ن لیگ کا اندرونی بحران ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ ۔۔۔۔ سلمان غنی

پاکستان میں اتفاق رائے کی سیاست ہوتی نظر نہیں آرہی ۔کیونکہ حکومت او راپوزیشن ایک دوسرے کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی معاملات حل ہونے کی بجائے مسلسل خراب ہورہے ہیں ،اس کا نقصان ملک کو ہورہا ہے ۔بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت چاہے ،وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں ، حالات کی نزاکت کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو ساتھ ملاکر کئی معاملات پر قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن یہ عمل ظاہری ہے ،در حقیقت وہ تن تنہا سارے معاملات کو حل کرنا چاہتی ہے اسی لئے اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت انہیں اہم قومی امور پر ساتھ ملانے کی بجائے دیوار سے لگانا چاہتی ہے ۔ ان کے بقول ’’حکومت اس کام کیلئے احتساب کو ہمارے خلاف استعمال کررہی ہے ‘‘ کہا جا رہا ہے کہ بجٹ کے بعد حکومت اپوزیشن کوجکڑنے کی کوشش کرے گی۔
بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی کمزوری اور ان کی اندرونی کش مکش کو دیکھ کر حکومت سمجھ رہی ہے کہ اپوزیشن میں کوئی بڑی حکومت مخالف تحریک چلانے کا دم خم نہیں ہے اسی لئے وزیر اعظم اور ان کے وزراء اپوزیشن پر سیاسی چڑھائی کئے ہوئے ہیں تاکہ ان کو دبائو میں رکھ کر وہ اپنے سیاسی مفادات کو آگے بڑھاسکیں ۔ یہ سب کچھ اس لئے بھی ہورہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی تقسیم کا شکار ہیں ۔ پیپلز پارٹی او راے این پی کے نکل جانے کے بعد پی ڈی ایم میں وہ دم خم نظر نہیں آتا ۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کوشش کررہے ہیں کہ پیپلز پارٹی او راے این پی کو دوبار ہ متحدہ اپوزیشن کا حصہ بنایا جاسکے لیکن نواز شریف ، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ جب تک پیپلز پارٹی معافی نہیں مانگے گی یا اپنی وضاحت جاری نہیں کرے گی ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ، نواز شریف اور مریم نواز پیپلز پارٹی او راے این پی کے بغیر ہی اپوزیشن کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ، اس کے برعکس بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ مریم نواز کی سیاست اپوزیشن کو متحد کرنے کی بجائے اسے تقسیم کررہی ہے او رہم حکومت کے خلاف ایک ہونے کی بجائے خود آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑرہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی بھی اپوزیشن کی سیاست میں مستقبل میں نواز شریف ، مریم یا مولانا فضل الرحمن کی طرف دیکھنے کی بجائے شہباز شریف کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں ۔ بلاو ل بھٹو کہتے ہیں کہ ہم صرف اسی مسلم لیگ ن کو جانتے ہیں جس کے سربراہ شہباز شریف ہیں ۔ یہ ساری صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اپوزیشن دو حصوں میں واضح طو ر پر تقسیم ہوگئی ہے۔
شہباز شریف کی بطور اپوزیشن لیڈر کوشش ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کی مدد سے کوئی سیاسی حکمت عملی اختیار کریں ۔ شہباز شریف حالیہ دنوں میں کافی فعال او رکافی متحرک نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے تمام فریقین کے درمیان مفاہمت کی بات کی ہے ۔ ان کے بقول تمام جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کی بجائے قومی مسائل جو بہت حد تک خراب ہیں ان پر اتفاق رائے کی ضرورت ہے ۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ شفاف انتخابات،معاشی استحکام اور سیکورٹی کے معاملات پر اتفاق رائے ناگزیر ضرورت ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن میں ایک گروپ مفاہمت کی بجائے مزاحمت کی سیاست اختیار کرکے ٹکرائو کی کیفیت پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ مریم نواز کہتی ہیں کہ مفاہمت کی سیاست اسی صورت میں کامیاب ہوگی جب ہم بھرپور مزاحمت کر کے اپنی طاقت دکھائیں گے ۔ بظاہرایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کا اندرونی بحران بڑھ رہا ہے اوراگر مسلم لیگ ن نے جلدی اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل نہ دی تو بحران مزید واضح ہونے کا امکان ہے ۔ مسلم لیگ ن کو بحران سے نکالنے کا فیصلہ نواز شریف نے ہی کرنا ہے ۔ اب دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔شہباز شریف کو لگتا ہے کہ اب ہمیں حالات کو سمجھنا ہوگا اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ دوسری طرف حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ معاشی حالات درست ہوگئے ہیں او رمعاشی ترقی کے ایسے اعداد وشمار پیش کئے جارہے ہیں جیسے ’’سب اچھا‘‘ ہو۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس عام آدمی کو دینے کے لئے کیا ہے؟ کیونکہ عام آدمی کو ’’سب اچھا ‘‘ سے متعلق اعدادوشمار کے باوجود ریلیف نہیں مل رہا ۔ وہ معاشی بدحالی کا شکار ہیں ۔ مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہے پھر بھی حکومت شادیانے بجارہی ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں ۔ جب تک عام آدمی کو معاشی بہتری کا احساس نہیں ہوگا ،اس وقت تک لوگ اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں ۔
ان حالات کو بنیاد بنا کر پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں حکومت کے خلاف نئی سیاسی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے اور جولائی سے حکومت کے خلاف جلسے جلوس کو حتمی شکل دی جارہی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ حکومت کو کسی بھی سطح پر ریلیف نہیں دیں گے کیونکہ حکومت صرف اپنی ہی جماعت کیلئے سیاسی بوجھ نہیں بلکہ اس نے پورے ریاستی نظام کو ہی مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز کہتی ہیں کہ جو سلیکٹرز اس حکومت کو لے کر آئے تھے وہ بھی اب مشکل میں نظر آ رہے ہیں کہ اس حکمران طبقے نے انہیں بھی مایوس کیا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپوزیشن کی تقسیم، اپوزیشن کے دو مختلف اتحاد اور ان کی اندرونی کمزوریوں کے باوجود حکومت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق ہوسکے گا ؟۔ ایسا ممکن نظر نہیں آتا ۔
متعدد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں تو اپوزیشن کا کردار بھی تومایوس کن ہے۔ان رہنمائوں کے پاس بھی عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی ایجنڈا نہیں ۔بہرحال اب حکومت کافی سرگرم نظر آتی ہے ، ایسی صورت میں اپوزیشن جماعتوں کو بھی سرگرم ہوناپڑے گا ۔ کیونکہ سیاسی ماحول میں شدت پیدا کرکے ہی اپوزیشن جماعتیں اپنی سیاست کو آگے بڑھاسکتی ہیں ۔ بدقسمتی سے حکومت او راپوزیشن کی سیاسی لڑائی میں عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ حکومت او راپوزیشن ،دونوں کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں ۔