حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کا واقعہ

حضرت عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میں حضرت عبیدہ بن جراح ؓ ملک شام کے گورنر تھے ۔یہ علاقہ بڑا زر خیز اور خوشحال تھا ۔حضرت عمرؓ ملک شام کے دورے پرایک مرتبہ تشریف لے گئے تاکہ وہاں کے مسلمانوں کے دینی وخارجی احوال سے واقف ہوسکیں ۔ خلیفۃ المسلمین نے حضرت عبیدہ بن جراح ؓ سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں آپ کا بھی گھر دیکھوں ۔
ملک شام کے گورنر مسلمانوں کے خلیفہ کو لے کر چلے ، شہر کے اندر سے گزرکر آبادی کے ایک کنارے کھجور کے پتوں سے بناہوا ایک جھونپڑا دکھایا اور فرمایا امیر المؤمنین ! میں اس میں رہتاہوں ، عمر فاروق ؓ اندر داخل ہوے تو اندر ایک مصلیٰ کے علاوہ کچھ بھی نہ پایا ، پوچھا کہ ابو عبیدہ ! یہاں تو کوئی ساز و سامان نہیں ہے ، یہاں کیسے رہتے ہو ؟ جواب دیا کہ یہ مصلیٰ ہے ، اس پر نماز پڑھ لیتاہوں اور رات کو اسی پر سوجاتا ہوں اور پھر چھپر سے ایک پیالہ نکالتے ہوے کہا کہ اس میں میں کھانا کھاتا ہوں۔ عمر فاروقؓ نے دیکھا کہ اس میں پانی بھراہوا تھا اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے بھیگے ہوے تھے ۔سیدنا ابو عبیدہ ؓ نے مزید وضاحت کرتے ہوے کہا : امیر المؤمنین ! میں دن رات تو حکومت کے سرکاری کاموں میں مصروف رہتاہوں ، کھانے وغیرہ کے انتظام کرنے کی فرصت نہیں ہوتی ۔ ایک خاتون میرے لئے 3,2روٹی ایک وقت پکا دیتی ہے ، میں اس روٹی کو رکھ لیتاہوں اور جب وہ سوکھ جاتی ہے تو میں اس کو پانی میں ڈبودیتا ہوں اور رات کو سوتے وقت کھا لیتاہوں ۔ یہ روداد سن کر اور تواضع و سادگی دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ رونے لگے اور فرمایا : اللہ کی قسم ! تم ویسے ہی ہو جیسے رسول اللہ
ﷺکے زمانے میں تھے ، اس دنیا نے تم پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ ‘‘(سیر اعلام النبلاء )۔ ملک شام میں دولت کی ریل پیل تھی۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ وہاں کے گورنر تھے ۔ پورے ملک پر ان کی حکومت تھی ۔وہ جب اور جتنا چاہیں مال و دولت جمع کرسکتے تھے لیکن دولت کے ڈھیر میں بھی رہ کر انہوں نے کبھی دنیوی آسائشوں کو ترجیح نہیں دی ۔