہو چاولوں کی تجارت سے ملنے والا منا فع کس طرح تقسیم ہو گا؟ نوجوان نے یہ سنتے ہوئے دل ہی دل میں سوچا کہ اس منافع کا اگر نوے فیصد یہ نیک انسان رکھے اور مجھے دس فیصد بھی مل جائے تو مزہ آ جائے بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اس منافع کا پچانوے فیصد رئیس اور مجھے پانچ فیصد ہی مل جائے تو موجیں ہو جائیں گی۔ رئیس شخص نے جب اسے بتایا کہ ''ہر ماہ ملنے والے منافع میں سے 90 فیصد تمہارا اور صرف دس فیصد میرا ہو گا‘‘ تو نوجوان کو ایسا لگا کہ یہ سب کچھ واقعی رئیس شہر کا ایک کھیل اور مذاق ہے جس کا جلد ہی ڈراپ سین اس طرح ہو گا کہ تاجر اپنے ملازمین کو بلا کر اسے چند روپے دے کر باہر بھجوا دے گا۔ وہ جلدی سے صوفے سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے دونوں ہاتھ باندھ کر ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے بولا: جناب والا! مجھے اب اجازت دیں‘ میرا اتنا خیال رکھنے کا بہت بہت شکریہ! رئیس نے اس سے پوچھا: کیا تمہارا بزنس پارٹنر کی حیثیت سے میرے ساتھ کام کرنے کا ارادہ بدل گیا ہے؟ لگتا ہے کہ تمہیں سڑک پر کھڑے ہو کر لوگوں کی منتیں کرنا ہی بھلا کام لگتا ہے۔ نوجوان نے ہکلاتے ہوئے کہا: کہیں آپ یہ سب مذاق تو نہیں کر رہے؟ آپ نے منافع کی تقسیم کی جو ناقابل یقین اور حیران کن پیشکش کی ہے‘ وہ سننے کے بعد مجھے تو ابھی تک اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا؟ یہ سن کر تاجر نے بلند آواز قہقہہ لگاتے ہوئے کہا: اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تمہارے لیے ایک باعزت اور مناسب روزگار کا بندوبست ہو جائے۔ میں تم سے صرف دس فیصد منافع ہی وصول کیا کروں گا اور اس کے بدلے میری صرف ایک شرط ہے، وہ یہ کہ تم لگن، محنت اور ایمانداری سے یہ کام کرتے رہنا اور کبھی بھی مجھے منا فع دینے میں سستی نہ کرنا۔ ہر ماہ کی آخری تاریخ کو ہم بیٹھ کر حساب کیا کریں گے اور پھر اپنا حصہ لیا کریں گے۔ نوجوان نے عاجزی اور انکساری سے ان کے قدموں میں جھکتے ہوئے کہا کہ وہ خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہے کہ اسے ہمیشہ ایک محنت کرنے والا ایماندار اور ہر وقت اپنا وفادار پائیں گے۔
نیک دل رئیس نے اس شخص کیلئے شہر کی ایک مارکیٹ میں ایک گودام اور رہنے کیلئے کرائے پر ایک گھر اور کچھ کپڑوں اور ضروریاتِ زندگی کے سامان کا بندوبست کر دیا تاکہ وہ باعزت طریقے سے مارکیٹ میں بیٹھ سکے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان کی سخت محنت اور توجہ سے کاروبار ترقی کرنے لگا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ رئیس شخص نے اسے مارکیٹ سے بہت بہتر کوالٹی کے چاول سپلائی کرنا شروع کیے تھے اور ساتھ ہی اسے کم منافع پر کام کرنے کی تاکید کی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مہینہ گزر گیا اور طے شدہ اصول کے تحت گداگر نوجوان کو منافع کا نوے فیصد اور تاجر کو حسبِ وعدہ دس فیصد دیا گیا۔ ایسے ہی چند سال گزر گئے۔ کاروبار حیران کن حد تک بڑھ گیا اور نوجوان نئے نئے کرنسی نوٹوں کو بار بار گننے اور ان کے لمس سے مسحور ہونا شروع ہو گیا۔ اسے اب یہ خیال بھی ستانے لگا کہ صبح سویرے وہ اٹھتا ہے‘ گودام کی صفائی کے بعد سارا سارا دن مارکیٹ میں مال بیچنے کیلئے محنت کرتا ہے‘ اتنے عرصے میں وہ رئیس ایک دن بھی مارکیٹ میں نہیں آیا بلکہ گھر بیٹھے بیٹھے دس فیصد حصہ لے لیتا ہے، اصولی طور پر یہ سب کچھ اس کی محنت کا ثمر ہے، چاول کا کیا ہے‘ وہ تو کہیں سے بھی لیا جا سکتا ہے۔ چند ہی سالوں میں نوجوان کے پاس دولت کی بھرمار ہو گئی‘ اس نے شہر کے پوش علاقے میں کنالوں پہ محیط ایک گھر خرید لیا۔ اب اس کی چال ڈھال ہی بدل گئی تھی۔ کئی افراد اب اس کے ماتحت کام کرتے تھے۔
ایک بار ایسا ہوا کہ مہینے کی آخری شام وہ حساب کتاب نہیں کر سکا اور اسی وجہ سے اس رئیس کو اس کا حصہ دینے بھی نہیں گیا۔ اگلے روز سویرے سویرے ہی سیر سے واپسی کے بعد اس رئیس نے نوجوان کے گھر کی ڈور بیل بجائی۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے رئیس کو دیکھ کر جلدی سے بولا: جناب ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا اور آپ اپنا حصہ لینے میرے گھر پہنچ گئے ہیں‘ کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ محنت سارا دن میں کرتا ہوں آپ تو اتنے سالوں میں ایک دن بھی مارکیٹ نہیں آئے، آپ کو اپنا منافع اتنا ہی عزیز تھا تو ''میرے گودام‘‘ پر آ جاتے‘ اتنی سویرے مجھے ضرور تنگ کرنا تھا۔ اپنے محسن کو اس نے ہلکی سی آواز میں بھی اندر آنے کو نہ کہا، کچھ دیر تک وہ اس نوجوان کی باتیں سنتا رہا اور پھر چپ چاپ لوٹ گیا۔ البتہ راستے بھر وہ سوچتا رہا کہ اسے اپنے دس فیصد منافع کا نہیں بلکہ یہ اس کے نہ آنے کی وجہ سے لاحق ہونے والی تشویش تھی‘ جو اس نوجوان کے دروازے تک لے گئی۔ اب اس کہانی کو یہیں چھوڑتے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ اگر ہم میں سے کسی کے ساتھ اس رئیس کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک کیا جائے تو ہماری کیا کیفیت ہو گی؟ کل تک بھیک مانگنے والے، گڑگڑانے اور نوکری کیلئے منت کرنے والے شخص کے بارے میں ہمارا کیا رویہ ہو گا؟
ہمارے پاس آج جو کچھ بھی ہے یہ سب خداوند تعالیٰ کی ذات کا عطا کردہ ہے؟ خالقِ دو جہاں‘ جو ہمارا بز نس پارٹنر ہے‘ اس نے ہمیں صحت مند جسم دیا ہے، ہمیں چلنے پھرنے کے قابل بنایا ہے‘ ہمارے لیے نجانے کہاں کہاں کی نعمتیں مہیا کی ہیں‘ ہمیں روزگار اور کاروبار دیا ہے‘ ہمیں زمینیں اور جاگیریں دی ہیں‘ ہمیں مارکیٹوں اور سڑکوں پر ٹھیلے اور اڈے بنانے کیلئے جگہ دی ہے اور اس کے بدلے میں وہ ہم سے ان سب نعمتوں کا ایک مقررہ حصہ مانگتا ہے۔ اللہ کا حصہ جانتے ہیں کیا ہے؟ یہ کہ اس کی مخلوق کو تنگ نہ کیا جائے، اس کے مستحق اور لاچار بندوں، یتیموں‘ بیوائوں‘ معذوروں اور بیماروں کا خیال رکھا جائے، اس کی راہ میں خرچ کیا جائے جسے وہ یقینا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کئی گنا کر کے واپس کرے گا۔ ہم سب کو آج اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم اللہ کو اس کا حصہ دے رہے ہیں؟ کیا ہم بھی اس کی ناشکری اور کفرانِ نعمت تو نہیں کر رہے؟ کہیں ہم سب بھی اس نوجوان گداگر کی طرح تو نہیں ہیں؟
منیر بلوچ