نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ

  1. #1
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    337
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ

    [align=center]چراغ جلتا رہا، چراغ جلتا رہا
    جو قافلہ تھا رواں وہ قافلہ ہے رواں
    سفر بہ نوکِ سناں، سناں کے ساتھ آذاں
    بریدہ سر کی صدائیں فضا میں پھیل گئیں
    دریچوں، آنگنوں، گلیوں میں تپتے صحرا سے
    زمین و عرش، خلاؤں سے اور فضاؤں سے
    دنوں میں رات میں جنگل میں کہساروں سے
    صدائیں آنے لگیں اشھدان لاالہ الااللہ
    یہ ایک بار ہوا اور لا زوال ہوا
    سناں کی نوک پہ سبحان ربی الاعلٰی
    پکارا کلمہءِ توحید بھی جزاک اللہ
    جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ
    خطیبِ نوکِ سناں لاالہ الااللہ

    حسین(علیہ اسلام) دین بھی ہے اور دینیات بھی ہے
    حسین(علیہ اسلام) کلمہءِ توحید کی حیات بھی ہے
    حسین(علیہ اسلام) رمزِ خدا بھی خدا صفات بھی ہے
    حسین(علیہ اسلام) بارہ اماموں کی کائینات بھی ہے
    حسین(علیہ اسلام) سے ہے عیاں لاالہ الااللہ
    جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ
    خطیبِ نوکِ سناں لاالہ الااللہ

    وہ گود فاطمہ زاہرا(سلام اللہ علیھا) کی ہو کہ ریگِ تپاں
    وہ صحن کعبہ ہو، پشتِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا کہ سناں
    فضائے جنگ ہو یا ہو پیامِ امن و اماں
    نہ دیکھے تیر نہ تلوار گر ہو حکمِ آذاں
    حسین(علیہ اسلام) کا ہے بیاں لاالہ الااللہ
    جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ
    خطیبِ نوکِ سناں لاالہ الااللہ

    حسین(علیہ اسلام) والوں کی پہچان ہے عزاداری
    حسین(علیہ اسلام) والوں کی تو جان ہے عزاداری
    حسین(علیہ اسلام) والوں کا ایمان ہے عزاداری
    حسین(علیہ اسلام) والوں کا اعلان ہے عزاداری
    حسینیت کی زباں لاالہ الااللہ
    جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ
    خطیبِ نوکِ سناں لاالہ الااللہ

    بسی ہے کرب و بلا تو کوئی جواز بھی ہے
    لُٹا ہے گُلشنِ زاہرا(سلام اللہ علیھا) تو کوئی راز بھی ہے
    یہ راز وہ ہے کہ خالق کو اس پہ ناز بھی ہے
    برائے ناز بہتر(72) کی وہ نماز بھی ہے
    اسی کا سرِ نہاں لاالہ الااللہ
    جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ
    خطیبِ نوکِ سناں لاالہ الااللہ

    نماز نفس کی عزت ہے اولیاء کی قسم
    نماز دین کی حُرمت ہے اوصیاء کی قسم
    نماز حُسنِ شرافت ہے انبیاء کی قسم
    نماز قصہءِ وحدت ہے کِبریا کی قسم

    نماز خیرِ عمل کی طرف بلاتی ہے
    نماز عشقِ خدا کا ہنر سکھاتی ہے
    نماز عبد کو معبود سے ملاتی ہے
    نماز گفتگو اللہ سے کراتی ہے
    یہی نماز گناہوں سے بھی بچاتی ہے
    نماز قبر تلک ساتھ ساتھ جاتی ہے

    نماز وہ ہے جو فاقوں میں مصطفٰی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھی
    جگا کے اپنے ہی قاتل کو مرتضٰی(علیہ اسلام) نے پڑھی
    جو چکیوں کی مشقت میں فاطمہ(سلام اللہ علیھا) نے پڑھی
    گلے لگا کے زہر کو جو مجتبٰی(علیہ اسلام) نے پڑھی
    جو چاہتا ہے کہ عظمت نماز کی دیکھے
    میرے حسین(علیہ اسلام) کا وہ سجدہ آخری دیکھے
    پڑھی نماز جو عابد(علیہ اسلام) نے پُشتِ ناقہ پر
    ادا کیا جسے باقر(علیہ اسلام) نے سختیاں سہہ کر
    بیاں کیا جسے جعفر(علیہ اسلام) نے برسرِ منبر
    رکوع میں برسوں رہے جس کے کاظمِ(علیہ اسلام) مضطر
    رضا(علیہ اسلام) نے لب پہ سریع الرضا سجا کے پڑھی
    تقی(علیہ اسلام) نے تقویٰءِ بوطالبی بتا کے پڑھی
    نقی(علیہ اسلام) نے نخوتِ باطل مٹا مٹا کے پڑھی
    اور عسکری(علیہ اسلام) نے خبر آخری سنا کے پڑھی
    پسِ نماز مصلے پہ رو رہا ہے کوئی
    امامِ عصر ہے اور حُجتِ خدا ہے وہی
    جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ
    خطیبِ نوکِ سناں لاالہ الااللہ

    وہ خیمہ گاہ وہ سیدانیاں وہ ذکرِ خدا
    جہاں مصلے پہ زینب(سلام اللہ علیھا) رباب(سلام اللہ علیھا) اور فضہ(سلام اللہ علیھا)
    حسن(علیہ اسلام) کی بیوہ، رقیہ(سلام اللہ علیھا)، سکینہ(سلام اللہ علیھا) کا سجدہ
    تمام بیبیاں کرتیں تھی صرف ایک دعا
    میرے خدا ہمیں منظور قحطِ آب رہے
    حسین(علیہ اسلام) اپنے ارادوں میں کامیاب رہے
    صدائیں تشنہ لباں لاالہ الااللہ
    جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ
    خطیبِ نوکِ سناں لاالہ الااللہ

