علم کی روشنی ۔۔۔۔۔ تحریر ، آغا سید حامد علی شاہ موسوی

امام جعفر صادق ؒنے 17ربیع الاول 80 ہجری میں مدینہ النبی ؐ میں صفحۂ ارضی پر قدم رکھا۔ آپ ؒکے والد امام محمد باقرؓ ،دادا امام زین العابدینؓ ابن امام حسین ؓتھے ۔ امام جعفر صادق ؒکی کنیت ابو عبداللہ‘ابو اسماعیل ‘ابو موسیٰ اور القاب صادق‘فاضل ‘طاہر ‘منجی زیادہ مشہور ہیں۔آپؒ کی والدہ بزگوار فاطمہ (کنیت ام فروہ) بنت قاسم بنت محمد بن حضرت ابو بکرؓ تھیں آپ ؒاپنے زمانے کی خواتین میں بلند مقام رکھتی تھیں ۔آپؒ کے نانا حضرت قاسم بن محمد ابن ابوبکر ؓ مدینہ کے 7 عظیم فقہا ء میں شامل تھے۔
امام جعفر صادقؒ نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کیلئے بے پناہ کوششیں انجام دیں مدینہ میں مسجد نبوی اور کوفہ میں مسجد کوفہ کو جامعات میں تبدیل کردیا جہاں ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اور ایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی اس تحریک کو خوب پھلنے پھولنے کے مواقع ملے۔ ان جامعات کے مختلف مدارس میں لا تعداد افراد علوم فنون اسلامی کے گونا گوں شعبہ جات میں مصروف درس و تدریس تھے۔صرف کوفہ کی مساجد میں امام جعفر صادق ؒکے حوزہ علمیہ سے منسلک ہزارہا طلاب فقہ اور معرف علوم اسلامی میں مصروف تھے جو امام کے بیانات ‘فرمودات یاد کرتے اور انکے بارے میں تحقیق اور بحث و تمحیص فرماتے۔
تشنگانِ علم و حکمت دور درازسے آتے اورامام سے فیضیاب ہوا کرتے ۔ مؤرخین آپ ؒسے روایت کرتے اور دانشور کتابی صورت میں آپؒ کے فرمودات جمع کرتے تھے حتیٰ کہ حفاظ اور محدثین جب کچھ بیان کرتے تو حوالہ دیتے کہ امام جعفر صادقؒ نے یہ ارشاد فرمایا ہے ۔ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ آپؒ نے کسی مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ کسی اُستاد کے سامنے زانوئے اَدب تہہ کیا۔ آپؒ کا علم نسل در نسل آپؒ کے سینے میں منتقل ہوا جس سے ثابت ہو اکہ امام صادق ؒنے جس علم کی روشنی بکھیری وہ دراصل عِلمِ مصطفویؐ و مرتضویؓ ہی ہے چار ہزار سے زائد شاگردوں نے بیک وقت اور ایک ہی دور میں آپؒ کی بارگاہ سے کسب علوم اور نقل روایت کا شرف حاصل کیا۔جن علوم کی تعلیم آپ ؒکی درسگاہ سے دی جاتی ان میں فقہ کے علاوہ ریاضی فلکیات فزکس کیمسٹری سمیت تمام جدید علوم شامل تھے۔آپؒ کی درسگاہ کے فیض سے جہاں قدیم علوم کا احیاء ہوا وہاں جدید علوم کی بھی بنیاد رکھی گئی۔احادیث و معرف دین و شریعت میںامام جعفر صادقؒ کے وضع کردہ چار سو اصول ہی کتب اربع کا منبع و مدرک ہیں۔آپؒ کے گراں قدر بیانات‘فرمودات‘ارشادات نے جہالت اور گمراہی و ضلالت کے پردوں کو چاک کر دیا ۔ آپ ؒنے پیغمبر اسلام ﷺکے الہامی و آفاقی دستور حیات کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش فرمایا کہ لوگ پھر سے دین و شریعت سے روشنا س ہونا شروع ہوگئے۔ آپ ؒکے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تفلب ، ہشام بن سالم ، مفصل بن عمر اور جابربن حیان کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیدا کیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے 31 کتابیں اور جابربن حیان نے 200 سے زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کیں۔ جابربن حیان کو علم کیمیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں۔الجبرا کے بانی ابو موسیٰ الخوارزمی نے بھی بالواسطہ امام جعفر صادقؒ کی تعلیمات سے فیض حاصل کیا ۔ اہل سنت کے چاروں مکاتب فکر کے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ آپؒ ہی کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہؒ نے تقریباً2سال تک براہ راست آپؒ سے کسب فیض کیا۔آپؒ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہؒ نے کہا ’’میں نے حضرت جعفر ابن محمدؒ سے زیادہ عالم کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔‘‘ایک اور مقام پر امام ابوحنیفہؒ نے امام جعفر صادقؒ کی خدمت میں گزارے 2برسوں کے بارے میں کہا ’’ اگر یہ 2سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا۔‘‘حضرت مالک بن انسؒ بیان کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق ؒ کے سامنے جب رسول اکرم ؐ کا نام مبارک لیاجاتا تو آپؒ کے چہرے کا رنگ زرد ہوجاتا ۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپؒ نے نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کی ہو اور وضو سے نہ ہوں۔ میں جب ان کے پاس جایا کر وہ ان 3 حالتوں میں سے ایک میں ہوتے ۔یا وہ نماز پڑھتے رہتے ، یا قرآن کی تلاوت کررہے ہوتے یا پھر روزے سے ہوتے ۔
المختصر یہ کہ اگر مسلمان دنیا میں مقام حا صل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں امام جعفر صادقؒ کی علمی تحریک سے ٹو ٹا ہوا ناطہ جوڑ کر سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کیلئے اقدامات کر نا ہوں گے خدا وند عالم اپنے وعدے کے مطابق عالم اسلام کے درجات دنیا میں بلند کردے گا۔