اتباع کامل ...مولانا امیر محمد اکرم اعوان

دیکھنا یہ چاہیے کہ اللہ کاحکم کیا ہے اور میں کیا کررہا ہوں۔ جواب اپنا دینا ہے، لوگ اپنا جواب خوددیں گےاللہ کریم قرآن مجید میں ایسے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں جو مومنین ہیں،جوکلمہ پڑھتے ہیں،جواللہ پر ایمان رکھتے ہیں،اللہ کے دین پر یقین رکھتے ہیں،اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر یقین رکھتے ہیں،آخرت پر یقین رکھتے ہیں، ضروریاتِ دین پر یقین رکھتے ہیں ۔ایمان لانے والے لوگوں سے اللہ فرماتا ہے کہ سارے کے سارے اسلام میں داخل ہو جائو۔ایساکیوں کرتے ہو کہ کچھ تو اسلام کے اندر چلے گئے،کوئی حصہ پھر باہر رہ گیا۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کلّی طورپر اپنی ساری سوچیں،اپنے سارے اختیار،اپنی ساری پسندو پسنداللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ میرا جوکچھ تھا وہ ختم!اب وہ ہو گا جو آپﷺ ارشاد فرمائیں گے۔
اللہ کریم نے کسی کو کوئی ایسی تکلیف نہیں دی جو اس کے بس میں نہ ہو۔ جو شخص کوئی کام نہیں کرسکتا، اس کے کرنے کا وہ مکلف ہی نہیں ہے لیکن جو کر سکتا ہے وہ اسے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق کرنا ہوگا۔اب یہ نہیں ہے کہ آدمی یہ سمجھے کہ میں نماز پڑھتا ہوں،زکوٰۃ دیتا ہوں،حج کر لیا ہے، روزے رکھتا ہوں تو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں میں اپنی مرضی سے کرلوں تو کیا حرج ہے ! چھوٹی بات بھی بڑی ہوجاتی ہے اگر یہ دیکھا جائے کہ یہ چھوٹی بات کس کا حکم تھا تو وہ چھوٹی نہیں رہتی۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی چھوٹے کام کے لیے بھی کوئی طریقہ بتا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بتا نا بہت بڑی بات ہے۔وہ کام چھوٹا ہے تو چھوٹا رہے لیکن ارشاد ِ نبوی ﷺتو بہت بڑی بات ہے۔اللہ کریم نے حکم دے دیا تو حکم کی نسبت تو اللہ سے ہے۔اگرکام بظاہرچھوٹا ہے تو ہوا کرے، حکم تو اللہ کا ہے،اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے۔ مسلمانی یہ ہے کہ سارے کے سارے اسلام کے اندر داخل ہوجائو اور اسلام کے باہر جو قدم بھی ہوگا وہ شیطان کے نقش قدم پر ہوگا۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں، ترجمہ پڑھتے ہیں،بات سمجھتے ہیں تو ساری بات کا تجزیہ اپنے آپ کو الگ رکھ کے کرتے ہیں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟قرآن تو یہ کہتا ہے اور لوگ کیا کر رہے ہیں؟لوگوں کا معاملہ اللہ کے پاس ہے۔ ہم لوگوں کے لیے بھی دعا کرسکتے ہیں،اچھی خواہش رکھ سکتے ہیں لیکن جوابدہ ہم اپنی ذات کے ہیں۔جب اللہ کا حکم آتا ہے،اللہ کی کتاب میں ارشاد ہوتا ہے تو دیکھنا یہ چاہیے کہ اللہ کاحکم کیا ہے اور میں کیا کررہاہوں۔ہمیں جواب اپنا دینا ہے، لوگوں کی جوابدہی نہیں کرنی، لوگ اپنا جواب خوددیں گے۔ہم نے کسی کا حساب کتاب لینا بھی نہیں ہے اور نہ ہماری یہ حیثیت ہے۔ جواب طلبی کرنا اس کا اپنا کام ہے، وہ جانے اس کی مخلوق جانے۔
ایک آدمی کو بظاہر ہم اچھا نہیں سمجھتے لیکن شاید اللہ کے نزدیک وہ کتنا اچھاہو۔عرب میں آج بھی ہماری طرح کی رسومات ہیں نہ ہماری طرح کی رشتہ داریاں ہیں۔ وہ بڑے سیدھے سادے اور بے تکلف سے مسلمان ہیں ۔ رشتہ لینا دینا کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ کسی سے سفارش کرائو۔جس نے لینا ہے بے تکلف بات کرتا ہے۔ انہیں پسند ہے دے دیں گے ، نہیں پسند نہیں دیں گے۔ کثرت ازواج کا معمول بھی تھا لیکن اسلام کے بعد صرف4 بیویوں تک کی اجازت رہی ۔ بڑی عجیب بات سمجھی جاتی تھی کہ سب سے کمزور یا سب سے گیا گزرا بندہ وہ ہے جو کسی سے رشتہ پوچھے اور اسے کوئی رشتہ بھی نہ دے۔ وہ سمجھتے تھے کہ معاشرے کا سب سے گیا گزرا انسان یہ ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ جو کچھ نظر آتا ہے وہی اندر بھی ہو یا جو بندہ جیسا نظر آتا ہے یا جیسا ہم سمجھتے ہیں،ویسا ہو۔ ہوسکتا ہے ہم ایک آدمی کو اچھا نہیں سمجھتے لیکن اللہ کے نزدیک وہ بہت اچھا ہو اور ہوسکتا ہے ہم ایک آدمی کو بہت پارسا سمجھتے ہوں لیکن اللہ کے نزدیک وہ پارسا نہ ہو یامقبول نہ ہو۔ یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم دوسروں کا مقام متعین کریں کہ یہ کیسا ہے، یہ کیسا تھا یا کیاہے۔ ہماری حیثیت یہ ہے کہ ہمیں اپنے بارے میں جاننا ہے کہ اللہ کا حکم کیا ہے، ہم کیا سوچ رہے ہیں اور ہم کیا کررہے ہیں۔وہ فرما تا ہے ’’شیطان کے نقش قدم پر کبھی نہ چلو‘‘ ہر وہ قدم جو اسلام کے باہر ہوگا وہ شیطان کے نقش قدم پر ہو گا۔ کوئی ایسا کام نہ کرو جو شیطان کروانا چاہتا ہے۔یہ بات یاد رکھو کہ شیطان تمہارا بڑا کھلا اور واضح دشمن ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ کبھی بھی تمہارے ساتھ بھلائی کرے گا،کبھی نہیں کریگا۔ جب بھی کرے گا تمہارے ساتھ دشمنی کرے گا،تمہارا نقصان ہی کرے گا۔
جب ہمارے پاس اللہ کے کریم حبیب ﷺ ان کے معجزات ، انکے فرامین آچکے ، اور اللہ کاقرآن آ چکا قرآن بھی تونبی کریم ﷺ کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ اللہ سے قرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حاصل کیااور مخلوق تک پہنچایا۔ آپ ﷺ کی ساری حیات طیبہ معجزہ ہے ۔ آپ ﷺ کا ایک ایک قول معجزہ ہے۔ جب ہمارے پاس دلائل آچکے ہیں تو اس کے بعد بھی ہم لغزش کھاتے رہیں اور گھاس کے تنکوں کی طرح کبھی اِدھر کبھی اُدھر جھولتے رہیں۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