    مگر نماز سے پوچھو کہ کربلا کیا ہے
    حسین(علیہ اسلام) اور تیرا رشتہءِ وفا کیا ہے
    کہا نماز نے سُن لو میری بقا کیا ہے
    بس ایک سجدہءِ شبیر(علیہ اسلام) کے سوا کیا ہے
    حسین(علیہ اسلام) کا ہی گھرانہ بچا گیا مجھ کو
    وہ خود اُجڑ گیا لیکن سجا گیا مجھ کو

    میدانِ کرب و بلا آہ میں نے کیا دیکھا
    گھِرا لعینوں میں کنبہ رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دیکھا
    بتول(سلام اللہ علیھا) زادوں کو بے آب، بے غذا دیکھا
    بہاتا پانی اُدھر لشکرِ جفا دیکھا
    نماز پڑھتے رہے دل میں اضطراب نہ تھا
    گزر گئے تھے کئی دن کہ گھر میں آب نہ تھا

    بتاؤں کیسے کہ دسویں کو میں نے کیا دیکھا
    سحر ہوئی تو شہادت کا سلسلہ دیکھا
    کسی کا سینہ تو زخمی کوئی گلا دیکھا
    لبِ فرات عَلم خون میں بھرا دیکھا
    حسین(علیہ اسلام) لاشوں پہ لاشے یونہی اٹھاتے رہے
    اور اپنی راہِ شہادت کی سمت جاتے رہے

    کمر رکوع کی طرح تھی مگر حسین(علیہ اسلام) اٹھے
    کہ اہلِ ظلم پہ لازم تھا اب، کہ تیغ چلے
    غضب کی تیغ چلی کوئی روکتا کیسے
    امامِ وقت تھے اللہ کی رضا پہ رُکے
    آذانِ عصر سنی، دیکھا عالمِ بالا
    کہا حسین(علیہ اسلام) نے سبحان ربی الاعلٰی

    آئی صدائے غیب “عبادت کا وقت ہے“
    اے فاطمہ(سلام اللہ علیھا) کے لال “تلاوت کا وقت ہے“
    جنت میں صف بندھی ہے امامت کا وقت ہے
    بس، بس حسین(علیہ اسلام) بس یہ عبادت کا وقت ہے
    رکھ لی میان میں شاہِ والا نے ذوالفقار
    وہ غول باندھے آئے کماں دار دس ہزار

    وہ بے شمار تیغوں کے پھَل اور اک حسین(علیہ اسلام)
    وہ سینکڑوں پیامِ اَجل اور اک حسین(علیہ اسلام)
    ڈوبے ہوئے تھے خون میں گھیسو حسین(علیہ اسلام) کے
    تیروں نے چھان ڈالے تھے پہلو حسین(علیہ اسلام) کے

    نیزے کا ابنِ وہب نے پہلو پہ کیا وار
    کاندھے پہ چلی سعد ضرارہ کی بھی تلوار
    ناوک ابنِ کاہل کا کلیجے کے ہوا پار
    بازو میں در آیا تبرِ خوں لیے خونخوار
    تیغیں اُپی ہوئیں جو پراور سے چل گئیں
    غش کھا گیا قدم سے رقابیں نکل گئیں

    کیونکر کہوں کہ عرشِ خدا خاک پر گِرا
    خیر النساء(سلام اللہ علیھا) کا ماہِ لقا خاک پر گِرا
    ریتی پہ مصطفٰی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جگر کا لہو گِرا
    سید گِرا، امام گِرا، نیک خو گِرا

    وہ ظلم ہو رہا تھا کہ دنیا اُلٹتی تھی
    جب زیرِ تیغ گردنِ شبیر(علیہ اسلام) کٹتی تھی
    وہ کُند تیغ زینب(سلام اللہ علیھا) و زاہرا(سلام اللہ علیھا) پہ چلتی تھی
    ماتم کناں نماز تھی اور خون روتی تھی
    جاری تھی یہ صدا کہ نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نواسہ ہوں
    اماں پلاؤ پانی میں پیاسا ہوں، میں پیاسا ہوں

    عجب ادا سے نمازی نماز پڑھ کے گیا
    بہن کے سامنے نوکِ سناں پہ چڑھ کے گیا
    نظر میں بھائی کے سجدے کی آب و تاب جو تھی
    بہن نے سر کھُلے مقتل میں مغربین پڑھی
    نظر کے سامنے ہر مہہ لقا کی لاش رہی
    مگر جلے ہوئے خیموں کی جاء نماز بچھی
    غمِ حسین(علیہ اسلام) کی برچھی اٹھا گئی زینب(سلام اللہ علیھا)
    مگر نماز کی دنیا بسا گئی زینب(سلام اللہ علیھا)[/align]

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,134
    شکریہ
    2,100
    1,211 پیغامات میں 1,583 اظہار تشکر

    RE: جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ

    جزاک اللہ جناب ،

    [/size][align=center]واقعی اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد[/align] [size=large]

  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,860
    شکریہ
    949
    877 پیغامات میں 1,102 اظہار تشکر

    RE: جہاں حسین(علیہ اسلام) وہاں لاالہ الااللہ

    زبردست....دل کو لگا ...بہت خوب...جزاک اللہ

متشابہہ موضوعات

  1. امریکا میں سینڈی کا سیلاب
    By بےباک in forum آج کی خبر
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 10-31-2012, 03:27 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University