“شان صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ” ...رابعہ فاطمہ

لکھنے بیٹھے جو شان صدیق اکبر
قلم نے لفظ عاشق رسول لکھا

افضل البشر بعد الانبیا کی ذات اقدس کو اللہ کریم نے بے شمار خصوصیات اور امتیازات سے مزین فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ”اَلسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْن” میں سے ہیں۔ غار ثور ہو یا سفر ہجرت آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رفیق و امین رہی۔
۔▪شان صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ فی ضوء القرآن والسنة :
۔☆ ثَانِیَ اثْنَیْنِ

۔•ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہ، عَلَیْہِ۔ (التوبۃ:٤٠)

آپ دو میں سے دوسرے تھے ، جب وہ دونوں (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ)غار میں تھے ، جب (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے یار سے فرماتے تھے ، غم نہ کر ، بیشک اﷲ ہمارے ساتھ ہے تو اﷲ نے اس پر اپنی تسکین نازل فرمائی”۔ (کنزالایمان)

اس آیت مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر آپ کے اعلی و ارفع ہونے کی واضح دلیل ہے۔
۔☆أوّل من أسلم من الرجال
(بالغ مردوں ميں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے )
۔•حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے اور ہم سے بہتر اور ہمارے سردار تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ فرمایا : مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔”
(ابن حبان، الصحيح، 15 : 279. 278، رقم : 6862)
۔☆من سرّه أن ينظرعتيقا من النار فلينظرإلي أبي بکر رضي الله عنه
(جسے آگ سے محفوظ شخص دیکھنا ہو وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے)
۔•عن عائشة : أنّ أبا بکر دخل علٰي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فقال : ”انت عتيق اﷲ من النّار،” فيومئذ سمّي عتيقا.
”اُمُّ المؤمنین عائشہ صدِّیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم اﷲ رب العزت کی طرف سے آگ سے آزاد ہو۔” پس اُس دن سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ”عتیق” رکھ دیا گیا۔
( ترمذي، الجامع الصحيح 5 : 616، ابواب المناقب، رقم : 3679)
۔☆قال أبو بکر رضي الله عنه : أصدقه صلي الله عليه وآله وسلم فيما أبعد من ذٰلک
(میں تو معراج سے بھی عجیب تر خبروں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرتا ہوں)
۔•عن أبي هريرة قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لجبريل ليلة أسري به إنّ قومي لا يصدّقونني فقال له جبريل يصدّقک أبوبکر وهو الصّدّيق.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین سے ارشاد فرمایا : اے جبرئیل! میری قوم (واقعہ معراج میں) میری تصدیق نہیں کرے گی۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی تصدیق کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔”
(احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 140، رقم : 116)
۔☆اقوال صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ
۔•قال سالم بن عبداﷲ أنّ ابن عمر قال : کنّا نقول و رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حيّ، ”أفضل أمّة النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم بعده أبوبکر، ثمّ عمر، ثمّ عثمان رضي اﷲ عنهم أجمعين.
”حضرت سالم بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (ظاہری) حیات طیبہ میں کہا کرتے تھے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پھر (ان کے بعد) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔”
(ابو داؤد، السنن، 4 : 211، کتاب السنة، رقم : 4628)
۔•عن محمّد ابن الحنفيّة قال : قلت لأ بي : أيّ النّاس خير بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ قال : أبوبکر، قلت : ثمّ من؟ قال : ثمّ عمر و خشيت أن يّقول عثمان، قلت : ثمّ أنت؟ قال : ما أنا إلّا رجل مّن المسلمين.
”حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے والد (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے دریافت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر کون ہے؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر میں نے کہا : ان کے بعد؟ انہوں نے فرمایا : عمر رضی اللہ عنہ۔ تو میں نے اس خوف سے کہ اب وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے خود ہی کہہ دیا کہ پھر آپ ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”نہیں میں تو مسلمانوں میں سے ایک عام مسلمان ہوں۔”
(بخاري، الصحيح، 3 : 1342، کتاب المناقب، رقم : 3468
۔•امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ( متوفی ۲۴۱ھ) اپنی کتاب”فضائل الصحابۃؓ”میں اس بات کو یوں بیان کرتے ہیں :
”خطبنا علی رضی اللہ تعالی عنہ علٰی ھذا المنبر، فحمد اللّٰہَ وذکرہٗ ماشاء اللّٰہ أن یذکرہٗ ۔۔۔فقال: ”إن خیرالناس بعد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم أبوبکر۔” (فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنھم، ج:۱، ص:۳۵۵، رقم الحدیث: ۴۸۴)
۔•حضرت علی المرتضی کرم اﷲ وجہہٗ ایک دن خطبہ کے لیے منبر پر تشریف لائے اور اﷲ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ: بے شک لوگوں میں سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی ذاتِ گرامی ہے۔”
۔☆لو کان للنبي صلي الله عليه وآله وسلم خليلا لکان ابو بکر رضي الله عنه
(اگر کوئی خلیل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے)
۔•امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنا خلیل بنانے کی آرزو کی ہے، جیسا کہ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۲۷۳ھ) اپنی کتاب”سنن ابن ماجہ” میں روایت کرتے ہیں:
عن ابن عبّاس رضي ﷲ عنهما عن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم قال : ”لوکنت متّخذا من أمّتي خليلا، لا تّخذت أبابکر، ولٰکن أخي وصاحبي”.
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”اگرمیں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔”
(بخاري، الصحيح، 3 : 1338، کتاب المناقب، رقم : 3456
۔•”حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا: تم میرے حوض پر بھی صاحب ہو اور غار میں بھی صاحب ہو’ ‘( ترمذی: 3670)۔
اللہ تعالیٰ ہم کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سچی اور حقیقی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین