پر سکون نیند

نیند انسانی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ دن کے وقت جب ہم جاگ رہے ہوتے ہیں توہمارے جسمانی اعضاء قدرے تیزی سے کام کرتے ہیں مگر نیند کے دوران سب کا عمل سست ہو جاتا ہے۔ سانس کی رفتار مستحکم ہو جاتی ہے، خون کا دبائو کم ہو نے سے نبض دھیمی پڑ جاتی ہے۔ سب سے اہم عمل جو نیندکے دوران ہوتا ہے وہ ہے نئے خلیوں (سیل) کی پیداوار میں اضافہ۔ روزانہ گہری نیند ہمارے لیے اسی قدر اہم ہے جس قدر صبح اٹھ کر غذاء کھانا۔
نیند کی کمی کی وجہ سے انسان کئی عارضوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بنتے چلے جاتے ہیں، جلد کی رنگت سیاہ مائل ہونے لگتی ہے، پوری نیند نہ لینے والے انسان میں جینے کی امنگ متاثر ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت تھکا تھکا اور پریشان سا رہتا ہے۔ وہ چاہے جتنا اچھا لباس پہن لے اور کتنا ہی مہذب کیوں نہ ہو، اپنے آپ کو کبھی ڈھنگ سے پیش نہیں کر پائے گا۔ امریکہ میں ایک حالیہ سروے کے دوران یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ’’نیند کی کمی کسی بیماری کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اور یہ ایک ان دیکھا قاتل ہے، جو انسان کو اندر ہی اندر قتل کردیتا ہے ‘‘۔
ا مریکی ڈاکٹر ڈیلے فرینڈ نے نیند میں کمی کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی قسم ’’کھچائو‘‘ ہے، دوسری ’’تھکاوٹ‘‘، تیسری ’’دکھی‘‘ ہونا اور چوتھی قسم کواز راہ مذاق ’’پل میں تولہ، پل میں ماشہ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔یہ دراصل بے حد موڈی ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کھچائو والی قسم میں مبتلا ہیں۔ آج زندگی بہت تیز ہو گئی ہے ، دفتر کے علاوہ گھر میں بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ ایسے لوگ سارا دن کھچائو کا شکار رہتے ہیں اور رات کو جب بستر پر جاتے ہیں نیند ان سے دور ہوتی ہے، لہٰذا یہ کروٹیں بدلتے رہتے ہیں، یہ لوگ سو تو جاتے ہیں مگر نیندکا دورانیہ کم ہوتا ہے، پھر نیند بھرپور نہیں ہوتی۔چنانچہ جب صبح اٹھتے ہیں تو اپنے اندر تازگی محسوس نہیں کرتے۔

دوسری قسم جلد تھک جانے والوں کی ہے۔ جیسے جیسے دن گزرتا جاتا ہے ان کی تھکاوٹ میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ شام کو بمشکل اپنی آنکھیں مکمل طو رپر کھول پاتے ہیں ۔ یہ جلدی سو جاتے ہیں مگر جلدی سونے کی وجہ سے رات کے تیسرے پہرجاگ جاتے ہیں اور پھر صبح تک جاگتے رہتے ہیں۔ ان میں اکثریت عمردراز لوگوں کی ہے۔ تیسری قسم دکھی لوگوں کی ہے۔ کسی تکلیف یا بیماری کی وجہ سے اڑ جاتی ہے۔ نیند نہ آنے کی وجہ بدہضمی ، سانس کی تکلیف، کھانسی، سردی، بخار یا پھر بسترکا آرام دہ نہ ہونا بھی ہو سکتی ہے۔

اب آتے ہیں چوتھی قسم یعنی ’’پل میں تولہ اورپل میں ماشہ‘‘ والوں کی طرف۔ یہ بے خوابی کی سب سے خراب قسم ہے۔ ان کے سونے کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔ ابھی سو رہے ہیں تو پندرہ منٹ بعد یہ جاگتے ملیں گے۔ یہ لوگ تنائو میں مبتلا رہتے ہیں اور بھرپور نیند کا لطف نہیں اٹھا پاتے۔بقول ڈاکٹر ڈیلے فرینڈ کے پہلے گروپ کا علاج یہ ہے کہ وہ تفکرات سے جان چھڑائیں اور تیزی دکھانے کی بجائے نارمل انداز میں کام کریں۔ دوسرا گروپ اپنے طرززندگی پر نظرثانی کرے اور آرام کرنے کے ساتھ ساتھ ورزش بھی کرے۔ تیسرا گروپ اگر عارضے میں مبتلا ہے تو اس کا علاج کروائے اور آرام دہ بستر پر سوئے جبکہ چوتھے گروپ کو طبی مشورے کی اشد ضرورت ہے۔

ہر شخص کو چاہئے کہ وہ جب سونے کیلئے بسترپر دراز ہو تو اپنا ایک ہی ہدف مقرر کرے اور ساری توجہ اسی پر مرکوز کر دے اور وہ ہدف یہ ہوکہ تھکے ہوئے جسم کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانا ہے۔ آپ خود کو جس قدر پرسکون بنا کر سوئیں گے اتنی ہی گہری نیند آئے گی۔دوستوں یا گھر والوں سے لڑجھگڑ کر ، یا رات گئے پارٹیوں میں شرکت کر کے یا پھر تیز موسیقی سن کر کبھی نہیں سونا چاہئے۔ اس سے نیند غائب ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر عابدہ